راجن پور گندم اسکینڈل،عوام کے منہ کا نوالہ چھیننے کا کھیل

ضلع راجن پور میں گندم خریداری میں کروڑوں روپے کی بے ضابطگیوں اور آٹھ ہزار بوریوں کے غائب ہونے کا انکشاف نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ یہ ہمارے سرکاری نظام میں موجود گہرے نقائص کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ گندم جیسی بنیادی غذائی شے میں کرپشن کا سامنے آنا دراصل عوام کے منہ سے نوالہ چھیننے کے مترادف ہے، جو کسی بھی معاشرے میں ناقابلِ برداشت ہونا چاہیے۔رپورٹس کے مطابق نہ صرف ہزاروں بوریاں غائب کی گئیں بلکہ جو گندم سرکاری گوداموں میں موجود تھی، اس میں مٹی ملا کر فلور ملز کو فراہم کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ عمل محض مالی بدعنوانی نہیں بلکہ عوام کی صحت کے ساتھ سنگین کھیل بھی ہے۔ ایسے اقدامات اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ کچھ عناصر ذاتی مفاد کے لیے نہ صرف قانون بلکہ انسانی اقدار کو بھی پامال کرنے سے گریز نہیں کرتے۔یہ پہلا موقع نہیں کہ محکمہ خوراک میں بدعنوانی کے الزامات سامنے آئے ہوں۔ ماضی میں بھی مختلف اضلاع سے گندم خریداری، ذخیرہ اندوزی اور تقسیم کے عمل میں بے ضابطگیوں کی خبریں آتی رہی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیوں بار بار ایک ہی نوعیت کے اسکینڈلز سامنے آتے ہیں؟ اس کا سیدھا سا جواب نظام کی کمزوری، نگرانی کے فقدان اور احتساب کے غیر مؤثر طریقہ کار میں پوشیدہ ہے۔حکومت کی جانب سے فوری کارروائی، مقدمات کا اندراج اور تحقیقات کا آغاز یقیناً ایک مثبت قدم ہے، لیکن یہ اقدامات اس وقت تک مؤثر ثابت نہیں ہوں گے جب تک ان کا انجام منطقی انجام تک نہ پہنچے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ابتدائی شور شرابے کے بعد ایسے کیسز سرد خانے کی نذر ہو جاتے ہیں اور ذمہ داران بچ نکلتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بدعنوان عناصر کو کھلی چھوٹ مل جاتی ہے۔گندم جیسے حساس معاملے میں شفافیت اور سخت نگرانی ناگزیر ہے کیونکہ یہ براہِ راست عوامی مفاد سے جڑا ہوا ہے۔ اگر خریداری کے عمل میں ہی کرپشن ہو جائے تو اس کے اثرات پورے سپلائی چین پر پڑتے ہیں، جس کے نتیجے میں آٹے کی قلت، قیمتوں میں اضافہ اور عوامی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس تناظر میں راجن پور کا یہ اسکینڈل ایک بڑے بحران کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ محکمہ خوراک کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔ ڈیجیٹل مانیٹرنگ، شفاف خریداری کے نظام اور آزادانہ آڈٹ جیسے اقدامات کے ذریعے کرپشن کے امکانات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ذمہ دار افسران کے خلاف سخت اور مثالی کارروائی بھی ضروری ہے تاکہ آئندہ کوئی بھی شخص ایسے گھناونے عمل کی جرأت نہ کر سکے۔یہ بھی اہم ہے کہ عوامی نمائندے اور متعلقہ حکام اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں اور اسے محض ایک وقتی اسکینڈل کے طور پر نظرانداز نہ کریں۔ اگر گندم جیسے بنیادی شعبے میں بدعنوانی پر قابو نہ پایا گیا تو اس کے اثرات نہ صرف معیشت بلکہ عوامی اعتماد پر بھی پڑیں گے۔آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ راجن پور کا گندم اسکینڈل ایک وارننگ ہے۔ اگر اب بھی اصلاحات نہ کی گئیں تو ایسے واقعات دوبارہ جنم لیتے رہیں گے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ شفافیت، احتساب اور دیانتداری کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو ان کا حق مل سکے اور ریاستی اداروں پر اعتماد بحال ہو۔

شیئر کریں

:مزید خبریں