لبنان میں اسرائیلی قبضہ جاری رہا تو معاہدہ خطرے میں پڑ سکتا ہے، ایران کا انتباہ

تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اور لبنان سے متعلق معاملات ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں، اور اگر لبنان میں اسرائیلی فوج کی موجودگی یا کسی بھی نوعیت کا قبضہ جاری رہتا ہے تو اسے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔
تہران میں غیر ملکی سفارت کاروں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ لبنان میں اسرائیلی اقدامات کا تسلسل کسی صورت قابل قبول نہیں ہوگا اور ایران اسے معاہدے کے بنیادی اصولوں کے منافی سمجھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ لبنان پر کسی بھی اسرائیلی حملے کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے سمجھوتے کا مقصد خطے میں کشیدگی میں کمی اور مختلف محاذوں پر امن و استحکام قائم کرنا ہے، اس لیے لبنان کا معاملہ بھی اس پورے عمل کا اہم حصہ ہے۔
عباس عراقچی کے مطابق جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان پیر کی صبح تہران کے وقت کے مطابق کیا گیا جب ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کو حتمی شکل دی گئی، جبکہ یہ مفاہمتی یادداشت جمعے سے باضابطہ طور پر نافذ العمل ہو جائے گی۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ معاہدے کے نفاذ سے خطے میں استحکام پیدا ہوگا، تاہم اس کے لیے تمام فریقین کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی اور ایسے اقدامات سے گریز کرنا ہوگا جو امن عمل کو نقصان پہنچا سکیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں