ملتان (سٹاف رپورٹر) پاکستان کے زرعی شعبے میں تمام اجناس مگر خصوصی طور پر کپاس کے حوالے سے حالیہ برسوں کے دوران ہونے والی تبدیلیاں اب صرف انتظامی نوعیت تک محدود نہیں رہیں بلکہ ایک واضح گھڑے گھڑائے بحران کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ زرعی معیشت میں تحقیق، تعلیم اور ریگولیشن کے درمیان واضح تقسیم ہونی چاہئے تھی جیسا کہ دنیا بھر میں ہےمگر موجودہ صورتحال میں یہ تمام متعلقہ شعبے ایک ہی مرکز کے گرد سمٹتے دکھائی دیتے ہیں۔مختلف رپورٹس اور زمینی حقائق اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ وفاقی اداروں کی خود مختاری بتدریج ایک محدود دائرہ اختیار میں آتی جا رہی ہے۔ مثال کے طور پر پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی (PCCC) جیسے اہم ادارے کی تحقیقی سرگرمیوں اور کردار کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے ذریعے محدود کر دینا ایک ایسا قدم ہے جس سے نہ صرف ادارے کی شناخت متاثر ہوئی بلکہ کپاس کی تحقیق کا رخ بھی تبدیل ہو کر رہ گیا۔ سب سے بڑھ کر تشویشناک بات ریگولیٹری نظام میں پیدا ہونے والا مفادات کا ٹکراؤ خاص طور پر بیج کی رجسٹریشن اور سرٹیفکیشن کے عمل میں ہے۔ جب تعلیمی، تحقیق اور ریگولیٹری فیصلے ایک ہی دائرے میں آجائیں تو شفافیت اور احتساب کا متاثر ہونا لازمی ہو جاتا ہے۔ فیڈرل سیڈ سرٹیفکیشن اینڈ رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ(FSC&RD) جیسے اداروں کو نئی ساختوں میں شامل کرنے کا رجحان بھی اسی مرکزی کنٹرول ہی کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔اہم سوال یہ ہے کہ کیا ایک ہی محدود حلقہ بیک وقت متعدد پالیسی ساز اداروں پر اثر انداز ہو سکتا ہے؟ جب تمام فیصلے ایک ہی سطح پر طے ہوں اور مشاورت کا عمل انتہائی محدود ہو جائے تو توازن برقرار رکھنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس انتظامی ارتکاز کا فائدہ بالآخر ایسے عناصر کو پہنچتا ہے جو غیر معیاری بیج اور زرعی مداخلات کے کاروبار سے وابستہ ہیں کیونکہ نگرانی کا نظام کمزور پڑ جاتا ہے۔ اس انتظامی بحران کا ایک اور تشویشناک پہلو عالمی سطح پر پاکستان کے زرعی وقار کو پہنچنے والا نقصان ہے۔ جب بین الاقوامی ادارے دیکھتے ہیں کہ ایک ایٹمی ملک کا پورا زرعی ڈھانچہ، بیج کی منظوری سے لے کر کپاس کی تحقیق تک صرف ایک وحدت کے گرد گھوم رہا ہے تو نظام کی شفافیت سے اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ جدید دنیا میں ادارے سسٹم کے تحت چلتے ہیں نہ کہ افرادکی مرہون منت رکھے جاتے ہیں۔یہ اس سائنسی جمہوریت کے بھی خلاف ہے جو کسی بھی ترقی یافتہ زرعی ملک کا خاصہ ہوتی ہے۔ اس اجارہ داری نے بین الاقوامی اشتراکِ عمل کے راستے مسدود کر دیے ہیں کیونکہ تمام غیر ملکی ڈونرز کے رابطوں کارخ صرف ایک ہی مرکزیت تک محدود ہو کر رہ گیا ہے جس سے پورے شعبے کی ترقی کی رفتار سست روی اور تنزلی کا شکار ہو چکی ہے۔ متعلقہ زرعی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ زراعت جیسے حساس شعبے میں شخصی غلبے کےبجائے مضبوط اور خودمختار اداروں کو ترجیح دے۔ کسی ایک فرد یا گروہ کو نظام سے بڑا بننے دینا ملک کی غذائی سلامتی کے لیے خطرناک اور تباہ کن ہو سکتا ہے جو کہ تیزی سے ہو رہا ہے۔ اگر بروقت آڈٹ اور اصلاحات نہ کی گئیں تو زرعی بحالی کے دعوے محض کاغذی حد تک محدود رہ جائیں گے پاکستان جیسا ملک جو پہلے ہی پانی اور غذا کی قلت کا شکار ہے اور جہاں آبادی کا بڑھاؤ کسی کنٹرولز میں بھی نہیں تو یہاں صورتحال اور بھی سنگین ہوتی جا رہی ہے ۔
Pakistan agriculture crisis, cotton crisis Pakistan, PCCC issues, Federal Seed Certification Department, FSC RD Pakistan, agricultural policy Pakistan







