بہاولپور میں بدمعاشی کلچر عروج پر، خون ریزی کے واقعات زور پکڑنے لگے

بہاولپور(کرائم رپورٹر) بہاولپور میں مبینہ غنڈہ گردی، خونی تصادم اور شہریوں پر حملوں کے واقعات نے شہریوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا، شہریوں کا الزام ہے کہ سنگین مقدمات درج ہونے کے باوجود بااثر ملزمان کے خلاف موثر کارروائی نہ ہونے سے جرائم پیشہ عناصر کے حوصلے بڑھ رہے ہیں تفصیل کے مطابق چند ماہ پہلے تھانہ کینٹ کی حدود میں واقع فوارہ چوک قریشی کھٹا کھٹ ہوٹل پر پرانی رنجش کے معاملے پر تنظیل عرف روکی مینٹل اور اسکے ساتھیوں پر شہریوں معاذ آور علی رضا پر قاتلانہ حملہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا واقعے میں دونوں نوجوان خنجروں کے وار سے شدید زخمی ہو گئے تھے جسکے بعد تھانہ کینٹ میں معاذ نامی نوجوان کی مدعیت میں مقدمہ نمبر 915/26 درج کیا گیا تھا متاثرہ شہری کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج ہونے کے باوجود تاحال ملزمان کی گرفتاری اور انکے خلاف موثر قانونی کارروائی سامنے نہیں آئی انکا کہنا ہے کہ اگر سنگین نوعیت کے واقعات میں نامزد ملزمان کے خلاف بروقت کاروائی نہ کی گئی تو شہریوں میں عدم تحفظ کا احساس مزید بڑھ سکتا ہے عینی شاہدین کے مطابق شہر کی مین شاہراہوں اور عوامی مقامات پر پیش آنے والے پرتشدد واقعات نے لوگوں کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے شہریوں کا کہنا ہے کہ امن و امان برقرار رکھنا پولیس کی بنیادی ذمہ داری ہے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے فوری تیز ترین قانونی کاروائیوں کی اشد ضرورت ہے بہاولپور کے عوامی وسماجی حلقوں اور متاثرہ شہریوں نے آر پی او بہاولپور، ڈی پی او بہاولپور اور ایس ایچ او تھانہ کینٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ مقدمہ نمبر 915/26 کی شفاف تحقیقات کی جائیں دستیاب شواہد کی روشنی میں ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق فوری کارروائی کی جائے اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں