اسلام آباد: چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کو تجویز دی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی دعوت دی جائے تاکہ تمام سیاسی جماعتیں متحد ہو کر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششیں کر سکیں۔
قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی حمایت کی اور کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے آئین کے مطابق ایمرجنسی کی منظوری دی۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی صدر پاکستان اور پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے، تاہم اپوزیشن کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ نہ کرنے کی کیا ٹھوس وجہ تھی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ حکومت نے اپوزیشن کو مذاکرات میں شامل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ ایمرجنسی کا نفاذ کوئی خوشی کی بات نہیں اور نہ ہی حکومت نے یہ قدم مستقل بنیادوں پر اٹھایا ہے۔ ان کے مطابق جب پہلی مرتبہ یہ معاملہ صدر کے سامنے آیا تو اپوزیشن سے بات چیت کا فیصلہ کیا گیا اور ایمرجنسی جیسے انتہائی اقدام سے پہلے مذاکرات کو موقع دیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کی رات انہیں آگاہ کیا گیا تھا کہ بات چیت کامیاب ہوگئی ہے۔ پیپلز پارٹی کے دو نمائندے بھی مذاکراتی کمیٹی کا حصہ تھے، تاہم موجودہ سیاسی اور قانونی صورت حال میں پی ٹی آئی کا کردار بھی اہم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے سیاسی خودکش حملہ کیا ہے اور اپوزیشن کو اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تمام سیاسی قوتوں کو متحد ہونا پڑے گا کیونکہ کوئی ایک فرد یا ادارہ تنہا اس چیلنج کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ انہوں نے بھارت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی جانب سے بھارتی طیارے گرائے جانے کا معاملہ بھارت کو ہضم نہیں ہو رہا اور نریندر مودی مختلف مقامات پر آپریشن سندور جاری رکھنے کی بات کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق بھارت علیحدگی پسند عناصر کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کر رہا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ موجودہ سیاسی بحران کے حل کے لیے درمیانی راستہ نکالا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اپوزیشن کی جانب دوبارہ ہاتھ بڑھانا چاہیے تاکہ تمام فریق مذاکرات کی میز پر بیٹھیں اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اختیار کر سکیں۔







