بہاولپور (ڈسٹرکٹ رپورٹر) پاکستان ریلوے کے ملتان ڈویژن میں مالی بدعنوانی، اقربا پروری اور سنگین بے ضابطگیوں کا ایک بڑا اسکینڈل سامنے آ گیا ہے، جس پر وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) ملتان زون نے باقاعدہ انکوائری نمبر 46/26 کا آغاز کر دیا ہے۔ اس معاملے نے نہ صرف ادارے کی شفافیت بلکہ میرٹ اور گورننس پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ذرائع اور دستیاب دستاویزات کے مطابق سول انجینئرنگ کے ایک اہم ترقیاتی منصوبے میں پاکستان پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رولز، فنانشل رولز اور کنٹریکٹ مینجمنٹ کے بنیادی اصولوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی گئی۔ ابتدائی تخمینے کے مطابق تقریباً 68959000 روپے کے منصوبے میں قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔الزام ہے کہ منصوبہ ایک مخصوص نجی کنٹریکٹر کو نوازا گیا، جو مبینہ طور پر متعلقہ افسران کا قریبی ساتھی ہے۔ ذرائع کے مطابق اسی کنٹریکٹر کو بارہا بڑے ٹھیکے دیے جاتے رہے، جو اقربا پروری اور مفادات کے ٹکراؤ (Conflict of Interest) کی واضح مثال ہے۔مزید انکشاف ہوا ہے کہ:منصوبہ طے شدہ شرائط کے مطابق مکمل نہیں کیا گیاکام ادھورا اور ناقص ہونے کے باوجود کمپلیشن سرٹیفکیٹ جاری کیا گیاقواعد کے برخلاف مکمل ادائیگی جاری کر دی گئی دستاویزات کے مطابق ادائیگی کا بڑا حصہ ایسے کام پر کیا گیا جو یا تو سرے سے مکمل نہیں ہوا یا مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتا، جو کہ پبلک فنڈز کے غلط استعمال (Misappropriation of Funds) کے زمرے میں آتا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تمام معاملات ڈویژنل انجینئر ریحان صابر کی تعیناتی کے دوران پیش آئے، جبکہ انسپکٹر آف ورکس عثمان غنی بھی اس کیس میں زیرِ سوال ہیں۔ الزام ہے کہ متعلقہ افسران نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے نہ صرف مخصوص کنٹریکٹر کو فائدہ پہنچایا بلکہ اعتراضات کو دانستہ طور پر نظر انداز کیا۔مزید یہ کہ منصوبے میں تکنیکی اصولوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک غیر معیاری نظام نافذ کیا گیا، جس سے نہ صرف ادارے کی کارکردگی متاثر ہوئی بلکہ سکیورٹی خدشات بھی پیدا ہو گئے۔ ماہرین کے مطابق یہ عمل انجینئرنگ اسٹینڈرڈز اور سیفٹی پروٹوکولز کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ذرائع کے مطابق اس اسکینڈل سے متعلق ویڈیوز، تصاویر اور دیگر ڈیجیٹل شواہد بھی موجود ہیں، جو متعلقہ اداروں کو فراہم کیے گئے، تاہم تاحال مؤثر کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی۔یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ کوٹ ادو کے رہائشی محمد ظفر کی جانب سے متعدد بار شکایات درج کروائی گئیں، مگر نہ تو محکمانہ سطح پر سنجیدگی دکھائی گئی اور نہ ہی کسی ذمہ دار کے خلاف واضح کارروائی کی گئی، جس سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ بااثر عناصر کو تحفظ حاصل ہے۔ادھر ایف آئی اے ملتان زون نے ریکارڈ طلبی کے لیے دو باقاعدہ نوٹسز جاری کیے، جن میں 13 اپریل کا نوٹس بھی شامل ہے، مگر ذرائع کے مطابق ریلوے ملتان ڈویژن کے افسران تاحال مطلوبہ ریکارڈ فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں، جو کہ تحقیقات میں رکاوٹ (Obstruction of Justice) کے زمرے میں آ سکتا ہے۔عوامی و سماجی حلقوں نے اس معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ:انکوائری کو فوری طور پر مکمل کیا جائےملوث افسران اور کنٹریکٹر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائےقومی خزانے کے نقصان کا ازالہ کیا جائےماہرین کے مطابق اگر اس کیس کو منطقی انجام تک نہ پہنچایا گیا تو یہ نہ صرف ادارے کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچائے گا بلکہ عوام کا اعتماد بھی بری طرح متاثر ہوگا۔انہوں نے زور دیا کہ اس کیس کو ایک مثالی احتسابی کارروائی بنایا جائے۔







