مومنہ اقبال کا ناصر مدنی کو قانونی نوٹس، عوامی معافی کا مطالبہ-مومنہ اقبال کا ناصر مدنی کو قانونی نوٹس، عوامی معافی کا مطالبہ-چکوال فائرنگ کیس: سی سی ڈی کی تربیت اور کارروائی پر سنگین سوالات، ہائیکورٹ میں اہم سماعت-چکوال فائرنگ کیس: سی سی ڈی کی تربیت اور کارروائی پر سنگین سوالات، ہائیکورٹ میں اہم سماعت-برطانیہ کا ایران امریکا مفاہمت میں شہباز شریف اور عاصم منیر کے کردار کو تاریخی قرار دینا-برطانیہ کا ایران امریکا مفاہمت میں شہباز شریف اور عاصم منیر کے کردار کو تاریخی قرار دینا-نواز شریف کی زیر صدارت آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال پر اہم اجلاس جاری، آئندہ حکمت عملی پر غور-نواز شریف کی زیر صدارت آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال پر اہم اجلاس جاری، آئندہ حکمت عملی پر غور-امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ 14 نکاتی معاہدے کی تفصیلات سامنے، جنگ بندی اور پابندیوں میں نرمی کا امکان-امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ 14 نکاتی معاہدے کی تفصیلات سامنے، جنگ بندی اور پابندیوں میں نرمی کا امکان

تازہ ترین

امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ 14 نکاتی معاہدے کی تفصیلات سامنے، جنگ بندی اور پابندیوں میں نرمی کا امکان

عرب میڈیا ادارے العربیہ انگلش نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جس میں جنگ بندی، پابندیوں میں نرمی، سمندری راستوں کی بحالی اور اقتصادی تعاون سمیت اہم نکات شامل ہیں۔
دستاویز کے مطابق معاہدے پر دستخط کے ساتھ ہی ایران، لبنان اور دیگر محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ بندی کا اعلان کیا جائے گا، جبکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی، دھمکی یا طاقت کے استعمال سے گریز کے پابند ہوں گے۔
مجوزہ فریم ورک میں دونوں ممالک ایک دوسرے کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کو تسلیم کریں گے، جبکہ 60 دن کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کیے جائیں گے، جن میں ضرورت پڑنے پر توسیع بھی ممکن ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق امریکا معاہدے کے فوری بعد ایران پر عائد بحری پابندیاں ختم کرے گا اور 30 روز کے اندر آبنائے ہرمز سمیت سمندری تجارتی راستوں کو مکمل بحال کیا جائے گا، جبکہ خطے میں امریکی فوجی موجودگی بھی مرحلہ وار کم کی جائے گی۔
ایران بھی خلیج اور بحیرہ عمان کے درمیان تجارتی بحری آمدورفت بحال کرے گا اور بارودی سرنگوں سمیت تمام رکاوٹوں کے خاتمے کے اقدامات کرے گا۔
معاہدے میں ایران کی معاشی بحالی کے لیے 300 ارب ڈالر کے سرمایہ کاری فریم ورک پر بھی کام کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کی تفصیلات بعد میں طے کی جائیں گی۔
پابندیوں کے حوالے سے امریکا اقوام متحدہ، آئی اے ای اے اور اپنی یکطرفہ پابندیوں میں نرمی اور مرحلہ وار خاتمے کا منصوبہ تیار کرے گا، جبکہ ایرانی تیل، پیٹروکیمیکل، بینکاری اور شپنگ شعبوں پر پابندیاں نرم کی جائیں گی۔

جوہری معاملے پر ایران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے، جبکہ حساس جوہری امور کا حتمی فیصلہ آئندہ معاہدے میں ہوگا۔
دستاویز کے مطابق مذاکرات کے دوران ایران اپنے جوہری پروگرام کو موجودہ حالت میں برقرار رکھے گا جبکہ امریکا نئی پابندیوں سے گریز کرے گا اور خطے میں فوجی اضافہ نہیں کرے گا۔
معاہدے کی نگرانی کے لیے مشترکہ مانیٹرنگ نظام قائم کیا جائے گا اور حتمی معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے کرائی جائے گی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں