اسلامیہ یونیورسٹی، خزانچی و ٹھیکیدار کا گٹھ جوڑ، جعلسازی سے کروڑوں کی لوٹ مار

ملتان (سٹاف رپورٹر) اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں نئے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد کامران کی سربراہی میں ہونے والے انٹرویو کے بعد تعینات ہونے والے خزانچی طارق محمود شیخ جو کہ کرپشن میں ملوث سابقہ وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب کے دور میں ان کے فرنٹ مین رہے، کی جانب سے ٹھیکیدار کی ملی بھگت سے 42 کروڑ روپے کے مالیاتی اسکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد 5 کروڑ کے جعلی چیکس کی تحقیقات جیسے جیسے آگے بڑھ رہی ہیں، ویسے ویسے انکشافات کی شدت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اب سامنے آنے والی تازہ دستاویزات نے اس سکینڈل کو محض بدعنوانی نہیں بلکہ ایک منظم، منصوبہ بندی اور انتہائی مہارت سے چھپائے گئے “وائٹ کالر کرائم” کا روپ دے دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، جن متنازعہ بلوں کی بنیاد پر کروڑوں روپے کے چیکس جاری کیے گئے، وہ خود خزانچی آفس یا یونیورسٹی کے کسی بھی متعلقہ شعبے میں خزانچی کے سابقہ دور میں سرے سے موجود ہی نہیں تھے۔ یہ ایک ایسا انکشاف ہے جو اس بات کی طرف واضح اشارہ کرتا ہے کہ یہ بل بعد ازاں کسی خفیہ منصوبہ بندی کے تحت “پیدا” کیے گئے۔ اب سب سے بڑا سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ آخر یہ بل چیک سیکشن میں کیسے نمودار ہوئے اور کس کے حکم پر ان پر ادائیگیوں کا عمل شروع کیا گیا؟ دستاویزات کے مطابق ایک اور نہایت سنگین بے ضابطگی اس طرح سامنے آئی ہے کہ ان بلوں کو مالی سال 2022-23 کے بجٹ میں سرے سے نہیں رکھا گیا جبکہ ان کے چیکس 2025 اور اس کے بعد تیار کیے گئے۔ حیران کن طور پر ان چیکس پر تاریخ جون 2025 درج کی گئی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ریکارڈ کو جان بوجھ کر بیک ڈیٹ کر کے جعلسازی کا سہارا لیا گیا۔ مزید تہلکہ خیز انکشاف آئی ٹی سسٹم کے لاگز سے سامنے آیا ہے، جس کے مطابق یہ چیکس درحقیقت اگست اور ستمبر 2025 میں تیار کیے گئے جب ڈاکٹر محمد کامران وائس چانسلر تھے، جبکہ ریکارڈ میں یہ ظاہر کیا گیا کہ یہ جولائی 2025 کے اوائل میں ہی ٹھیکیداروں کو جاری کر دیے گئے تھے۔ ماہرین کے مطابق یہ نہ صرف تکنیکی طور پر ناممکن ہے بلکہ یہ کھلی بددیانتی، ریکارڈ میں رد و بدل اور ایک منظم مجرمانہ سازش کا ثبوت ہے۔ حیران کن طور پر ایک چیک ہفتہ کے روز تیار کیا گیا، جو سرکاری قواعد و ضوابط کی صریح خلاف ورزی ہے اور اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ پورا عمل غیر معمولی طریقے سے خفیہ رکھا گیا۔ مزید برآں، زیادہ تر متنازعہ بل چھوٹی مالیت یعنی ایک لاکھ روپے سے کم کے تھے، جو قواعد کے مطابق ایڈیشنل خزانچی کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ تاہم، شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ اس اختیار کو مبینہ طور پر دانستہ طور پر استعمال کر کے بڑے فراڈ کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کیا گیا تاکہ نگرانی کے نظام کو دھوکہ دیا جا سکے۔ ریکارڈ کے مطابق مجموعی طور پر 280 چیکس تیار کیے گئے، جن میں سے 10 سے زائد چیکس دو لاکھ روپے سے زائد مالیت کے تھے جبکہ باقی 270 چیکس ایک لاکھ روپے سے کم کے تھے۔ حیران کن طور پر یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ بڑے مالیت کے چیکس دراصل متعدد چھوٹے بلوں کو مصنوعی طور پر یکجا کر کے بنائے گئے، جو بدنیتی اور فراڈ کی ایک اور واضح مثال ہے۔ تعلیمی و مالیاتی ماہرین اس پورے کیس کو اب “سسٹیمیٹک فنانشل انجینئرنگ آف کرپشن قرار دے رہے ہیں، جہاں نہ صرف ریکارڈ کو مسخ کیا گیا بلکہ جدید آئی ٹی سسٹمز کو بھی دھوکہ دینے کی کوشش کی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس سطح کی جعلسازی ایک سرکاری یونیورسٹی میں ممکن ہے تو یہ پورے مالیاتی نظم و نسق کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ یونیورسٹی کے اندر اور باہر سے مطالبات میں شدت آتی جا رہی ہے کہ اس معاملے کی فوری طور پر فرانزک آئی ٹی آڈٹ کروایا جائے، چیک سیکشن، اکاؤنٹس برانچ اور متعلقہ افسران کا مکمل ڈیجیٹل فرانزک کیا جائے اور اس پورے نیٹ ورک کو بے نقاب کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔ یاد رہے کہ یہ نئے تعینات ہونے والے خزانچی طارق محمود شیخ وہی ہیں جنہوں نے ٹھیکیدار سے ساز باز ہو کر بطور ڈپٹی خزانچی 42 کروڑ کے انڈیمنٹی بانڈ پر بغیر سینڈیکیٹ کی منظوری کے دستخط کر کے ادارے کو کروڑوں کا نقصان پہنچایا۔ اور پھر گزشتہ سال ایسے280 چیکس جاری کیے جن کا حساب کتاب خزانچی آفس میں موجود ہی نہیں تھا۔ اور پھر ان کی کرپشن کے ریوارڈ میں ان کو ہی خزانچی بنوا دیا گیا جو کہ ادارے کی شفافیت پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اس بارے میں وائس چانسلر ڈاکٹر محمد کامران کا چیف ایڈیٹر روزنامہ قوم میاں غفار کو موقف دیتے ہوئے بتایا کہ یہ معاملہ پروب کمیٹی کی زیرِ تفتیش ہے اور قواعد و ضوابط کے مطابق سماعت اور فیصلے کے لیے سنڈیکیٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ چونکہ کمیٹی کو PD اور اس کے عملے کے بیانات بھی شامل کرنے ہیں جو اس وقت موجود نہیں ہیں، اس لیے یہ ضروری ہے۔ یہ تمام کام چند سال پہلے کیے گئے تھے، موجودہ دورِ تعیناتی میں نہیں، لہٰذا وضاحت اور جواز درکار ہے کیونکہ مجھے اس وقت کیے گئے کام کے بارے میں یقین نہیں کہ وہ مکمل ہوا تھا یا نہیں۔ اگر کام ہو چکا ہوگا تو معاملات ٹھیک رہیں گے، بصورتِ دیگر کارروائی کی جائے گی۔ خزانچی کو بھی اپنا مؤقف بیان کرنے کا موقع دیا جائے تاکہ انصاف ہو سکے۔ خزانچی کا انٹرویو اور تمام عمل ان چیکس کے اجرا اور کلیم سے کافی پہلے مکمل کیا جا چکا تھا، اور تمام ضابطہ جاتی کارروائیاں پوری کرنے کے بعد اسے HED کو بھجوا دیا گیا تھا۔یہ جانچنا ضروری ہے کہ آیا یہ بلز اصل ہیں یا نہیں؟ اور کیا ادائیگیوں کے لیے قواعد و ضوابط پر عمل کیا گیا ہے؟ ان تمام معاملات پر سنڈیکیٹ میں بحث کی جائے گی اور ضروری کارروائی کی جائے گی۔ چونکہ مجھے سابقہ طریقہ کار کے بارے میں یقین نہیں ہے، کیونکہ کوئی بھی چیک وائس چانسلر کے ذریعے نہیں گزرتا تھا۔ مزید برآں، ٹھیکیدار کون ہے اور اس کا کام کا ریکارڈ کیا ہے؟ اب نئے قواعد کے تحت تمام افسران کے مالی اختیارات ختم کر دیے گئے ہیں۔ اب تمام چیکس کام کی تصدیق کے بعد وائس چانسلر کے پاس دستخط کے لیے آتے ہیں اور ان کا ریکارڈ بھی محفوظ رکھا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ ڈبل انٹری سسٹم کے نفاذ تک جاری رہے گا۔ ہمارا آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ اس پر کام کر رہا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں