بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت مالی امداد کی تقسیم کے دوران پیش آنے والا افسوسناک واقعہ جس میں متعدد خواتین جاں بحق اور زخمی ہوئیں، صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ انتظامی ناکامی، بدانتظامی اور مستحقین کے حقوق سے کھلواڑ کا المیہ ہے۔ ڈپٹی کمشنر ظہیر انور جپہ کی ہدایت پر تشکیل دی گئی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ نے اس واقعے کی اصل وجوہات سے پردہ اٹھایا ہے اور کئی اہم انکشافات کیے ہیں۔انکوائری رپورٹ کے مطابق اس سانحے کی بنیادی وجوہات میں انتظامی غفلت، ناقص منصوبہ بندی اور غیر موثر نگرانی شامل ہیں۔ سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ متعلقہ ایجنٹ نے جان بوجھ کر دکان کی پہلی منزل پر کیش تقسیم کا انتظام کیا، جبکہ بڑی تعداد میں مستحق خواتین کی آمد متوقع تھی۔ یہ انتظام نہ صرف غیر دانشمندانہ تھا بلکہ خواتین کی زندگیوں سے کھلواڑ کے مترادف تھا۔امداد میں کٹوتی کے باعث شدید بدنظمی پیدا ہوئی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ نظام میں شفافیت کا شدید فقدان ہے۔ مستحق خواتین کو پہلے ہی معاشی مشکلات کا سامنا ہے، ان پر کٹوتی کا مزید بوجھ ڈالنا اور پھر ان کی جانوں سے کھلواڑ کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ بیٹھنے اور دیگر سہولیات کا کوئی مناسب انتظام نہ کرنا بھی انتظامی کوتاہی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔عمارت کی چھت کا ناقص تعمیر کے باعث گرنا بتاتا ہے کہ حفاظتی معیارات کو یکسر نظر انداز کیا گیا۔ محض ایک گارڈر اور ٹی آئرن کا سہارا دیا گیا تھا جو بوجھ برداشت کرنے کے لیے ناکافی تھا۔ یہ صرف انتظامی ناکامی نہیں بلکہ مجرمانہ غفلت ہے جس کی ذمہ داری متعلقہ افسران پر عائد ہوتی ہے۔
صادق آباد اور رحیم یار خان میں مانیٹرنگ افسران کی اسامیوں کا خالی ہونا اور بی آئی ایس پی کے ڈپٹی ڈائریکٹر کی جانب سے انتظامی گرفت کا فقدان اس نظام کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ مائیکرو فنانس بینک کی جانب سے حفاظتی اقدامات کے حوالے سے کوئی واضح ہدایات جاری نہ کرنا بھی ایک اہم کوتاہی ہے۔ نجی ایجنٹ کا واقعے کے بعد موقع سے فرار ہونا اس کی مجرمانہ ذمہ داری کو ظاہر کرتا ہے۔انکوائری کمیٹی کی سفارشات اگرچہ جامع ہیں لیکن ان پر عملدرآمد سب سے اہم ہے۔ امداد کی تقسیم کے لیے کھلی اور محفوظ جگہوں کا انتخاب، کارڈ سسٹم کے ذریعے ادائیگی کو فروغ دینا، موثر ہجوم کنٹرول پلان تشکیل دینا اور ہنگامی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔کمیٹی نے ذمہ دار افسران اور متعلقہ ایجنٹ کے خلاف محکمانہ اور فوجداری کارروائی کی سفارش کی ہے۔ یہ اقدام انتہائی ضروری ہے تاکہ مستقبل میں کوئی بھی افسر یا ایجنٹ مستحقین کی زندگیوں سے کھلواڑ کرنے کی جرات نہ کر سکے۔ متاثرین کے لیے مالی امداد کی سفارش بھی قابل تحسین ہے، جس کے تحت جاں بحق افراد کے ورثاء کے لیے 10 لاکھ روپے، مستقل معذوری کی صورت میں 3 لاکھ روپے، شدید زخمیوں کے لیے 1 لاکھ روپے اور معمولی زخمی افراد کے لیے 40 ہزار روپے دینے کی تجویز دی گئی ہے۔تاہم یہ مالی امداد کسی بھی طرح انسانی جانوں کی قیمت نہیں ہو سکتی۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ تمام تقسیم مراکز پر سیکیورٹی، ہجوم کنٹرول اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ عمارتوں کے استعمال سے قبل ان کی ساختی جانچ کو لازمی قرار دیا جائے۔ فیلڈ مانیٹرنگ کے نظام کو موثر بنایا جائے تاکہ کسی بھی قسم کی کوتاہی کو فوری طور پر نوٹس کیا جا سکے۔
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا سب سے بڑا سماجی تحفظ کا پروگرام ہے جو لاکھوں مستحق خواتین کو مالی امداد فراہم کرتا ہے۔ لیکن اس پروگرام کا اصل مقصد صرف رقم تقسیم کرنا نہیں بلکہ مستحق خواتین کو بااختیار بنانا اور ان کی زندگیوں میں بہتری لانا ہے۔ اگر اسی پروگرام کی وجہ سے ان کی جانیں خطرے میں پڑ جائیں تو یہ بڑی ستم ظریفی ہوگی۔حکومت کو چاہیے کہ وہ اس سانحے سے سبق سیکھتے ہوئے بی آئی ایس پی فنڈز کی تقسیم کے نظام کو بنیادی طور پر تبدیل کرے۔ ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام کو فروغ دے تاکہ خواتین کو بھیڑ میں جانے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔ بینک اکاؤنٹس کے ذریعے ادائیگی کو یقینی بنائے۔ اور اگر نقد رقم کی تقسیم ناگزیر ہو تو اس کے لیے محفوظ اور وسیع مقامات کا انتخاب کرے جہاں خواتین کو کسی قسم کا خطرہ نہ ہو۔آخر میں ہم امید کرتے ہیں کہ انکوائری رپورٹ کی سفارشات پر سنجیدگی سے عملدرآمد کیا جائے گا اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ مستحق خواتین کا حق کھانا اور ان کی جانوں سے کھلواڑ کرنا کسی صورت برداشت نہیں کیا جانا چاہیے۔






