پاکستان اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں داخلی معاشی مشکلات اور عالمی حالات کی کشیدگی نے معیشت کو شدید دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جنگی صورتحال، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ اور خطے میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی کیفیت نے پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے معاشی چیلنجز کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایسے حالات میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے کفایت شعاری، توانائی کی بچت اور سادگی کے حوالے سے چودہ نکاتی اقدامات کا اعلان یقیناً ایک اہم پیش رفت ہے، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ اقدامات صرف وقتی بحران سے نمٹنے کے لیے ہیں یا انہیں مستقل قومی پالیسی کا حصہ بنایا جائے گا۔
وزیراعظم نے قوم سے خطاب میں سرکاری اخراجات کم کرنے، اشرافیہ کی مراعات محدود کرنے اور توانائی کی بچت کے لیے متعدد فیصلوں کا اعلان کیا۔ سرکاری گاڑیوں کے پٹرول میں پچاس فیصد کٹوتی، ساٹھ فیصد سرکاری گاڑیوں کی بندش، کابینہ ارکان اور وزراء کی تنخواہوں کا عارضی خاتمہ، ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں پچیس فیصد کمی، اعلیٰ افسران کی تنخواہوں سے کٹوتی، بیرون ملک سرکاری دوروں پر پابندی اور سرکاری محکموں کے اخراجات میں بیس فیصد کمی جیسے اقدامات بظاہر قابل تحسین ہیں۔ اسی طرح سرکاری دفاتر میں چار دن کام، ورک فرام ہوم، سرکاری تقاریب اور عشائیوں پر پابندی، فرنیچر اور دیگر سامان کی خریداری پر پابندی جیسے فیصلے بھی وسائل کے ضیاع کو روکنے کی سمت میں ایک مثبت قدم قرار دیے جا سکتے ہیں۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں اس نوعیت کے کفایت شعاری کے اقدامات ماضی میں بھی کئی بار کیے گئے، مگر وہ زیادہ دیر تک برقرار نہ رہ سکے۔ ابتدا میں تو سختی سے عملدرآمد ہوتا ہے مگر کچھ عرصے بعد یہ فیصلے فائلوں میں دفن ہو جاتے ہیں اور سرکاری مشینری دوبارہ اسی پرانی شاہانہ روش پر چلنے لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام میں ایسے اقدامات کے بارے میں اعتماد کی کمی پیدا ہو چکی ہے۔ اگر حکومت واقعی معاشی استحکام چاہتی ہے تو اسے ان اقدامات کو وقتی نہیں بلکہ مستقل پالیسی بنانا ہوگا۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے حکمران طبقے اور افسر شاہی کا طرز زندگی عام شہری کی زندگی سے بالکل مختلف ہے۔ ایک طرف عوام مہنگائی، بے روزگاری اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں جبکہ دوسری طرف حکمرانوں اور اعلیٰ افسران کی زندگی شاہانہ انداز میں گزر رہی ہے۔ سرکاری گاڑیاں، پروٹوکول، بیرونی دورے، مہنگے دفاتر، پرتعیش سرکاری تقریبات اور غیر ضروری اخراجات قومی خزانے پر بھاری بوجھ بن چکے ہیں۔ یہ تمام اخراجات دراصل عوام کے ٹیکسوں سے پورے کیے جاتے ہیں، جس سے عوام میں احساس محرومی اور غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔پاکستان کا متوسط اور غریب طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی کو انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔ بہت سے گھرانے ایسے ہیں جہاں دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنا بھی ایک چیلنج بن چکا ہے۔ ایسے حالات میں جب عوام اپنے بنیادی مسائل سے نبرد آزما ہوں تو حکمرانوں اور افسر شاہی کی شاہانہ زندگی یقیناً معاشرتی بے چینی کو جنم دیتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب معاشرے میں امیر اور غریب کے درمیان فرق بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے تو اس کا نتیجہ اکثر شدید ردعمل کی صورت میں نکلتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے اشرافیہ سے قربانی دینے کی اپیل ایک مثبت پیغام ضرور ہے، مگر اس اپیل کو عملی اقدامات سے ثابت کرنا بھی ضروری ہے۔ اگر حکمران واقعی عوام کا اعتماد حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنی زندگیوں میں سادگی کو فروغ دینا ہوگا۔ حکومتی عہدوں پر بیٹھے افراد کو یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ عوام کے نمائندے ہیں اور ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل کو محسوس کریں اور ان کے ساتھ کھڑے ہوں۔توانائی کی بچت کے اقدامات بھی نہایت اہم ہیں۔ پاکستان کی معیشت کا بڑا انحصار خلیجی ممالک سے آنے والے تیل اور گیس پر ہے۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست پاکستان کی معیشت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں توانائی کے ضیاع کو روکنا اور متبادل ذرائع کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سرکاری دفاتر میں توانائی کی بچت، غیر ضروری سفر میں کمی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے نہ صرف اخراجات کم کیے جا سکتے ہیں بلکہ ماحولیات کے تحفظ میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ صرف سرکاری سطح پر ہی نہیں بلکہ قومی سطح پر سادگی اور کفایت شعاری کی مہم شروع کرے۔ اسکولوں، تعلیمی اداروں، سرکاری دفاتر اور میڈیا کے ذریعے عوام میں بھی یہ شعور اجاگر کیا جائے کہ وسائل کا ضیاع روکنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو غیر ترقیاتی اخراجات میں مستقل کمی، سرکاری اداروں کی اصلاحات اور ٹیکس نظام میں بہتری جیسے بنیادی اقدامات بھی کرنا ہوں گے۔مختصر یہ کہ وزیراعظم کی جانب سے اعلان کردہ چودہ نکاتی کفایت شعاری منصوبہ ایک اچھا آغاز ضرور ہے، مگر اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا یہ اقدامات وقتی ہیں یا انہیں مستقل قومی پالیسی کا حصہ بنایا جاتا ہے۔ اگر حکومت واقعی معاشی استحکام اور عوامی اعتماد حاصل کرنا چاہتی ہے تو اسے سادگی، کفایت شعاری اور شفافیت کو اپنی حکمرانی کا بنیادی اصول بنانا ہوگا۔ حکمرانوں اور افسر شاہی کو بھی یہ یاد رکھنا چاہیے کہ قوم کے وسائل امانت ہوتے ہیں، اور اس امانت کا صحیح استعمال ہی ایک مضبوط اور مستحکم ریاست کی بنیاد بن سکتا ہے۔
نئی مانیٹری پالیسی اور سودی نظام سے نجات کا عزم
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے شرح سود کو 10.5 فیصد کی سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے . زری پالیسی کمیٹی کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی جاری جنگ اور توانائی کے عالمی بحران کے باعث معاشی صورتحال انتہائی غیر یقینی ہوگئی ہے، مہنگائی بڑھ کر 7 فیصد تک پہنچ گئی ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر 16.3 ارب ڈالر ہوگئے ہیں . یہ تمام عوامل موجودہ معاشی چیلنجز کی عکاسی کرتے ہیں، لیکن اس سے بڑھ کر ایک بنیادی سوال ہمیشہ کی طرح اپنی جگہ قائم ہے کہ پاکستان جیسے اسلامی ملک میں سودی نظام کا وجود کیسے جائز قرار پاتا ہے؟
قرآن و سنت کی روشنی میں سود (ربا) ہر صورت میں حرام ہے اور اس کے خاتمے کے بغیر کوئی بھی معاشرہ حقیقی معنوں میں اسلامی نہیں کہلا سکتا۔ حکومت پاکستان اور اسٹیٹ بینک نے 2027 کے آخر تک سودی نظام کے خاتمے کا عندیہ دیا ہے ۔ وفاقی شرعی عدالت نے اپریل 2022 میں واضح طور پر فیصلہ دیا تھا کہ 31 دسمبر 2027 تک ملک سے سود کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے ۔ اس مقصد کے حصول کے لیے اسٹیٹ بینک نے 2023-2028 تک پانچ سالہ منصوبہ بھی ترتیب دیا ہے ۔ لیکن ابھی تک اس سمت میں رفتار مطلوبہ سطح پر نہیں ہے۔
