

ججز خط کیس میں ایک نیا موڑ آ گیا ہے اور سپریم کورٹ اب اس کیس کا ازد خود نوٹس لیکر سماعت کر رہی ہے۔گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ نے، جب وفاقی کابینہ کو یہ کہتے ہوئے معاملے کو سنبھالنے کی ہدایت کی کہ اسلام آباد ہائی

پاکستان میں توانائی کا شعبہ ایک بحران کا شکار ہے اور یہ پہلے ہی کم صعنتی پیداواری صلاحیت کو مزید نیچے کی طرف لے کر جا رہا ہے- یہ ایک بہت بڑی سنگین حقیقت ہے جس سے آنکھیں چرانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔لاگت میں تیزی
سپریم کورٹ کے 13 دسمبر 2023 کے حکم کے بعد – جس میں اس نے شہریوں کے خلاف فوجی ٹرائل کو ‘غیر قانونی قرار دینے والے ایک سابقہ فیصلے کی کارروائی کو معطل کر دیا تھا اور 9 مئی کو مشتبہ افراد کے خلاف سماعت مکمل

اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 25 کے تحت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کی غیرمشروط قرار داد میں رمضان کے دوران اسرائیل اور حماس کے درمیان فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں 14 ارکان نے

کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ اعلیٰ جج صاحبان بھی اسی طرح آسانی سے ‘قابل انتظام ثابت ہوں گے جیسے ہمارے تجربہ کار سیاستدان عام طور پر ہوتے ہیں۔ انہیں اس پیر کو ایک دھچکا لگا جب اسلام آباد ہائی کورٹ کے تقریباً تمام ججز نے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خواہ کے علاقے شانگلہ میں واقع تفریحی مقام بشام میں شاہراہ قراقرم پر جار رہے چینی انجنئرز کے گاڑیوں کے ایک قافلے پر خود کش بمبار گاڑی کے دھماکے سے 5 چینی انجنئرز سمیت 6 افراد جآں بحق ہوئے ہیں- دوسری

اقوام متحدہ کی قرارداد: کیا غزہ میں امن ہوپائے گا؟غزہ میں قتل عام شروع ہونے کے پانچ مہینوں سے زیادہ وقت گزرنے کے بعد، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے آخر کار پیر کے دن ایک قرارداد منظور کی جس میں مقبوضہ فلسطینی علاقے میں جنگ

حکومت میں یکسوئی کا فقدانروزنامہ قوم ملتان میں شایع ہونے والی ایک خبر کے مطابق وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے 24 گھنٹوں میں اپنے دو اہم مگر متنازعہ سمجھے جانے والے فیصلوں کو واپس لیا ہے۔ وہ 24 گھنٹے بعد اقتصادی تعاون کمیٹی کی

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پابندی دوسرے مہینے میں داخل ہونے کے ساتھ ہی، حکام ان پابندیوں کو لاگو کرنے کے پیچھے کے منطق کی وضاحت کرنے اور اپنے اعمال کی بنا پر سامنا کرنے والی شدید تنقید کے خلاف اپنے دفاع میں جو دلائل

اب تک کی پیش رفت سے ایک بات تو واضح ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کا مسئلہ اب صرف موسمیاتی تبدیلی کا معاملہ نہیں رہا- یہ سماجی اور معاشی خطرہ بھی ہے جس نے دولت کی عدم مساوات کو بڑھایا ہے۔ موسموں کی شدت اور بے یقینی

آج سے دو روز پہلے آئی ایم ایف مشن نے اعلان کیا تھا کہ اس کا پاکستان سے اسٹینڈ بآئی ارینجمنٹ -ایس بی اے قرض کے دوسرے جآغزے پر عملے کی سطح کا معاہدہ – ایس ایل اے طے پا گیا ہے۔ یہ اعلان آئی ایم

گوادر پورٹ اتھارٹی پر حملہ: صرف بیانیہ بنانے سے کام نہیں چلے گابدھ کی شام صوبہ بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں کالعدم علیحدگی پسند عسکری تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی – بی ایل اے سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے گوادر پورٹ اتھارٹی کمپلیکس پر

میر علی وانا چیک پوسٹ پر خودکش حملے میں پاکستان فوج کے 7 جوانوں کی شہادت کے بعد افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے – پاکستان نے دہشت گرد حملوں کا جواب پاک فضائیہ کی جانب سے پاکستان کی سرحد سے ملحقہ دو

پنجاب میں بالعموم اور جنوبی پنجاب میں بالخصوص نمونیا کی وبا چھوٹے بچوں پر اپنے وار جاری رکھے ہوئے ہے – روزنامہ قوم ملتان میں شایع ہونے والی خبروں کے مطابق صرف چلڈرن ہسپتال ملتان کے ترجمان کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس

حکومت پاکستان نے حکومتی اخراجات میں کمی لانے کے لیے ایک باقاعدہ میکنزم تشکیل دینے کی طرف قدم بڑھایا ہے۔ وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے اس کے لیے ایک 7 رکنی کمیٹی قآئم کی ہے جس کا کام حکومتی اخراجات میں کمی لانا ہوگا-

حکومت بنے چند روز ہوئے ہیں اور حکومتی کیمپ سے ایسے بیانات کی بارش ہونے لگی ہے جن سے غیرمستحکم سیاسی نظام مزید عدم استحکام کا شکار ہوسکتا ہے۔ اور ایسے لگتا ہے جیسے اخیتارات کا گھنٹہ گھر اسلام آباد کو بنانے والی قوتیں بندوق عالمی

