برف پگھل گئی، ایران امریکا پھر پاکستان میں

اسلام آباد،تہران،واشنگٹن (بیورو رپورٹ، نیوز ایجنسیاں)پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے باعث مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمےکی امیدروشن ہوگئی۔برف پگھل گئی،ایران اور امریکا پھر پاکستان میں مذاکرات پرتیارہوگئے۔امریکی میڈیاکے مطابق صدرٹرمپ نے سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنرکواسلام آباد بھیجنے کا فیصلہ کیاہے۔فیلڈ مارشل عاصم منیر اور اسحاق ڈار نےایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی سے اہم ٹیلی فونک رابطہ کیا۔ وزیرخارج اسحاق ڈار نے روسی وزیر خارجہ سےبھی رابطہ کیا۔ایرانی میڈیاکےمطابق عباس عراقچی اسلام آباد کے ساتھ مسقط، ماسکو کابھی دورہ کرینگے۔امریکی وزیر جنگ نےکہاہےکہ ایران دانشمندی سے فیصلہ کرے۔صدر ٹرمپ نےکہاہےکہ عوام کوپیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کا سامنا رہے گا۔وزیراعظم شہبازشریف نے کہاہےکہ پاکستان امن کیلئے کوشاں ہے۔تفصیل کےمطابق دو امریکی حکام نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر کو مذاکرات کے لیے اسلام آباد بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا فی الحال پاکستان آنے کا ارادہ نہیں، جے ڈی وینس اس لیے پاکستان نہیں آرہے کہ اس بار ایرانی سپیکر باقر قالیباف مذاکرات کا حصہ نہیں ہیں۔امریکی حکام کے مطابق باقر قالیباف کو ایرانی وفد کے سربراہ اور جے ڈی وینس کے ہم منصب کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ مذاکرات آگے بڑھتے ہیں تو جے ڈی وینس کسی بھی وقت پاکستان آنے کے لیے تیار ہیں، جے ڈی وینس کا عملہ اسلام آباد میں ہوگا اور مذاکرات کا حصہ رہے گا۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی وفد آج ہفتے کی رات تک اسلام آباد پہنچ سکتا ہے۔پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق امریکا کی سکیورٹی اور لاجسٹک ٹیم پہلے ہی پاکستان میں موجود ہے۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی مصالحتی ٹیم کے ساتھ ہونے والی اہم بات چیت اور مشاورت کے نتیجے میں اب اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کا قوی امکان پیدا ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں امریکا کی لاجسٹک اور سیکیورٹی ٹیمیں پہلے ہی اسلام آباد میں موجود ہیں تاکہ مذاکراتی عمل کے لیے ضروری انتظامات کو یقینی بنایا جاسکے۔دریں اثناایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی آج سے اسلام آباد، مسقط اور ماسکو کا دورہ کریں گے۔ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ دورے کا مقصد خطے میں جاری پیشرفت، جنگ کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لینا ہے۔ایرانی وزیر خارجہ دورہ اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کرینگے، عباس عراقچی اسلام آباد کے بعد مسقط اور ماسکو بھی جائیں گے۔خبرایجنسی کے مطابق عباس عراقچی دوطرفہ مشاورت اور خطے کی صورتحال پر سیاسی رہنماؤں سے تبادلہ خیال کریں گے، ایران پر امریکا اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کی تازہ صورتحال پر بھی گفتگو کریں گے۔قبل ازیںسماجی رابطے کی سائٹ ایکس (ٹویٹر) پر پوسٹ میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے لکھا کہ اسلام آباد، مسقط اور ماسکو کے بروقت دورے پر روانہ ہو رہا ہوں، دوروں کا مقصد شراکت دار ممالک کے ساتھ دوطرفہ امور پر قریبی رابطہ اور مشاورت ہے، علاقائی صورتحال اور تازہ پیش رفت پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا، ہمارے پڑوسی ممالک ہماری اولین ترجیح ہیں، ایران خطے میں تعاون، رابطوں اور سفارتی مشاورت کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔قبل ازیں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار کا ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے اہم ٹیلی فونک رابطہ بھی ہوا۔ٹیلی فونک رابطے میں علاقائی صورتحال، جنگ بندی اور اسلام آباد کی جانب سے جاری سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق، اسحاق ڈار نے خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے فروغ کے لیے مسائل کے حل میں مسلسل اور بامعنی مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس موقع پر پاکستان کے مثبت اور تعمیری سہولت کاری کے کردار کو سراہا اور خطے میں امن کے لیے اسلام آباد کی کاوشوں کو اہم قرار دیا۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے باہمی رابطوں کو مزید مضبوط بنانے اور آئندہ بھی قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔علاوہ ازیں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے ٹیلیفونک گفتگو ہوئی۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اور روس کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور عالمی فورمز پر تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق گفتگو کے دوران عالمی امن و سلامتی کے فروغ کیلئے مشترکہ کوششوں پر زور دیا گیا۔روسی وزیر خارجہ نے ایران امریکا مذاکرات میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی، اسحاق ڈار نے مسائل کے حل کیلئے مکالمے اور سفارتکاری جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔قبل ازیںنائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت اہم اجلاس ہوا۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اجلاس میں سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ اور سینئر حکام نے شرکت کی، علاقائی و عالمی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ترجیحی امور پر مؤثر اور مسلسل سفارتی رابطوں پر زور دیا۔ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق انہوں نے علاقائی چیلنجز کے حل کیلئے مذاکرات کی اہمیت پر تاکید کی، دفترِ خارجہ میں پالیسی سطح پر متحرک حکمتِ عملی کی ہدایت کی۔ادھرامریکی وزیرِ جنگ اور دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ ایران کے پاس اب بھی موقع ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر دانشمندی سے فیصلہ کرے، تاہم وقت اس کے حق میں نہیں رہا۔پینٹاگون میں جنرل کین ڈین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف جاری دباؤ اور ناکہ بندی اس وقت تک برقرار رکھی جائے گی جب تک اسے ضروری سمجھا جائے گا، امریکا کو توانائی کے وسائل کی کوئی کمی نہیں اور وہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا۔امریکی وزیرِ دفاع نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز پر امریکا کا کنٹرول ہے اور اس کی اجازت کے بغیر کوئی جہاز وہاں سے گزر نہیں سکتا، انہوں نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ بحری قزاقوں کی طرح مختلف جہازوں پر فائرنگ کر رہا ہے۔اس موقع پر امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین کا کہنا ہے کہ ایران اپنے پڑوسی ممالک پر حملہ اور گلوبل شپنگ پر ٹیکس عائد کرکے تنازعہ کو بڑھانا چاہتا ہے، دو ایسے جہاز قبضے میں لیے گئے جو ایرانی بندرگاہوں سے روانہ ہوئے تھے۔دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی عوام کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث مزید کچھ عرصے تک پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا سامنا کرنا پڑے گا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ان خیالات کا اظہار امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکیوں کو تھوڑے عرصے کے لیے پیٹرول کی زیادہ قیمتیں ادا کرنا ہوں گی تاہم بدلے میں انھیں ایک ایسا ایران ملے گا جو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرسکے گا اور نہ ہی امریکی شہروں یا پورے مشرق وسطیٰ کو خطرے میں ڈال سکے گا۔صدر ٹرمپ نے مستقل جنگ بندی کے لیے ایران کو دی گئی تازہ پیشکش پر ردعمل کے حوالے سے کوئی حتمی ٹائم لائن دینے سے بھی گریز کیا اور صحافیوں سے کہا کہ مجھے جلدی میں نہ ڈالیں۔انھوں نے ماضی کی امریکی جنگوں جیسے کیوبا وغیرہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس سے کہیں زیادہ طویل رہی ہیں۔امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے اندرونی اختلافات اسے امریکا کے ساتھ مذاکرات میں متحدہ مؤقف اختیار کرنے سے روک رہے ہیں۔صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ آپس میں اقتدار کے لیے لڑ رہے ہیں اور ہم نے ان کے لیے ایک بڑا مسئلہ کھڑا کر دیا ہے۔امریکی صدر نے مزید کہا کہ امریکا اپنے تقریباً 75 فیصد اہداف حاصل کر چکا ہے اور کارروائیاں بنیادی طور پر اس لیے روکی گئیں کیونکہ ایران جنگ بندی کا خواہاں تھا۔دوسری جانب وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ عالمی پیچیدہ سکیورٹی چیلنجز کے باوجود پاکستان دنیاوی امن کیلئے کوشاں ہے۔وفاقی دارالحکومت میں کثیرالجہتی اور سفارت کاری کے ذریعے امن کےعالمی دن کے موقع پر پیغام میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ایسے وقت میں جب عالمی برادری کو پیچیدہ سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، پاکستان علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کے راستے کو فروغ دے رہا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں