اداکارہ مومنہ اقبال اور مذہبی اسکالر ناصر مدنی کے درمیان تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ مومنہ اقبال نے اپنے وکیل ایڈووکیٹ عدنان احسان خان کے ذریعے ناصر مدنی کو قانونی نوٹس بھجواتے ہوئے مبینہ ہتک آمیز بیانات پر وضاحت، معذرت اور متعلقہ مواد ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔
قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ناصر مدنی کی جانب سے اداکارہ کے بارے میں دیے گئے بعض بیانات نے ان کی ساکھ، عزت اور پیشہ ورانہ زندگی کو متاثر کیا ہے۔ نوٹس کے مطابق یہ بیانات ہتکِ عزت کے زمرے میں آتے ہیں، اس لیے ان کی فوری تردید اور عوامی سطح پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر مقررہ وقت کے اندر مطالبات پورے نہ کیے گئے تو مومنہ اقبال اپنے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے مزید قانونی کارروائی کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مومنہ اقبال پہلے ہی مختلف قانونی تنازعات اور ہراسانی سے متعلق معاملات کے باعث خبروں میں ہیں۔ حالیہ دنوں میں انہوں نے پنجاب اسمبلی کے رکن ثاقب چدھڑ کے خلاف مبینہ سائبر ہراسانی، دھمکیوں اور بلیک میلنگ کے الزامات پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی سے رجوع کیا تھا، جس کے بعد پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا۔
قانونی نوٹس جاری ہونے سے قبل مومنہ اقبال نے انسٹاگرام پر اپنے ردعمل میں ناصر مدنی کے بیانات پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان پر لگائے گئے الزامات اور تہمتوں کو مزید ہوا دی گئی ہے۔
اداکارہ کا کہنا تھا کہ وہ دنیا اور آخرت دونوں کی عدالتوں میں سرخرو ہوں گی کیونکہ ان پر عائد کیے گئے الزامات کی حقیقت وہ خود اور اللہ تعالیٰ بہتر جانتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ ناصر مدنی کو معاف نہیں کریں گی۔
مومنہ اقبال نے یہ بھی کہا کہ اسلام میں بغیر ثبوت کسی پر الزام لگانا اور اس کی عزت کو نقصان پہنچانا ایک سنگین عمل ہے۔ انہوں نے سورۂ نور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر عمل کا حساب ہونا ہے اور انصاف ضرور ہوگا۔
اس معاملے پر شوبز اور سوشل میڈیا حلقوں میں مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں، جبکہ اب سب کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ ناصر مدنی اس قانونی نوٹس پر کیا ردعمل دیتے ہیں۔