ماہرین کے مطابق سودی نظام کے خاتمے کی راہ میں کئی چیلنجز موجود ہیں ۔ سب سے بڑا چیلنج سرکاری قرضوں کو شرعی قرضوں میں تبدیل کرنا ہے۔ وفاقی حکومت کا کل قرضہ 50 ٹریلین روپے سے تجاوز کر چکا ہے، اور اس میں سے صرف 5 فیصد کو شرعی مصدقہ سیکیورٹیز (صکوک) میں تبدیل کیا جا سکا ہے ۔ اس تبدیلی کے لیے حکومت کے پاس حقیقی اثاثوں کی ضرورت ہے، جبکہ زیادہ تر اراضی صوبوں کے پاس ہے ۔ یہ ایک آئینی اور انتظامی چیلنج ہے جسے حل کرنے کے لیے موثر حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
دوسرا اہم چیلنج عوامی اعتماد کا فقدان ہے۔ بہت سے صارفین اسلامی بینکاری کی صداقت پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہیں اور اسے روایتی بینکاری کا نیا روپ قرار دیتے ہیں ۔ عوامی آگاہی مہمات اور شفافیت کے ذریعے اس اعتماد کو بحال کرنا ضروری ہے۔ تیسرا چیلنج بینچ مارک ریٹ کا ہے۔ اس وقت اسلامی مالیاتی مصنوعات کی قیمت کا تعین سودی بینچ مارکس (کائبور یا اسٹیٹ بینک پالیسی ریٹ) کی بنیاد پر کیا جاتا ہے ۔ اگرچہ علمائے کرام نے ابتدائی مرحلے میں اس کی اجازت دی تھی، لیکن جب اسلامی بینکاری سودی بینکاری پر غالب آجائے گی تو اس کی ضرورت ختم ہو جائے گی اور ایک علیحدہ اسلامی بینچ مارک ترتیب دینا وقت کی اہم ضرورت ہوگا ۔اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر سلیم اللہ کے مطابق وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے وزیر خزانہ کی سربراہی میں ایک ہائی لیول سٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے ۔ قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک کا جائزہ لینے اور نئی مصنوعات تیار کرنے کے لیے مختلف ورک سٹریمز کام کر رہی ہیں ۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ کلیدی اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی اور واضح، حقیقت پسندانہ ٹائم لائنز کی ضرورت ہے ۔
عوام کو چاہیے کہ وہ سود سے پاک لین دین کو فروغ دیں اور اسلامی بینکوں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ بینکوں کو بھی چاہیے کہ وہ صرف ظاہری تبدیلیوں پر اکتفا نہ کریں بلکہ حقیقی معنوں میں شرعی اصولوں کے مطابق کام کریں۔ اسلامی بینکنگ کی صنعت کا مارکیٹ شیئر ستمبر 2023 میں اثاثوں کے لحاظ سے 19.6 فیصد اور ذخائر کے لحاظ سے 22.5 فیصد تھا ۔ اسٹیٹ بینک نے 2025 تک اسے 35 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے ۔ فیصل بینک مکمل طور پر اسلامی بینک میں تبدیل ہو چکا ہے جبکہ یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ، بینک آف خیبر اور نیشنل بینک آف پاکستان اس سمت میں گامزن ہیں ۔شرح سود کا 10.5 فیصد پر برقرار رہنا ایک وقتی معاشی فیصلہ ہے، لیکن اصل چیلنج سودی نظام کے مکمل خاتمے کا ہے ۔ 2027 کا ہدف قریب آ رہا ہے اور ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس سمت میں اپنی رفتار تیز کرے، سرکاری قرضوں کو شرعی قرضوں میں تبدیل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے، اور عوام میں شعور اجاگر کرے۔ ایک مضبوط اسلامی معیشت ہی پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک اسلامی فلاحی ریاست بنا سکتی ہے جہاں ہر شہری سود کی لعنت سے پاک ہو کر اپنی زندگی گزار سکے۔ وقت آگیا ہے کہ قول سے عمل کی طرف آئیں اور 2027 کے ہدف کو حقیقت کا روپ دیں۔







