عرب میڈیا ادارے العربیہ انگلش نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جس میں جنگ بندی، پابندیوں میں نرمی، سمندری راستوں کی بحالی اور اقتصادی تعاون سمیت اہم نکات شامل ہیں۔
دستاویز کے مطابق معاہدے پر دستخط کے ساتھ ہی ایران، لبنان اور دیگر محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ بندی کا اعلان کیا جائے گا، جبکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی، دھمکی یا طاقت کے استعمال سے گریز کے پابند ہوں گے۔
مجوزہ فریم ورک میں دونوں ممالک ایک دوسرے کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کو تسلیم کریں گے، جبکہ 60 دن کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کیے جائیں گے، جن میں ضرورت پڑنے پر توسیع بھی ممکن ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق امریکا معاہدے کے فوری بعد ایران پر عائد بحری پابندیاں ختم کرے گا اور 30 روز کے اندر آبنائے ہرمز سمیت سمندری تجارتی راستوں کو مکمل بحال کیا جائے گا، جبکہ خطے میں امریکی فوجی موجودگی بھی مرحلہ وار کم کی جائے گی۔
ایران بھی خلیج اور بحیرہ عمان کے درمیان تجارتی بحری آمدورفت بحال کرے گا اور بارودی سرنگوں سمیت تمام رکاوٹوں کے خاتمے کے اقدامات کرے گا۔
معاہدے میں ایران کی معاشی بحالی کے لیے 300 ارب ڈالر کے سرمایہ کاری فریم ورک پر بھی کام کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کی تفصیلات بعد میں طے کی جائیں گی۔
پابندیوں کے حوالے سے امریکا اقوام متحدہ، آئی اے ای اے اور اپنی یکطرفہ پابندیوں میں نرمی اور مرحلہ وار خاتمے کا منصوبہ تیار کرے گا، جبکہ ایرانی تیل، پیٹروکیمیکل، بینکاری اور شپنگ شعبوں پر پابندیاں نرم کی جائیں گی۔
🔴 Al Arabiya English has obtained a copy of the US-Iran memorandum of understanding. The document includes the following key points:
— Al Arabiya English (@AlArabiya_Eng) June 16, 2026
🔴 Iran and the US, together with their allies in the current war, declare upon the signing of this Memorandum of Understanding an immediate and… pic.twitter.com/gbAaB7SOIG
جوہری معاملے پر ایران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے، جبکہ حساس جوہری امور کا حتمی فیصلہ آئندہ معاہدے میں ہوگا۔
دستاویز کے مطابق مذاکرات کے دوران ایران اپنے جوہری پروگرام کو موجودہ حالت میں برقرار رکھے گا جبکہ امریکا نئی پابندیوں سے گریز کرے گا اور خطے میں فوجی اضافہ نہیں کرے گا۔
معاہدے کی نگرانی کے لیے مشترکہ مانیٹرنگ نظام قائم کیا جائے گا اور حتمی معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے کرائی جائے گی۔







