یومِ علیؓ ،سیرتِ علیؓ کو اپنانے کی ضرورت

اکیس رمضان المبارک اسلامی تاریخ کا وہ غمگین مگر باوقار دن ہے جب شیرِ خدا، خلیفۂ چہارم حضرت علیؓ کی شہادت کی یاد تازہ ہوتی ہے۔ یہ دن ہمیں صرف ایک عظیم شخصیت کی قربانی یاد دلانے کے لیے نہیں بلکہ ان کی سیرت، علم، حکمت اور شجاعت سے رہنمائی لینے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ اسی دن کے ساتھ رمضان المبارک کے آخری عشرے کا آغاز بھی ہو جاتا ہے اور اعتکاف کی بابرکت ساعتیں شروع ہوتی ہیں۔ یہ عشرہ دراصل خود احتسابی، عبادت اور امتِ مسلمہ کے اتحاد و یکجہتی کا پیغام لے کر آتا ہے۔
حضرت علیؓ کی شخصیت اسلام کی تاریخ میں علم، عدل، بہادری اور تقویٰ کا روشن استعارہ ہے۔ آپؓ کو دروازۂ علم کہا جاتا ہے۔ آپؓ نے اپنی زندگی کے ہر لمحے میں حق و انصاف کا پرچم بلند رکھا۔ خلافت کے دوران بھی آپؓ نے عدل و مساوات کی ایسی مثالیں قائم کیں جو آج بھی حکمرانوں اور معاشروں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ حضرت علیؓ کی سیرت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اقتدار، طاقت اور اختیار کا اصل مقصد انصاف کا قیام اور مظلوم کی حمایت ہے۔بدقسمتی سے آج امتِ مسلمہ اس تعلیم سے بہت دور نظر آتی ہے۔ مسلمان ملک باہمی اختلافات اور مفادات کی سیاست میں اس قدر الجھ چکے ہیں کہ امت کا اجتماعی شعور کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ قرآن و سنت ہمیں یہ تعلیم دیتے ہیں کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں؛ اگر جسم کے کسی ایک حصے کو تکلیف ہو تو پورا جسم اس درد کو محسوس کرتا ہے۔ لیکن عملی طور پر ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کے مختلف حصوں میں مسلمان مصائب کا شکار ہیں مگر امت کا اجتماعی ردعمل کمزور دکھائی دیتا ہے۔
موجودہ حالات میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال اس حقیقت کی ایک واضح مثال ہے۔ ایران پر امریکا اور اسرائیل کی جارحیت نے پورے خطے کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ اس کشیدہ ماحول میں ایران تنہا بڑی طاقتوں کے مقابلے میں کھڑا نظر آتا ہے، جبکہ اکثر مسلم ممالک صرف روایتی مذمتی بیانات تک محدود ہو کر اپنی ذمہ داری ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ طرزِ عمل امت کے اس تصور کے منافی ہے جس میں مسلمان ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں۔یومِ علیؓ ہمیں یہی پیغام دیتا ہے کہ حق کے ساتھ کھڑا ہونا ایمان کی علامت ہے۔ حضرت علیؓ نے اپنی زندگی میں کبھی باطل کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ میدانِ جنگ ہو یا علمی محفل، آپؓ ہمیشہ حق کی آواز بلند کرتے رہے۔ فتحِ خیبر کا واقعہ تاریخِ اسلام کا وہ روشن باب ہے جس نے مسلمانوں کو یہ سبق دیا کہ ایمان، شجاعت اور یقین کی طاقت سے بڑے سے بڑا قلعہ بھی فتح کیا جا سکتا ہے۔ یہی وہ روح ہے جسے آج کے مسلمانوں کو دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔اس کے ساتھ ساتھ حضرت علیؓ کی سیرت علم و حکمت سے بھی بھرپور ہے۔ آپؓ کے اقوال آج بھی دنیا بھر کے مفکرین اور دانشوروں کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہیں۔ اگر امتِ مسلمہ دوبارہ عزت و وقار حاصل کرنا چاہتی ہے تو اسے علم، تحقیق اور فکری بیداری کے میدان میں آگے بڑھنا ہوگا۔ محض جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ علم و حکمت کے ذریعے ہی ایک مضبوط اور باوقار معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
رمضان المبارک خصوصاً آخری عشرہ امت کے لیے اتحاد، اخوت اور اصلاح کا پیغام لے کر آتا ہے۔ اعتکاف کے یہ دن ہمیں اپنے اعمال کا جائزہ لینے اور امت کے اجتماعی مسائل پر غور کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ اگر مسلمان حضرت علیؓ کی سیرت کو اپنا لیں، حق و انصاف کا علم بلند کریں اور ایک لڑی کی مانند متحد ہو جائیں تو کوئی طاقت انہیں کمزور نہیں کر سکتی۔آج یومِ علیؓ کے موقع پر ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان محض تقریبات اور بیانات تک محدود نہ رہیں بلکہ حضرت علیؓ کی سیرت کو عملی زندگی میں اپنائیں۔ علم، حکمت، شجاعت اور اتحاد ہی وہ راستہ ہے جو امتِ مسلمہ کو دوبارہ عزت اور قوت کی منزل تک پہنچا سکتا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں