ملتان ( سٹی رپورٹر،خصوصی رپورٹر،نمائندہ خصوصی، وقائع نگار،نیوزرپورٹر) ملتان میںٹرین الٹ گئی ، ہزارمسافرسوار تھے۔7افرادجاں بحق،درجنوں زخمی ہوگئے۔ شیر شاہ سٹیشن اور چناب پل کے نزدیک کراچی سے پشاور جانے والی رحمان بابا ایکسپریس کی تمام 14 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں۔ٹرین کو صبح تقریباً 5 بج کر 15 منٹ پر حادثہ پیش آیا، 20 سے زائد ریسکیو، فائر اور ایمرجنسی گاڑیوں نے آپریشن میں حصہ لیا، 13 بوگیاں کلیئر، ایک بوگی کو کاٹ کرمسافروں کو نکالا گیا، اپ اور ڈاؤن دونوں ریلوے ٹریکس پر ٹرینوں کی آمدورفت معطل رہی۔ امدادی ٹیمیں حادثے کے دوگھنٹے کےبعدپہنچیں، زخمی مسافرتڑپتےرہے،ہرطرف آہ وبکا،نشتر ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ ، زخمیوں کے لواحقین کیلئے انفارمیشن ڈیسک قائم، جائے حادثہ پر ریلیف کیمپ قائم ،رہائش، کھانے اور دیگر ضروری سامان فراہم،وزیراعظم شہباشریف ،وزیراعلیٰ مریم نواز نےاظہارافسوس کیاہے۔تفصیل کےمطابق ملتان کے قریب شیر شاہ ریلوے سٹیشن اور شیر شاہ دریائےچناب پل کے نزدیک کراچی سے پشاور جانے والی رحمان بابا ایکسپریس کی تمام 14 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیںجس کے نتیجے میں 7مسافر جاں بحق اور 50سےزائدافراد زخمی ہوئے ہیں۔ حادثے کے بعد متاثرہ بوگیوں میں پھنسے مسافروں کو نکالنے کیلئے بڑے پیمانے پر امدادی آپریشن شروع کردیا گیاجبکہ ایک ڈیڑھ سالہ بچی لاپتہ ہے۔امدادی ٹیمیں حادثے کے دوگھنٹے کےبعدجائے حادثہ پرپہنچیں۔اس دوران زخمی مسافرٹرین کے اندراورباہرتڑپتےرہے،کوئی پرسان حال نہیں تھا۔ہرطرف آہ وبکاجاری تھا۔ ریلوے حکام کے مطابق ٹرین کو صبح تقریباً 5 بج کر 15 منٹ پر حادثہ پیش آیا جبکہ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر حسین میاں کے مطابق ریسکیو 1122 کو حادثے کی اطلاع 5 بج کر 21 منٹ پر موصول ہوئی۔ ٹرین میں لگ بھگ ایک ہزار مسافر سوار تھے۔ ابتدائی اطلاعات میں پانچ اور چھ افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں، تاہم ریلوے ترجمان محمد کلیم نے وضاحت کی کہ ٹریک سے انسانی اعضا ملنے کی بنیاد پر پہلے پانچ اموات کی اطلاع دی گئی تھی جبکہ بعد میں چار لاشیں نشتر ہسپتال منتقل ہونے کی تصدیق کی گئی۔ ریسکیو 1122 ملتان کے مطابق حادثے کے بعد 100 سے زائد اہلکار امدادی سرگرمیوں میں شریک ہوئے جبکہ 20 سے زائد ریسکیو، فائر اور ایمرجنسی گاڑیوں نے آپریشن میں حصہ لیا۔ ایک اور تفصیل کے مطابق ریسکیو آپریشن میں 16 گاڑیاں شامل تھیں، جن میں 11 ایمبولینسیں، تین فائر وہیکلز اور دو ایمرجنسی وہیکلز شامل ہیں۔ ریسکیو حکام کے مطابق 27 زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ہسپتال منتقل کیا گیا جبکہ 22 افراد کو جائے حادثہ پر ہی طبی امداد فراہم کی گئی۔ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر حسین میاں نے بتایا کہ ٹرین کی تین مرتبہ تلاشی لی جاچکی ہے تاہم ایک بچی کی تلاش جاری ہے اور خدشہ ہے کہ کہیں کوئی مسافر بوگیوں کے نیچے نہ دبا ہو۔ ریسکیو اہلکاروں نے 13 بوگیوں کو کلیئر کردیا جبکہ ایک بوگی کو کاٹ کر اس میں پھنسے مسافروں کو نکالا گیا۔ ریلوے ترجمان کے مطابق امدادی کارکنوں نے تمام 14 بوگیوں میں سرچ اور ریسکیو کارروائیاں کیں، جبکہ ریلوے کی ریلیف ٹرین اور میڈیکل وین بھی جائے حادثہ کی جانب روانہ کی گئیں۔ ریلوے ملتان ڈویژن کے حکام جائے حادثہ پر پہنچ گئے اور امدادی کارروائیوں میں ریسکیو، ریلوے اور پاک فوج کی ٹیمیں بھی حصہ لے رہی ہیں۔حادثے کے بعد اپ اور ڈاؤن دونوں ریلوے ٹریکس پر ٹرینوں کی آمدورفت معطل ہوگئی، تاہم ریلوے ترجمان کے مطابق ٹرینوں کو متبادل طور پر کارڈ لائن کے ذریعے خانیوال اور لودھراں سے گزارا جارہا ہے۔ ریلوے حکام نے حادثے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے، جبکہ لاہور ہیڈکوارٹرز سے تکنیکی افسران اور متعلقہ حکام پر مشتمل انکوائری کمیٹی جائے حادثہ کی طرف روانہ کردی گئی۔ ابتدائی اطلاعات میں حادثے کی وجہ تیز رفتاری بتائی گئی۔حادثے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کردیں۔ ڈپٹی کمشنر ملتان ڈاکٹر فیصل سلیم نے نشتر ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی اور زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کرنے کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت کی۔ متاثرہ مسافروں کیلئے جائے حادثہ پر ریلیف کیمپ قائم کیا گیا، جہاں رہائش، کھانے اور دیگر ضروری سامان کی فراہمی شروع کردی گئی۔ زخمیوں کے لواحقین کی سہولت کیلئے انفارمیشن ڈیسک قائم کرنے کا بھی اعلان کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر کے مطابق حادثے میں زخمی ہونے والے مسافروں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ نشتر میڈیکل یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈاکٹر مہناز خاکوانی کے مطابق ہسپتال میں ضروری انتظامات مکمل ہیں، ڈاکٹرز اور ادویات دستیاب ہیں جبکہ ایم ایس نشتر ہسپتال اور ڈائریکٹر ایمرجنسی خود نگرانی کررہے ہیں۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق زخمیوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا، جبکہ نشتر ہسپتال کے ترجمان راؤ نوشاد نے بتایا کہ چار لاشیں ہسپتال منتقل کی گئیں، جن میں سے تین کی شناخت ہوچکی ہے جبکہ ایک لاش کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی۔ریلوے ترجمان کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 45 سالہ عاصمہ، 46 سالہ شکیلہ اور 43 سالہ سائرہ بی بی شامل ہیں۔ زخمیوں میں بچوں اور خواتین سمیت مختلف عمر کے مسافر شامل ہیں، جن میں پانچ سالہ مجیب، عمر اور ملائکہ، تین سالہ نمرہ، دو سالہ منتہیٰ، چھ سالہ حذیفہ، 10 سالہ آمنہ، 20 سالہ منیر، 21 سالہ اسد، 22 سالہ اریب، 24 سالہ عاصم، 32 سالہ زنیرہ اور ہارون، 33 سالہ حرا خان، 35 سالہ نرگس، 40 سالہ گل خان، سمیرا بی بی اور یاسمین، 45 سالہ طارق، 46 سالہ محمد اسرار، 50 سالہ کامران اور 60 سالہ چاندنی بی بی شامل ہیں۔ حادثے میں ایک خاتون کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔حادثے میں ڈیڑھ سالہ بچی کی گمشدگی نے متاثرہ خاندان کی پریشانی میں اضافہ کردیا۔ متاثرہ خاتون کے مطابق وہ 16 افراد کے ساتھ بوگی نمبر چار میں سوار تھیں، ٹرین کے حادثے کا شکار ہونے کے وقت اچانک اندھیرا چھا گیا اور اس کی ڈیڑھ سالہ بیٹی لاپتہ ہوگئی۔ خاتون نے بتایا کہ بچی کو ہر جگہ تلاش کیا گیا مگر اس کا کوئی سراغ نہ مل سکا، جبکہ ان کے ساتھ موجود دیگر افراد محفوظ ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں بچی کی تلاش کیلئے سرچ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملتان میں ٹرین کی بوگیاں پٹڑی سے اترنے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو امدادی کارروائیاں تیز کرنے اور زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بھی قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زخمی مسافروں کے علاج اور دیکھ بھال کو یقینی بنانے کی ہدایت کی اور سوگوار خاندانوں سے تعزیت و ہمدردی کا اظہار کیا۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر کمشنر ملتان عامر کریم اور دیگر انتظامی افسران جائے حادثہ پر پہنچ گئے۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنوبی پنجاب فواد ہاشم ربانی نے بھی حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا، جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی۔ انہوں نے انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کو امدادی کارروائیاں تیز کرنے، زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی، جبکہ انتظامیہ سے حادثے کی ابتدائی رپورٹ بھی طلب کرلی۔ حکام کے مطابق متاثرہ بوگیوں کی مکمل تلاشی، زخمیوں کی منتقلی اور ریلوے ٹریک کی بحالی سے متعلق کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ حادثے کی وجوہات کے بارے میں حتمی رپورٹ انکوائری کے بعد سامنے آئے گی۔دریںاثنارات گئےٹرین آپریشن کیلئے ڈاؤن ٹریک کلیئر کر دیا گیا۔اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سوشل سروسز محسن نثار اور اسسٹنٹ کمشنر سٹی مکرم سلطان نے ڈپٹی کمشنر کو ریلیف آپریشن، متاثرہ مسافروں کی معاونت اور مختلف محکموں کی جانب سے کیے گئے اقدامات پر بریفنگ دی۔ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر فیصل سلیم نے بتایا کہ ٹرین حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کا نقصان ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ حادثے سے متاثر ہونے والے مسافروں کو متبادل ٹرانسپورٹ کے ذریعے مختلف مقامات پر منتقل کیا گیا۔دوسری جانب کمشنر ملتان ڈویژن عامر کریم خاں نے جائے حادثہ کا دورہ کیا اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ کمشنر نے متعلقہ محکموں کو ریسکیو آپریشن تیز کرنے، تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے اور متاثرہ مسافروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی۔کمشنر عامر کریم خاں نے جائے حادثہ پر ریسکیو ٹیموں کی کارروائیوں کا معائنہ کیا اور ٹرین میں پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے جاری آپریشن کا جائزہ لیا۔ڈپٹی کمشنر ملتان ڈاکٹر فیصل سلیم نےبھی نشتر ہسپتال کا دورہ کیا اور حادثے میں زخمی ہونے والے مسافروں سے ملاقات کرکے ان کی عیادت کی۔ادھرشیر شاہ کے قریب رحمان بابا ایکسپریس کو پیش آنے والے افسوسناک حادثے کے پیش نظر نشتر ہسپتال ملتان میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ۔ وائس چانسلر نشتر میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر مہناز خاکوانی نے حادثے کے فوری بعد ڈائریکٹر ایمرجنسی ڈاکٹر زاہد کے ہمراہ ایمرجنسی وارڈ کا دورہ کیا اور انتظامات کا جائزہ لیا۔ایڈیشنل آئی جی ساؤتھ پنجاب محمد کامران خان نے رحمان بابا ٹرین حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیاہے۔
پانچ سال کے دوران 448ریلوے حا دثات،169افرادجاںبحق ہوچکے

ملتان (سٹی رپورٹر) پاکستان ریلوے میں گزشتہ پانچ سال کے دوران 448 حادثات پیش آئے جن میں 164 بڑے حادثات شامل ہیںجبکہ ان حادثات کے نتیجے میں 169 افراد جاں بحق ہوئے۔ ریلوے حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد نے ٹرینوں کی محفوظ آمد ورفت، ریلوے ٹریک کی حالت، سگنلنگ نظام اور حفاظتی انتظامات پر سوالات اٹھا دیے ہیں سال 2021 سے 2025 تک پاکستان ریلوے میں بڑے حادثات کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ سال 2021 میں 22، سال 2022 میں 18، سال 2023 میں 35، سال 2024 میں 40 جبکہ سال 2025 میں 49 بڑے حادثات پیش آئے۔ اس طرح 2025 کے دوران بڑے حادثات کی تعداد گزشتہ پانچ سال میں سب سے زیادہ رہی۔بڑے حادثات میں 134 مسافر، 28 سڑک استعمال کرنے والے افراد اور ریلوے کے 7 ملازمین جاں بحق ہوئے۔ مسافر ٹرینوں کا پٹری سے اترنا حادثات کی بڑی وجوہات میں شامل رہا، جبکہ ریلوے پھاٹکوں پر ٹرینوں اور گاڑیوں کے تصادم اور ٹرینوں میں آگ لگنے کے واقعات بھی پیش آتے رہے۔ پانچ سال کے دوران مسافر ٹرینوں کے پٹری سے اترنے کے 132 واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ عملے کی موجودگی والے ریلوے پھاٹکوں پر تصادم کے 16 اور ٹرینوں میں آگ لگنے کے 10 واقعات پیش آئے۔ مال گاڑیوں کے تصادم کے تین واقعات بھی ریکارڈ کیے گئے۔
انٹر لاکنگ سٹم کی خرابی کے باعث حادثہ رونما ،بھاری جانی ومالی نقصان
ملتان(یعقوب سید سے)انٹر لاکنگ سٹم کی خرابی کے با عث حادثہ رونما ہوا جس کے نتیجے میں ریلوے کو بڑ ے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔اس حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ 47 اپ رحمان بابا ایکسپریس جس جگہ پہنچی وہاں انٹر لاکنگ سٹم خراب ہوچکا تھا اور اس خرابی کی وجہ سے ٹرین مظفر گڑھ کی لائن پر چلی گئی جسکےنتیجےمیں ڈرا ئیورنے ایمرجنسی بریک لگائی جس کے نتیجے میں بوگی کا کپلین ٹوٹ گیا اور ساری گاڑی الٹ گئی۔
دوسالہ بچہ کھڑکی سےگر کر ٹرین کی بوگی تلے دب گیا، پچکی ہوئی نعش ملی
ملتان(سٹی رپورٹر) کراچی سے آنے والی فیملی کا دوسالہ بچہ حادثے کے دوران برتھ پر سویا ہوا کھڑکی سے گر کر بوگی کے نیچے دب کر جاںبحق ہوگیا۔اہلخانہ مل کر اسے ڈھونڈتے رہے لیکن وہ بچہ انہیں نہ ملابالآخر جب بوگیاں اٹھائی گئیں تو اسکی پچکی ہوئی نعش انہیں مل گئی۔
نشترہسپتال نےجاں بحق اور زخمی افراد کے ناموں کی لسٹ جاری کردی
ملتان( خصوصی رپورٹر) رحمان بابا ایکسپریس ٹرین حادثے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد کے ناموں کی نشتر ہسپتال ملتان کی انتظامیہ نے لسٹ جاری کر
دی، تین خواتین اور ایک بچی سمیت پانچ مسافر جاں بحق ہوئے ، 33 زخمیوں میں سے 24 کو ڈسچارج کردیا گیا۔ ترجمان نشتر ہسپتال ملتان راؤ نوشاد کے مطابق ٹرین حادثہ میں ٹوٹل 38 افراد نشتر ایمرجنسی لائے گئے جن میں پانچ جاں بحق اور 33 زخمی تھے ۔ جاں بحق مسافروں میں کراچی کی رہائشی ڈیڑھ سالہ شفا فاطمہ ولد کامران حسن ، 45 سالہ عاصمہ ، 46 سالہ شکیلہ ، 43 سالہ سائرہ بی بی شامل ہیں جبکہ ایک جاں بحق مسافر کی شناخت نہیں ہوسکی ، زخمیوں میں 5 سالہ مجیب، عمر ، ملائکہ ، 3 سالہ نمرہ ، 2 سالہ منتہیٰ اور 6 سالہ حذیفہ اور عمیر ، 10 سالہ عزیر ، 35 سالہ نرگس ، 32 سالہ زنیرہ ، 32 سالہ ہارون ، 50 سالہ کامران ، 21 سالہ اسد ، 60 سالہ چاندنی بی بی ، 40 سالہ گل خان ، 33 سالہ حرا خان، 46 سالہ محمد اسرار ، 40 سالہ سمیرا بی بی ، 24 سالہ عاصم ، 45 سالہ طارق ،20 سالہ منیر ،احمد اور ایان ، 40 سالہ یاسمین ، 10 سالہ آمنہ ، 22 سالہ اریب ، 17 سالہ معیز ، 50 سالہ کامران ، 12 سالہ ارسلان ، 36 سالہ مہوش ، 66 سالہ عبد الرازق، 48 سالہ عذرا بی بی ، 30 سالہ فیصل کامران ، ایک سالہ دعا فاطمہ ، 10 سالہ حفصہ، 5 سالہ بریرا، 28 سالہ نمرہ ، 30 سالہ کلیم عباس ، 21 سالہ محمد ماجد ، 85 سالہ میرا بی بی ، 19 سالہ طاہرہ بی بی ، 22 سالہ تسلیم بی بی ، 41 سالہ محمد اقبال ، 65 سالہ علی حسین ، 15 سالہ احسن علی شامل ہیں ۔ ترجمان نشتر ہسپتال راؤ نوشاد کے مطابق نشتر ہسپتال میں ٹوٹل 33 زخمی لائے گئے جن میں سے 24 زخمیوں کو علاج معالجے کے بعد ہسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا جبکہ ایک زخمی خاتون کو تشویش ناک حالت میں آئی سی یو منتقل کردیا گیا ہے جس کی حالت نازک ہے جبکہ ایک زخمی کو وارڈ نمبر تین میں منتقل کیا گیا ہے اس کے علاوہ سات زخمی اے اینڈ ای ڈیپارٹمنٹ میں زیر علاج ہیں ۔







