ملتان (سٹاف رپورٹر) تھانہ ڈی ایچ اے کے علاقے بستی موچی والا، موضع نواب پور اول میں ایک غریب مزدور خاندان پر مبینہ حملے، خواتین پر تشدد اور اغواء کے واقعہ نے شہریوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ متاثرہ خاتون صغراں بی بی کی درخواست پر درج ہونے والی رپورٹ کے مطابق، ملزمان محمد طیب، امیر حمزہ، علی خان، منور سعید اور دیگر نامعلوم افراد نے مبینہ طور پر اس کے گھر پر دھاوا بول کر نہ صرف چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا بلکہ خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا اور قیمتی زیورات بھی چھین لیے۔ درخواست میں بتایا گیا ہے کہ 22 اپریل 2026 کی شام تقریباً 7 بجے متاثرہ خاتون کا بیٹا خوفزدہ حالت میں گھر داخل ہوا اور دروازہ بند کر لیا، تاہم اسی دوران مسلح ملزمان زبردستی دروازہ توڑ کر اندر داخل ہو گئے۔ ملزمان نے مبینہ طور پر خاتون کو تشدد کا نشانہ بنایا، بالوں سے گھسیٹا، کپڑے پھاڑ دیے اور اسے نیم برہنہ کر دیا۔ اسی دوران طلائی زیورات بھی چھین لیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق دیگر خواتین کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ شور سن کر آنے والے رشتہ دار شیراز حسین کو بھی شدید زخمی کر دیا گیا۔ ملزمان نے مبینہ طور پر گھر میں توڑ پھوڑ کی اور متاثرہ خاتون کے بیٹے محمد تصور کو اغواء کر کے لے گئے، جسے بعد ازاں 24 گھنٹے بعد چھوڑ دیا گیا۔درخواست میں اس واقعہ کی وجہ مزدوری کی رقم کا تنازعہ بتائی گئی ہے، جس پر معمولی تکرار کے بعد ملزمان نے مبینہ طور پر انتقامی کارروائی کی۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق اس واقعہ کا مقدمہ مختلف دفعات 148، 149، 337 اور 354 کے تحت درج کیا گیا ہے، جبکہ زخمی شخص کا میڈیکل بھی کروا لیا گیا ہے اور تفتیش جاری ہے۔ تاہم متاثرہ خاندان اور اہل علاقہ کا مؤقف ہے کہ پولیس کی کارروائی جانبدارانہ ہے اور اصل حقائق کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ متاثرین کا الزام ہے کہ پولیس نے ان مدعیان اور مظلوم افراد کی بات سننے کی بجائے مبینہ طور پر بااثر گروپ، جس میں طیب، منور اور اختر و دیگر شامل ہیں، کے حق میں ایف آئی آر درج کی اور مظلوم افراد کا کراس ورژن بنا دیا۔ مزید یہ کہ حیران کن طور پر کراس ورژن میں خود پولیس کے مطابق ملزمان نے گھر میں گھس کر چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا، مگر اس کے باوجود دفعہ 452 (گھر میں زبردستی داخل ہونے) کو شامل نہیں کیا گیا، جو قانونی طور پر بنتی تھی۔ متاثرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مخالف گروپ نے اپنا میڈیکل بھی منظم انداز میں تیار کروا لیا، جس سے کیس کا رخ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ الٹا متاثرہ فریق کے خلاف ہی مقدمہ درج کر لیا گیا، اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں جس نے انصاف کے پورے نظام پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ قسور کی والدہ صغیرہ بی بی نے روزنامہ قوم سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر میرے بیٹے کو کچھ ہوا اس کے ذمہ دار عزیز کالرو کے بیٹے طیب حمزہ، منور سعید اور اختر کالرو ہوگے جو ملزمان کی پشت پناہی کر رہے ہیں شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ایک غریب مزدور کو اس طرح تشدد کا نشانہ بنا کر الٹا اسی پر مقدمہ درج کر دیا جائے تو عام آدمی کہاں جائے؟ شہری حلقوں نے اس صورتحال کو انصاف کے تقاضوں کے منافی قرار دیتے ہوئے اعلیٰ حکام سے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔







