پاکستان اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ نئی قائم ہونے والی پاکستان ورچوئل ایسیٹس ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) کے بورڈ میں یہ تاثر پایا جا رہا ہے کہ ڈیجیٹل کرنسی اور کرپٹو ٹریڈنگ کو جلد از جلد قانونی حیثیت دی جائے۔ اس کے برعکس اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے محتاط رویہ اختیار کیا ہے اور درست طور پر یہ عندیہ دیا ہے کہ جلدبازی کسی طور بھی ملک کے لیے فائدہ مند نہیں ہوگی۔ ایک ایسے ملک میں جہاں بیرونی کھاتوں پر مستقل دباؤ ہے، بغیر سوچے سمجھے ایسا قدم معاشی تباہی کو دعوت دینے کے مترادف ہوگا۔
وفاقی وزیرِ خزانہ کی جلدبازی اپنی جگہ باعثِ تشویش ہے۔ وہ اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگر فوری طور پر کرپٹو کرنسی کو قانونی حیثیت نہ دی گئی تو پاکستان دوبارہ FATF کی گرے لسٹ میں جا سکتا ہے، کیونکہ ملک کی 15 فیصد آبادی پہلے ہی کسی نہ کسی شکل میں کرپٹو لین دین میں ملوث ہے۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ اگر یہ لین دین ہو ہی رہا ہے تو بہتر ہے کہ اسے قانونی بنا دیا جائے۔ لیکن یہ مؤقف زیادہ تر ’’بڑے نقصان کے خوف‘‘ پر مبنی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر بغیر کسی مضبوط اور جامع فریم ورک کے یہ فیصلہ کر لیا گیا تو اس کے نقصانات گرے لسٹ میں جانے سے کہیں زیادہ سنگین ہوں گے۔
یہ رویہ ہمیں ان دیگر ’’کرایہ دار‘‘ گروہوں کی یاد دلاتا ہے جو اپنے مخصوص مفادات کے تحفظ کے لیے ’’قومی مفاد‘‘ کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں۔ کبھی ٹیکسٹائل سیکٹر سبسڈی مانگتا ہے، کبھی ریئل اسٹیٹ لابی اپنے شعبے کو غیر دستاویزی رکھنے پر اصرار کرتی ہے، اور کبھی تاجر غیر حقیقی طور پر سود کی شرح میں شدید کمی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ وزیر خزانہ کا مؤقف بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ مزید دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ وزیر خزانہ پی وی اے آر اے بورڈ کے رکن بھی نہیں تھے، بلکہ خصوصی دعوت پر شریک ہوئے۔
اس کے برعکس، اسٹیٹ بینک کا محتاط مؤقف بالکل درست ہے۔ پاکستان کا بینکاری نظام آج بھی مستحکم کھڑا ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ اسٹیٹ بینک نے ہمیشہ اپنی ریگولیٹری ذمہ داری کو مقدم رکھا۔ حال ہی میں جب حکومت اور کاروباری طبقے نے سود کی شرح میں کمی کا دباؤ ڈالا، اسٹیٹ بینک نے حالات کے مطابق درست فیصلہ کرتے ہوئے مالیاتی پالیسی میں استحکام برقرار رکھا۔ یہی احتیاطی رویہ کرپٹو کرنسی کے معاملے پر بھی اپنانا ناگزیر ہے۔
یہ حقیقت اپنی جگہ درست ہے کہ ڈیجیٹل کرنسی، کرپٹو اور ٹوکنائزیشن آج کی دنیا میں ایک حقیقت ہیں اور مستقبل کے مالیاتی نظام میں ان کا اہم کردار ہوگا۔ لیکن پاکستان کے حالات متحدہ عرب امارات جیسے ممالک سے یکسر مختلف ہیں۔ وہاں سرمایہ کار کم ٹیکس اور بہتر معیارِ زندگی کی وجہ سے سرمایہ لاتے ہیں، جبکہ پاکستان میں سرمایہ کار عموماً اپنا سرمایہ محفوظ رکھنے کے بجائے ملک سے باہر لے جانے کی تدبیریں سوچتے ہیں۔ ایسے ماحول میں بغیر کسی مضبوط فریم ورک کے کرپٹو کرنسی کو قانونی بنا دینا صرف سرمائے کے غیر منظم بہاؤ کو مزید بڑھا دے گا، جس پر کوئی نگرانی ممکن نہیں رہے گی۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ غیر قانونی رقوم کی ترسیل اور منی لانڈرنگ پہلے ہی ہماری معیشت کو زک پہنچا رہی ہیں۔ اگر کرپٹو لین دین کو بغیر کسی ضابطے کے اجازت دے دی گئی تو یہ کالا دھن اور مجرمانہ سرگرمیوں کے لیے سب سے بڑا سہارا بن جائے گا۔ اس خطرے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
