اسلام آباد میں 21 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے ایران امریکا مذاکرات بغیر کسی حتمی معاہدے کے ختم ہو گئے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح طور پر کہا کہ وہ بغیر کسی ڈیل کے واپس جا رہے ہیں اور انہوں نے ایران پر الزام لگایا کہ وہ امریکی شرائط کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ دوسری طرف ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا نے ایسے مطالبات پیش کیے جو وہ جنگ کے دوران بھی حاصل نہیں کر سکا تھا۔ یہ مذاکرات کی ناکامی دراصل امریکی جنگی جنون کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ایران نے مذاکرات میں مثبت پیشکش کی۔ ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ دو سے تین اہم نکات پر اختلافات برقرار رہے، ورنہ بیشتر امور پر پیش رفت ہوئی تھی۔ ایران نے اپنے جوہری حقوق، آبنائے ہرمز کی حفاظت، اور جنگی ہرجانے جیسے معاملات پر بات کی، لیکن امریکا نے اپنی سخت شرائط پر اصرار کیا۔ امریکا چاہتا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کر دے، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اسے پرامن جوہری ٹیکنالوجی کا حق ہے۔
مذاکرات کے خاتمے کے فوری بعد ترک صدر رجب طیب اردگان نے اسرائیل کو سخت دھمکی دی۔ انہوں نے کہا کہ “ہم اسرائیل میں ایسے ہی گھس سکتے ہیں جیسے لیبیا اور کاراباخ میں داخل ہوئے تھے”۔ اردگان نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو ہٹلر قرار دیا اور کہا کہ اسرائیل نے جنگ بندی کے دن بھی سیکڑوں لبنانی قتل کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں 72,000 شہری مارے جا چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔
لیکن کیا صرف ترکیہ کی دھمکیاں کافی ہیں؟ اسرائیل مسلم کشی میں مصروف ہے۔ لبنان میں 12 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں، 1500 سے زائد شہید ہوئے ہیں، اور 4700 زخمی ہیں۔ جنگ بندی کے اعلان کے دن ہی اسرائیل نے 254 لبنانیوں کو قتل کر دیا۔ فلسطین میں روزانہ شہید ہونے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ اور مسلم ممالک خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
مسلم ممالک کو اب منہ توڑ جواب دینا چاہیے۔ ترکیہ نے اپنی دھمکی دے دی ہے، لیکن اس دھمکی کو عملی شکل دینے کے لیے دوسرے مسلم ممالک کا تعاون ضروری ہے۔ ایران نے امریکی جارحیت کا سامنا کرتے ہوئے پوری دنیا کو دکھا دیا کہ وہ کس طرح اپنی خودمختاری کا دفاع کر سکتا ہے۔ اب خلیجی ممالک کی باری ہے کہ وہ اپنے اصل دشمن کو پہچانیں۔
خلیجی ممالک ہمیشہ امریکا کے ساتھ کھڑے رہے، لیکن دیکھا یہ گیا کہ امریکا نے انہیں ایرانی میزائلوں سے بچانے کی بجائے اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا۔ آبنائے ہرمز کی بندش نے خلیجی ممالک کی معیشتوں کو تباہ کر دیا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ خلیجی ممالک امریکا کی بجائے مسلم امہ کے ساتھ کھڑے ہوں۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین اور عمان — سب کو مل کر ایک مشترکہ دفاعی حکمت عملی بنانی چاہیے۔ انہیں اسرائیل کے خلاف اقتصادی پابندیاں لگانی چاہئیں، تیل کی سپلائی بند کرنی چاہیے، اور ایران، ترکیہ، پاکستان کے ساتھ مل کر فوجی منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔
پاکستان نے اس مذاکراتی عمل میں ثالثی کر کے ثابت کیا کہ وہ خطے میں امن کا معمار ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دن رات ایک کر کے اس معاہدے کو ممکن بنانے کی کوشش کی، لیکن امریکا کی سخت رویے کی وجہ سے مذاکرات ناکام ہو گئے۔ اب پاکستان کو بھی اپنی حکمت عملی تبدیل کرنی ہوگی۔
پاکستان کو چاہیے کہ وہ ایران، ترکیہ اور دیگر مسلم ممالک کے ساتھ مل کر اسرائیل کے خلاف مشترکہ محاذ بنائے۔ پاکستان کے پاس ایٹمی قوت ہے، اور وہ اس قوت کو خطے میں امن کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ مسلم ممالک آپس میں متحد ہوں۔
اسرائیل آج لبنان کو تباہ کر رہا ہے، کل شام کو نشانہ بنائے گا، پرسوں عراق کو، اور پھر ایران کو۔ اگر آج ہم نے انہیں روکا نہیں، تو کل ہم سب کی باری ہوگی۔ مسلم امہ کو اب جاگنا ہوگا۔
خلیجی ممالک کو یہ سمجھنا ہوگا کہ امریکا ان کا دوست نہیں، دشمن ہے۔ امریکا نے انہیں کبھی اپنا مفید احمق بنا کر رکھا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اپنی آنکھیں کھولیں اور اپنے اصل دشمن کو پہچانیں۔
آخر میں ہم تمام مسلم ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر متحد ہو کر اسرائیل کے خلاف عملی اقدامات کریں۔ صرف بیانات سے کام نہیں چلے گا۔ اب ہمیں اپنی تلواروں کا خون خشک ہونے سے پہلے اٹھا لینا چاہیے۔ ورنہ تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔اللہ تعالیٰ مسلم امہ کو اتحاد کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔







