پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کی تاریخ کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ یہ تعلقات نہ صرف سفارتی اور اقتصادی سطح پر مضبوط ہیں بلکہ دفاعی تعاون بھی ان کا اہم ستون ہے۔ ستمبر 2025 میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سٹریٹجک میوچل ڈیفنس ایگریمنٹ (SMDA) پر دستخط ہوئے، جس کے تحت کسی تیسرے ملک کی جانب سے دونوں ممالک میں سے کسی ایک پر حملے کو دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جاتا ہے ۔ اس معاہدے نے پاک سعودی تعلقات کو ایک نئی جہت دی ہے اور خطے میں امن کے لیے دونوں ممالک کے عزم کو ظاہر کیا ہے۔
اسی تناظر میں وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی عرب کا دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات میں وزیراعظم نے “آزمائشی حالات میں سعودی عرب کی بھرپور حمایت اور مکمل یکجہتی” کا اعادہ کیا ۔ اس ملاقات میں آرمی چیف عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحق ڈار کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اس معاملے کو کتنی سنجیدگی سے لے رہا ہے۔دونوں رہنماؤں کے درمیان خطے میں حالیہ پیشرفت پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مشترکہ طور پر کام جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ یہ دورہ اس وقت ہوا جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے تھے اور ایران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں پر جوابی حملے کیے تھے ۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ اعتدال اور توازن کی علمبردار رہی ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں واضح کیا کہ پاکستان کا اصولی موقف خودمختاری، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے احترام اور مسائل کے حل کے لیے مذاکرات و سفارتکاری پر مبنی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہی اعتماد پاکستان کو مختلف متعلقہ دارالحکومتوں کے درمیان رابطے کا ایک موثر ذریعہ بناتا ہے۔پاکستان نے ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں اور ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر حملوں دونوں کی مذمت کی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان بین الاقوامی قانون، مذاکرات اور جنگ بندی پر زور دیتا رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات میں پاکستانی شہریوں کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا گیا اور ان کی باڈیز وطن واپس لانے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں ۔ ایران سے پاکستانی شہریوں کی محفوظ واپسی کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں اور 792 پاکستانی شہریوں کو وطن واپس لایا جا چکا ہے ۔
پاک ایران تعلقات کی بات کی جائے تو وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فونک گفتگو میں ایران پر امریکی اور اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی اور ایرانی حکومت اور عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا ۔ انہوں نے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت کا اظہار بھی کیا۔ یہ پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ وہ ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ رکھتا ہے تو دوسری طرف ایران کے ساتھ بھی برادرانہ تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے۔
نائب وزیراعظم اسحق ڈار نے انکشاف کیا کہ وہ اس وقت سعودی عرب میں تھے جب یہ تنازع شروع ہوا اور انہوں نے سعودی عرب اور ایران کے وزرائے خارجہ سے فوری رابطہ کیا ۔ انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو بتایا کہ پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ ہے۔ عراقچی نے درخواست کی کہ سعودی عرب کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دی جائے۔ ڈار نے سعودی حکام اور ان کے وزیر خارجہ کے ساتھ بھی شٹل کمیونیکیشن جاری رکھی۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے کس قدر متحرک ہے۔ وزیراعظم نے سعودی عرب، قطر، اردن، بحرین، عمان، ترکیہ، لبنان، ملائیشیا اور آذربائیجان کے رہنماؤں سے ٹیلی فونک رابطے کیے ہیں ۔ نائب وزیراعظم نے بھی علاقائی اور بین الاقوامی ہم منصبوں سے مسلسل رابطے رکھے ہیں۔پاکستان نے اقوام متحدہ میں بھی اپنا مؤثر کردار ادا کیا ہے۔ پاکستانی نمائندہ برائے اقوام متحدہ نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایران پر بلااشتعال حملوں کی مذمت کرتا ہے اور تمام فریقین پر زور دیتا ہے کہ وہ کشیدگی کو کم کریں اور سفارت کاری کو فروغ دیں ۔
مسلم ممالک کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی کوشش ہے کہ مسلم ممالک کو آپس میں لڑا کر خطے میں اپنے مفادات پورے کریں۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ مسلم ممالک اس جال میں نہ پھنسیں اور مشترکہ طور پر امن کے لیے کام کریں۔افغانستان کے حوالے سے بھی پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے ۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ جب تک اس حوالے سے تصدیق شدہ یقین دہانیاں نہیں ملتیں، پاکستان اپنی موجودہ پالیسی جاری رکھے گا۔ہندوستان اور کینیڈا کے درمیان یورینیم فراہمی کے معاہدے پر بھی پاکستان نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ اس نوعیت کے معاہدے جوہری تعاون کے میدان میں ایک اور ملک مخصوص استثنیٰ کی مثال ہیں ۔ یہ خطے میں اسٹریٹجک عدم توازن کو بڑھا سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے انتھک کوششیں کر رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی عرب کا دورہ، نائب وزیراعظم کے مسلسل سفارتی رابطے، اور اقوام متحدہ میں پاکستان کا مؤثر کردار اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان مسلم امہ کے اتحاد اور خطے کے امن کے لیے ہمہ وقت مصروف عمل ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دیگر مسلم ممالک بھی پاکستان کی اس کوشش میں شامل ہوں اور امریکا و اسرائیل کی سازشوں کو ناکام بنائیں۔ مسلم ممالک کو ہوش سے کام لینا ہوگا اور اپنے اختلافات بھلا کر مشترکہ دشمن کے سامنے متحد ہونا ہوگا۔
پنجاب کا AI روڈ میپ: مستقبل کی طرف اہم قدم
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر نگرانی صوبے کا پہلا آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) روڈ میپ تیار کر لیا گیا ہے، جسے وزیراعلیٰ نے منظوری دے دی۔ یہ اقدام نہ صرف پنجاب بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک تاریخی سنگ میل ہے۔ اس روڈ میپ کے تحت 2029 تک پنجاب کو جنوبی ایشیا کا لیڈنگ AI صوبہ بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جو واقعی ایک قابل تعریف اور پرعزم منصوبہ ہے۔موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت دنیا بھر میں ہر شعبۂ زندگی کا لازمی جزو بن چکی ہے۔ طبی میدان سے لے کر تعلیم، صنعت سے لے کر زراعت اور دفاع سے لے کر مواصلات تک ہر جگہ AI انقلاب برپا کیے ہوئے ہے۔ جیسا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا ہے، AI کے استعمال سے حکومت کے ہر شعبے کی استعداد کار میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ پاکستان بھی اس عالمی دوڑ میں پیچھے نہ رہے۔
پنجاب حکومت کا یہ فیصلہ کہ وہ دنیا کا پہلا AI ڈیلیوری یونٹ قائم کرے گی، انتہائی خوش آئند ہے۔ وزیراعلیٰ خود اس یونٹ اور سپیشل پراجیکٹ ٹیم کی چیئرپرسن ہوں گی، جو اس منصوبے سے ان کی وابستگی اور سنجیدگی کا ثبوت ہے۔ صوبائی مشیر برائے AI علی ڈار کی تفصیلی بریفنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس حوالے سے ٹھوس منصوبہ بندی کی گئی ہے۔اس AI روڈ میپ کے تحت آنے والے تین سالوں میں ایک لاکھ سے زائد روزگار کے مواقع میسر آنے کی توقع ہے۔ یہ صوبے کے بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک بڑی خوشخبری ہے۔ AI کے ذریعے نوجوانوں کے پوٹینشل کا بھرپور استعمال کیا جائے گا، جیسا کہ وزیراعلیٰ نے کہا ہے۔ اس سے نہ صرف نوجوانوں کو جدید ہنر ملے گا بلکہ وہ عالمی مارکیٹ میں بھی مقابلہ کر سکیں گے۔اقتصادی طور پر اس منصوبے کے بے پناہ فوائد ہیں۔ جی ڈی پی میں 5 سے 10 فیصد اضافے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں 10 سے 20 ارب ڈالر کے اضافے کا امکان ہے۔ یہ کوئی معمولی تخمینہ نہیں۔ اگر یہ ہدف حاصل ہو جاتا ہے تو پنجاب کی معیشت میں انقلابی تبدیلی آ سکتی ہے اور پاکستان کی مجموعی اقتصادی صورتحال بھی بہتر ہو سکتی ہے۔AI روڈ میپ کے تحت چھ اہم شعبوں پر توجہ دی جائے گی: AI انفراسٹرکچر، AI ایڈمن، AI سٹیزن، جاب سکلز، اکانومی اور AI گورننس۔ ان تمام شعبوں کی بہتری سے ایک مضبوط بنیاد تیار ہوگی جس پر مستقبل کی عمارت کھڑی کی جا سکے گی۔ اس مقصد کے لیے چار کراس فنکشنل ٹیمیں بھی قائم کی گئی ہیں جو سپیشل پراجیکٹ، ڈیٹا، سٹریٹجک آپریشن اور سٹریٹجک کمیونیکیشن پر کام کریں گی۔
وزیراعلیٰ نے AI ٹیکنیکل ایڈوائزری بورڈ قائم کرنے کی منظوری دی ہے اور اس میں اعلیٰ ترین ماہرین شامل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ بورڈ اس منصوبے کو تکنیکی طور پر رہنمائی فراہم کرے گا اور یقینی بنائے گا کہ پنجاب جدید ترین AI ٹیکنالوجی سے مستفید ہو سکے۔مارچ میں پنجابAI روڈ میپ مینی فیسٹو لانچ کیا جائے گا اور جون میں دنیا کے پہلے AI ڈیلیوری یونٹ کی انٹرنیشنل لانچنگ ہوگی۔ یہ اقدامات پنجاب کو عالمی AI نقشے پر نمایاں مقام دلائیں گے۔تاہم اس سارے منصوبے کی کامیابی کا انحصار اس پر عملدرآمد پر ہے۔ منصوبے تو بہت بنائے جاتے ہیں لیکن اکثر عملی جامہ پہنانے میں ناکامی ہوتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس منصوبے پر عملدرآمد کے لیے ایک موثر نظام مرتب کرے، ماہرین کی خدمات حاصل کرے، اور نوجوانوں کو اس حوالے سے تربیت فراہم کرے۔ اس کے علاوہ، سرکاری محکموں کو بھی جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا تاکہ وہ AI ٹیکنالوجی کو بروئے کار لا سکیں۔آن لائن جابز اور فری لانسنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان میں AI کی تربیت یافتہ نوجوانوں کی مانگ عالمی مارکیٹ میں بہت زیادہ ہے۔ پنجاب کے نوجوان اگر اس میدان میں مہارت حاصل کر لیں تو وہ لاکھوں روپے کا زرمبادلہ ملک میں لا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس منصوبے کو قومی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔آخر میں، وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے اس فیصلے کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ہم امید کرتے ہیں کہ یہ منصوبہ اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوگا اور پنجاب کو نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ دنیا بھر میں AI کے شعبے میں نمایاں مقام دلائے گا۔ یہ اقدام نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کے لیے مشعل راہ ثابت ہوگا۔
ڈیجیٹل شناختی کارڈ کا مسئلہ اورنادرا کا انتباہ
نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے حال ہی میں ایک بیان جاری کرتے ہوئے ان سرکاری اور نجی اداروں کو خبردار کیا ہے جو ڈیجیٹل شناختی کارڈ کو قبول کرنے سے گریزاں ہیں۔ نادرا کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل شناختی کارڈ فزیکل شناختی کارڈ کے مساوی قانونی حیثیت رکھتا ہے اور اسے نہ ماننا مروجہ قانونی اور ضابطہ جاتی فریم ورک کی خلاف ورزی ہے۔یہ معاملہ صرف ایک معمولی انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ ڈیجیٹل پاکستان کے خواب کی تعبیر سے جڑا ہوا ہے۔ نادرا نے واضح کیا ہے کہ نادرا آرڈیننس کے تحت بنائے گئے ڈیجیٹل شناختی ضوابط کے ریگولیشن 9 اور 10 ڈیجیٹل شناختی اسناد کو مکمل قانونی حیثیت دیتے ہیں۔ اس کے باوجود بعض سرکاری دفاتر اور ادارے ڈیجیٹل کارڈ کے بجائے فزیکل کارڈ یا اس کی فوٹو کاپی طلب کر رہے ہیں، جو نہ صرف شہریوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے بلکہ ڈیجیٹل انقلاب کی راہ میں رکاوٹ بھی ہے۔نادرا کا یہ موقف انتہائی اہم ہے کہ ڈیجیٹل شناختی کارڈ سے شناختی معلومات کے غلط استعمال کی روک تھام ہوتی ہے اور شہریوں کے ذاتی ڈیٹا کا تحفظ یقینی بنانے میں مدد ملتی ہے۔ فزیکل کارڈ کی غیرضروری فوٹو کاپیاں بنوانے سے ڈیٹا لیک ہونے اور اس کے غلط استعمال کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، جبکہ ڈیجیٹل کارڈ میں یہ مسائل پیدا نہیں ہوتے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ خود سرکاری محکمے اور عوامی ادارے اس حوالے سے قوانین کی پاسداری نہیں کر رہے۔ ٹیلی کام آپریٹرز، بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں میں بھی یہی رویہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ یہ ادارے نہ صرف عوام کو مشکلات میں ڈال رہے ہیں بلکہ ڈیجیٹل تبدیلی کی راہ میں رکاوٹ بھی بن رہے ہیں۔نادرا نے شہریوں کو یہ حق دیا ہے کہ وہ اس حوالے سے اپنی شکایات نادرا کے سرکاری شکایتی نظام کے ذریعے درج کرا سکتے ہیں۔ یہ ایک خوش آئند قدم ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا محض شکایات درج کرانے سے مسئلہ حل ہو جائے گا؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ نہ صرف شکایات کا ازالہ کیا جائے بلکہ خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف سخت کارروائی بھی کی جائے۔یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ پاکستان میں ڈیجیٹل تبدیلی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہمارے اپنے سرکاری ادارے اور اہلکار ہیں۔ جب تک سرکاری محکموں میں کام کرنے والے اہلکاروں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں کیا جاتا اور انہیں ڈیجیٹل نظام پر اعتماد کرنا نہیں سکھایا جاتا، اس وقت تک ڈیجیٹل پاکستان کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں موجودہ حکومت ڈیجیٹل معیشت اور ڈیجیٹل پاکستان کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔ فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی اور انٹرنیٹ کی رفتار بڑھانے کے اقدامات اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ لیکن ان تمام اقدامات کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم اپنے سرکاری اداروں کو کس حد تک ڈیجیٹل تیار کر پاتے ہیں۔
نادرا کا یہ انتباہ ایک موقع ہے کہ تمام سرکاری اور نجی ادارے اپنے رویے پر نظر ثانی کریں اور ڈیجیٹل شناختی کارڈ کو بلا جھجک قبول کریں۔ یہ نہ صرف قانونی تقاضا ہے بلکہ عوامی سہولت اور ڈیٹا کے تحفظ کے لیے بھی ضروری ہے۔ہم نادرا کے اس اقدام کو سراہتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ صرف انتباہ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی بھی کرے گا۔ ساتھ ہی ہم تمام اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ڈیجیٹل تبدیلی کو قبول کریں اور شہریوں کو جدید سہولیات فراہم کریں۔ ڈیجیٹل پاکستان کا خواب تبھی شرمندۂ تعبیر ہو سکتا ہے جب ہم سب اس میں اپنا کردار ادا کریں۔