پنجاب اور وفاق میں انتظامیہ کے سربراہان کا تعلق پاکستان مسلم ليگ نواز سے ہے۔ وفاق میں وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف (مریم نواز شریف کے چچا) اور صوبہ پنجاب میں وزیر اعلی محترمہ مریم نواز شریف (سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی صاحبزادی اور

پاکستان کے زیریں ایوان قومی اسمبلی میں گزشتہ روز ایک قرارداد اکثریت سے منظور کرلی گئی جس کی رو سے نگران سیٹ اپ کے دور میں 9 صدارتی آرڈیننس میں توسیع کی حمایت کی گئی ۔ اس طرح عجلت میں نگران دور میں نافذ کیے گئے

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسحاق ڈار کے دور میں کیے جانے والے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ -ایس بی اے معاہدے کے تحت ہونے والے قرض کے معاہدے کا دوسرا اور آخری جائزہ پراسس شروع ہوچکا ہے۔ پاکستان کی مذاکرتی ٹیم کی سربراہی ایک اور

پاکستان میں عام آدمی کا اب نصیب یہ رہ گیا ہے کہ وہ حکومتی اداروں کی نا اہلی، بدعنوان اہلکاروں اور بدانتظامی کی سزا بھگتے اور دنوں میں امیر بننے اور کالا دھن اکٹھا کرنے والے دھڑلے سے ان کی جانوں سے کھیلنے کا سامان کرتے

وزیراعظم پاکستان – آپ کی آواز مکّے مدینے وزیراعظم پاکستان نے 19 رکنی وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جو خطاب کیا ہے اس خطاب کے اہم نکات پڑھنے کے بعد ہر پاکستانی یہی کہے گا ، وزراعظم پاکستان! آپ کی آواز مکّے مدینے۔وزیراعظم

پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین پاکستان کی تاریخ کے پہلے دوسری بار منتخب ہونے والے صدر مملکتبن گئے ہیں- صدارتی انتخابات بارے ان سے شکست کھانے والے پاکستان کے جہاں دیدہ پشتون قوم پرست سیاست دان محمود خان اچکزئی کا صارتی انتخاب بارے یہ تبصرہ صدر

وزیراعظم ہندوستان نریندر مودی کے حواری ان کی دوسری ٹرم کے آخری دنوں میں سری نگر کے دورے کی کامیابی کے بڑے دعوے کر رہے ہیں اور کشمیر میں سب ٹھیک ہوگیا ہے کی گردان بھی کررہے ہیں۔کیا اپنی حکومت کے ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر

وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کی جانب سے گزشتہ رات اتحادی جماعتتوں کے اراکین اسمبلی اور قیادت کے اعزاز میں وزیراعظم ہاؤس میں پرتکلف عشائیہ دیا گیا- اس دعوت شیراز کو ایک ایسے موقعہ پرمنعقد کیا گیا جب پاکستان اس وقت سے کہیں زیادہ

پاکستان کی کل آبادی 22 کروڑ 92 لاکھ 20 ہزار ہے- جن میں سے 14 کروڑ 45 لاکھ 30 ہزار دیہی اور 8 کروڑ 46 لاکھ 90 ہزار شہروں میں رہتی ہے۔ 11 کروڑ 71 لاکھ 10 ہزار مرد اور 11 کروڑ 21 لاکھ عورتیں ہیں-
روزنامہ قوم ملتان 7 مارچ 2024۔۔۔ کار جہاں. میاں غفار سوشل میڈیا پر ایک مختصر سا کلپ دیکھا جس میں پنجاب کی نو منتخب وزیر اعلیٰ محترمہ مریم نواز شریف کسی گرلز سکول میں کلاس کے آخری بنچ پر طالبات کے درمیان ایک طالبہ کی طرح

فنانس ڈویژن میں بیٹھے سرکاری بابوؤں نے پاکستان کی عوام کو شاید بیوقوف سمجھ رکھا ہے۔ وہ ہمیشہ عوام کو ‘گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگرچہ ذمہ دار صحافت کرنے والے اپنی تحقیقات سے ان کی کوشش ناکام بناتے رہتے ہیں- نگران حکومت کے اخری

انکم ٹیکس آڑدننس میں فنانس ایکٹ 2022 کے تحت 7 ای شق متعارف کرائی کئی ہے جس میں غیر منقولہ جائیداد پر ٹیکس لگایا گیا ہے جس سے حکومتی عہدے داروں کو الاٹ کی جانے والی جائیداد کو مستثنی قرار دیا گیا ہے۔ ہماری حکمران اشرافیہ

تین پر ملک کے وزیراعظم اور اپنی جماعت کے غیر متنازعہ قائد میاں محمد نواز شریف 2017ء میں اقتدار سے بے دخل کیے جانے کے بعد دوبارہ قومی اسمبلی میں داخل ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنی رکنیت کا حلف اٹھایا اور اس کے بعد پارلیمنٹ سے
اتوار 3 مارچ 2024ء پاکستان مسلم لیگ نواز کے مرکزی صدر میاں محمد شہباز شریف دوسری بار وزیراعظم پاکستان منتخب ہوگئے۔ انھوں نے ایک ایسے وقت میں تقریر کی جب ایوان میں حزب اختلاف کے اراکین کے شور سے کان پڑی آواز سنائی نہ دے رہی


























