ملتان (کرائم سیل) ملتان میں سود خوری، بھتہ خوری اور موٹر سائیکلیں چھیننے کا سنگین معاملہ سامنے آ گیا ،سودخورنےقرضِ حسنہ کے طور پر 6 لاکھ روپے دے کرہراسمنٹ،ڈرادھمکاکر3 لاکھ روپے سودسمیت9 لاکھ روپے اینٹھ لئے،مزید لاکھوں روپے کامطالبہ،2موٹرسائیکلیں چھین لیں۔ شہری محمد ثاقب نے تھانہ ممتاز آباد میں درخواست دے دی،ملزم پیش نہ ہوا، درخواست گزار محمد ثاقب ولد ارشاد احمد سکنہ الفرید کالونی ملتان کے مطابق اس نے اپنے دوست محمد شہباز ولد محمد رفیق سکنہ بستی ریتل ملتان سے مختلف اوقات میں تقریباً چھ لاکھ روپے قرضِ حسنہ کے طور پر ادھار لیے تھے، جن کی اصل رقم وہ واپس کر چکا ہے، تاہم اس کے بقول ملزم نے بعدازاں سود کا مطالبہ شروع کر دیا اور خوفزدہ کیا، دھمکیاں دے کر مزید تین لاکھ روپے بطورسود وصول کر لیے، یوں چھ لاکھ روپے کے قرض کے عوض مجموعی طور پر 9 لاکھ روپے ادا کیے جا چکے ہیں، ملزم کی جانب سے 9 لاکھ روپے وصول کرنے کا اقرار گواہان محمد عمران ولد علی احمد اور سعد ولد عبدالقادر کے سامنے بھی کیا گیا، لیکن اس کے باوجود مزید لاکھوں روپے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، درخواست کے مطابق تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل اسے مبینہ طور پر خوف زدہ کرکے زمزم روش ہوٹل، نزدیک دہاڑی چوک، تھانہ ممتاز آباد کے علاقے میں بلایا گیا، جہاں سے اس کی سوزوکی 110 موٹر سائیکل نمبر BFF-9228 ماڈل 2026 چھین لی گئی، جبکہ تین روز قبل اسی مقام پر دوبارہ بلا کر اس کی دوسری ہونڈا سی ڈی 70 موٹر سائیکل ماڈل 2018، رجسٹریشن نمبر 1325 بھی مبینہ طور پر زبردستی چھین لی گئی، شہری کا الزام ہے کہ ملزم مزید رقم کا تقاضا کرتے ہوئے سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہا ہے اور اپنے بااثر و خطرناک افراد سے روابط کا حوالہ دے کر اسے خوف زدہ کر رہا ہے، درخواست گزار نے ایس ایچ او تھانہ ممتاز آباد سے استدعا کی ہے کہ معاملے کی فوری اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرکے حقائق کے مطابق سودخوری ایکٹ،بھتہ خوری وڈکیتی کی قانونی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے، دونوں موٹر سائیکلیں برآمد کرائی جائیں اور مبینہ طور پر سود کی مد میں وصول کیے گئے تین لاکھ روپے کی واپسی کے لیے بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ پولیس نے درخواست پرکارروائی شروع کردی۔فریقین کوطلب کیاگیا۔متاثرہ فریق تھانے میں حاضر ہوگیالیکن ملزم پیش نہیں ہوااورمتاثرہ فریق سے رابطہ کرکے کہاکہ پولیس کوچھوڑو۔ہم آپس میں بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔پولیس کے مطابق میرٹ پرقانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی اورمتاثرہ فریق کوتحفظ وانصاف فراہم کیاجائے گا۔







