شجاع آباد : کرپشن اور نااہلی کے خلاف کارروائی، سینئر کلرک معطل، انکوائری کا حکم

شجاع آباد (سپیشل رپورٹر)سرکاری امور میں بدعنوانی اور نااہلی کے خلاف کارروائی، سینئر کلرک معطل، انکوائری کا حکم جاری، اسسٹنٹ کمشنر شجاع آباد ڈاکٹر ثناء رام چند کی زیرِ نگرانی سرکاری اداروں میں بدعنوانی، غفلت اور نااہلی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ میونسپل کمیٹی شجاع آباد کے سینئر کلرک کامران علی خان کو مس کنڈکٹ اور عدم کارکردگی کی بنیاد پر معطل کر دیا گیا ہے، جبکہ معاملے کی مزید تحقیقات کے لیے باقاعدہ انکوائری کا حکم بھی جاری کر دیا گیا ہے۔میونسپل کمیٹی شجاع آباد کی جانب سے جاری کردہ معطلی کے تحریری حکم نامے کے مطابق سینئر کلرک کامران علی خان، جو بی ایس 14 میں تعینات ہیں، کو پیڈا ایکٹ 2006 (PEEDA Act 2006) کے تحت مزید احکامات تک معطل کیا گیا ہے۔ حکم نامے میں معطلی کی وجہ مس کنڈکٹ اور عدم کارکردگی بیان کی گئی ہے۔حکم نامے کے مطابق چیف آفیسر میونسپل کمیٹی شجاع آباد کو انکوائری افسر مقرر کرتے ہوئے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ معاملے کی تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ مجاز اتھارٹی کو پیش کریں، تاکہ انکوائری کے نتائج کی روشنی میں مزید محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔اسسٹنٹ کمشنر شجاع آباد ڈاکٹر ثناء رام چند کی جانب سے سرکاری اداروں میں نظم و ضبط، شفافیت اور بہتر انتظامی کارکردگی کو یقینی بنانے کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی پر عملدرآمد کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد سرکاری امور میں جواب دہی کو یقینی بنانا، فرائض کی انجام دہی میں غفلت کا تدارک کرنا اور عوام کو بہتر سرکاری سہولیات کی فراہمی ہے۔شہری حلقوں کے مطابق سرکاری اداروں میں میرٹ، شفافیت اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر احتساب ضروری ہے۔ تاہم، متعلقہ اہلکار کے خلاف الزامات کی حتمی نوعیت اور ذمہ داری کا تعین انکوائری مکمل ہونے کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔انتظامی حلقوں میں اس کارروائی کو سرکاری امور میں جواب دہی اور محکمانہ نظم و ضبط کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں