لاہور: کوٹ لکھپت جیل میں قید پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد نے اپنے وکیل کے ذریعے جاری بیان میں حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے پہلے عوام کے ووٹ کی قدر نہیں کی اور اب عدلیہ کے احکامات کا احترام نہ کرنے کا بھی ثبوت دے دیا ہے۔
یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ حکومت کا موجودہ رویہ قابل مذمت ہے، جبکہ حکومت عمران خان اور عوام کے درمیان موجود محبت سے خوفزدہ ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 2019 میں جب نواز شریف کو سروسز اسپتال میں داخل کیا گیا تو صرف 18 گھنٹوں کے اندر میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا گیا تھا۔
پی ٹی آئی رہنما کے مطابق نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان بھی میڈیکل بورڈ میں شامل تھے اور ان کی بیماری کی تشخیص بھی 24 گھنٹوں کے اندر کرلی گئی تھی۔
یاسمین راشد نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی، جبکہ نواز شریف کو شہباز شریف کے دستخط شدہ 50 روپے کے اسٹامپ پیپر پر برطانیہ بھیجا گیا تھا۔ پنجاب کابینہ نے بھی انہیں علاج کی غرض سے بیرون ملک جانے کی منظوری دی تھی۔
انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ یہی بیان سپریم کورٹ میں حلف کے ساتھ دینے کے لیے تیار ہیں۔ ان کے بقول بانی پی ٹی آئی میں نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک بھیجنے کا اخلاقی حوصلہ موجود تھا۔







