امریکی و اسرائیلی جارحیت، ایرانی ردعمل اور خطرناک سازش

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں ہے جہاں امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ جارحانہ حکمت عملی نے خطے کو ایک بڑی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق ایران نے قطر کے العدید، کویت کے السلیم، متحدہ عرب امارات کے الدفرا اور بحرین میں امریکی بحری اڈوں کو نشانہ بنانے کی تصدیق کی ہے۔ یہ حملے دراصل اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کا تسلسل ہیں جو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں کے بعد شدت اختیار کر چکی ہے۔ اگرچہ ان حملوں کے نتائج ابھی واضح نہیں، تاہم خطے میں جنگی ماحول تیزی سے پھیل رہا ہے۔اس صورت حال کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ ایران کے ردعمل نے خلیجی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا کر مسلم دنیا کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کیا ہے۔ قطر، بحرین، کویت اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک میں امریکی اڈوں پر حملوں نے نہ صرف ان ریاستوں کی خودمختاری کو چیلنج کیا بلکہ انہیں بھی اس جنگی دائرے میں دھکیل دیا ہے جس کا اصل مقصد خطے کو عدم استحکام سے دوچار رکھنا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ امریکا کی دیرینہ پالیسی کے مطابق مسلم ممالک کو باہمی تصادم میں الجھا کر اپنی بالادستی قائم رکھنے کا منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
ایران کا موقف یہ ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور دفاع کے حق کے تحت کارروائیاں کر رہا ہے، جبکہ امریکا اور اسرائیل ان حملوں کو خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ طاقت کے اس کھیل میں سب سے زیادہ نقصان خود مسلم دنیا کو ہو رہا ہے۔ ایک طرف ایران اسرائیل کو نشانہ بنا رہا ہے تو دوسری جانب امریکی اڈوں پر حملے ان مسلم ممالک کو براہ راست جنگ میں دھکیل رہے ہیں جو پہلے ہی سیاسی و معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔ اس صورت حال سے اسلامی ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا مزید کمزور ہونے کا خدشہ ہے۔یہ امر بھی قابل غور ہے کہ یمن کے حوثیوں کی جانب سے اسرائیل اور سمندری راستوں پر حملوں نے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اگر یہ کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ اور اقتصادی بحران کا نیا طوفان اٹھ سکتا ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر ترقی پذیر مسلم ممالک پر پڑے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ فضائی حدود کی بندش، سکیورٹی الرٹس اور میزائل دفاعی نظام کی متحرک صورتحال خطے کو عملی طور پر جنگی زون میں تبدیل کر رہی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلامی ممالک جذباتی ردعمل کے بجائے دانشمندانہ سفارت کاری کا راستہ اختیار کریں۔ او آئی سی جیسے پلیٹ فارم کو فعال کر کے مشترکہ لائحہ عمل بنایا جائے تاکہ کسی بیرونی طاقت کو مسلم دنیا کو تقسیم کر کے اپنے مقاصد حاصل کرنے کا موقع نہ ملے۔ اگر موجودہ کشیدگی کا بروقت حل نہ نکالا گیا تو یہ تنازع نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے تباہ کن نتائج کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت اور ایران کے سخت ردعمل نے ثابت کر دیا ہے کہ خطے میں امن صرف طاقت کے توازن سے نہیں بلکہ اتحاد اور دوراندیش حکمت عملی سے ہی ممکن ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں