صوبے بنانے کے لیے اس وقت کوئی اکثریت موجود نہیں: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ملک میں نئے صوبے بنانے کے لیے فی الحال کسی کے پاس مطلوبہ اکثریت موجود نہیں، جبکہ گورنر راج آئینی ہونے کے باوجود جمہوری عمل کے مطابق نہیں ہے۔
جام چاکرو میں جدید لینڈ فل سائٹ کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد کراچی کو صاف ستھرا بنانا ہے۔ جام چاکرو لینڈ فل سائٹ پر مجموعی طور پر پانچ جدید سیل تعمیر کیے جا رہے ہیں، جن کا کام دسمبر تک مکمل کر لیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق اس منصوبے کے تحت کراچی کے کچرے کو سائنسی اور منظم طریقے سے ٹھکانے لگایا جائے گا۔ جدید ویسٹ مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے ماحولیاتی آلودگی اور تعفن جیسے مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی، جبکہ شہر کے دیگر اضلاع میں بھی عالمی معیار کے ویسٹ ڈسپوزل پوائنٹس قائم کیے جائیں گے۔
گورنر راج سے متعلق سوال کے جواب میں مراد علی شاہ نے کہا کہ گورنر راج آئینی تو ہے لیکن جمہوری نہیں۔ کوئی بھی نہیں چاہتا کہ صوبے کی منتخب حکومت کو برطرف کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے۔ اگر ملک میں دہشت گردی کے واقعات پیش آ رہے ہوں اور صوبے کارروائی کرنے سے انکار کریں تو ایسی صورتحال میں کیا کہا جا سکتا ہے۔
نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ اس وقت صوبے بنانے کے لیے کوئی اکثریت موجود نہیں ہے۔
میر رضا کیس پر بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے بتایا کہ کابینہ نے اس معاملے پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ اب کابینہ ہی کمیشن کی رپورٹ کے بند لفافے کو کھولنے کے بعد اس معاملے پر فیصلہ کرے گی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں