پاکستان کے لیے یہ لمحہ انتہائی تشویش ناک ہے کہ ٹانک اور شمالی وزیرستان میں دو مزید بچے پولیو وائرس کا شکار ہو کر زندگی بھر کے لیے مفلوج ہو گئے ہیں۔ اس برس اب تک کیسز کی تعداد 23 تک پہنچ گئی ہے، جن میں سے 15 صرف خیبرپختونخوا سے ہیں۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں رہا کہ صوبہ خیبرپختونخوا اس وبا کا مرکز بن چکا ہے اور موجودہ اقدامات وائرس کو روکنے میں ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ چند ہی ہفتے قبل وفاقی وزیر صحت نے عالمی اداروں کے سامنے فخریہ دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان میں پولیو کیسز 99 فیصد تک کم ہو گئے ہیں۔ یہ قبل از وقت جشن اس حقیقت کو چھپا نہیں سکتا کہ ریاست اب بھی صرف اعداد و شمار پر انحصار کرتی ہے جبکہ وہ ان ساختیاتی کمزوریوں کا سامنا نہیں کر رہی جو اس وائرس کو جڑ سے ختم کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
پولیو کا مقابلہ محض طبی مہم نہیں بلکہ طرزِ حکمرانی کا امتحان ہے۔ دہائیوں کی محرومی اور سابق فاٹا کے قبائلی علاقوں کے انضمام کے بعد کی مشکلات نے عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان گہرا عدم اعتماد پیدا کیا ہے۔ وہ خاندان جو روزمرہ زندگی میں اسکول، اسپتال، صاف پانی یا نکاسیٔ آب جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں، پولیو مہم کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک ریاست صرف اس وقت ان کے دروازے پر آتی ہے جب پولیو کے قطرے پلانے ہوں، نہ کہ ان کی اصل ضروریات پوری کرنے کے لیے۔ یہی وجہ ہے کہ ان علاقوں میں مزاحمت اور بدگمانی جنم لیتی ہے۔
یکم ستمبر سے شروع ہونے والی ملک گیر مہم اور 15 ستمبر سے جنوبی خیبرپختونخوا میں خصوصی مہم کے آغاز کے تناظر میں حکومت کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ پرانی حکمت عملی اب پائیدار نہیں رہی۔ صرف قطرے پلانے پر زور دینے کے بجائے پولیو مہم کو ایک جامع بنیادی صحت پیکج سے جوڑنا ناگزیر ہے۔ اگر قطرے پلانے والے ورکرز ساتھ ہی بچوں کے لیے عام ٹیکے، غذائی سپلیمنٹس یا ماؤں کے لیے طبی سہولتیں بھی فراہم کریں تو عوام زیادہ خوش دلی سے اپنے دروازے کھولیں گے۔ اسی طرح اس مہم کو صاف پانی اور نکاسی کے منصوبوں کے ساتھ منسلک کرنا عوام کے اعتماد کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
ایک اور بڑی کمزوری یہ ہے کہ اکثر مہمات ایسے افراد کے ذریعے چلائی جاتی ہیں جو مقامی کمیونٹی میں سماجی اعتبار سے معتبر حیثیت نہیں رکھتے۔ ٹانک اور وزیرستان جیسے علاقوں میں اگر معتبر علما اور بااثر مقامی شخصیات کو اعتماد میں لے کر آگے لایا جائے تو افواہوں کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے اور عوام کو زیادہ موثر طور پر قائل کیا جا سکتا ہے۔
یہ بات تسلیم کرنی ہوگی کہ صفِ اول کے پولیو ورکرز اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر یہ ذمہ داری ادا کرتے ہیں۔ لیکن جب تک ریاستی حکمرانی کی ناکامیوں کو ویکسینیشن کے ساتھ ساتھ دور نہیں کیا جاتا، تب تک یہ مسئلہ جڑ سے ختم نہیں ہوگا۔ اگر ہم نے یہی روش جاری رکھی تو پاکستان دنیا کا آخری ملک رہ جائے گا جہاں پولیو جیسے مہلک وائرس کا سایہ باقی ہوگا۔
یہ وقت جشن یا دعووں کا نہیں بلکہ سخت محاسبے کا ہے۔ ریاست کو چاہیے کہ وہ پولیو کے خلاف جدوجہد کو صرف ایک وقتی مہم نہ سمجھے بلکہ اسے عوامی فلاح کے ایک وسیع تر ڈھانچے کا حصہ بنائے۔ بنیادی صحت، تعلیم اور صاف پانی جیسی سہولتوں کو پولیو مہم کے ساتھ جوڑنا ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ایک معذور زندگی سے بچا سکتے ہیں۔
پولیو کا تعلق صرف بیماری سے نہیں بلکہ ریاستی وقار سے بھی ہے۔ دنیا کے تقریباً تمام ممالک نے اس مہلک وائرس پر قابو پا لیا ہے۔ افغانستان اور پاکستان وہ آخری دو ممالک رہ گئے ہیں جہاں یہ وائرس اب بھی بچوں کو اپاہج بنا رہا ہے۔ یہ حقیقت ہمارے لیے باعثِ شرم بھی ہے اور لمحۂ فکریہ بھی۔ جب باقی دنیا اس جنگ کو جیت چکی ہے تو پاکستان کیوں پیچھے رہ گیا؟ اس کا جواب صرف جغرافیائی حالات میں نہیں بلکہ گورننس کی ناکامیوں میں ہے۔
ایک طرف وفاقی اور صوبائی حکومتیں بڑے بڑے دعوے کرتی ہیں اور عالمی اداروں کے سامنے کامیابی کے قصے سناتی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پولیو مہم کو عوامی اعتماد حاصل نہیں۔ بارہا یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ ویکسینیشن مہمات میں بدانتظامی اور بدنیتی شامل ہو جاتی ہے، جس سے عوام کا شک اور بڑھ جاتا ہے۔ مثال کے طور پر بعض علاقوں میں ویکسین کو درست طریقے سے محفوظ نہیں کیا جاتا، کہیں عملہ وقت پر نہیں پہنچتا، اور کہیں قطرے پلانے والے ورکرز کو معاوضے اور تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا۔ یہ سب عوامل مہم کی کامیابی کو متاثر کرتے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ پولیو ورکرز کو کئی بار جان کی بازی دینی پڑی ہے۔ شدت پسند عناصر نے ان معصوم کارکنوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کئی گھروں کے چراغ گل ہو گئے۔ ریاست نے ان قربانیوں کا اعتراف تو کیا لیکن عملی طور پر انہیں وہ تحفظ فراہم نہ کیا جو ان کا حق تھا۔ اگر کسی خطے میں پولیو ورکرز خود خوف زدہ ہوں تو عوام کو کیسے اعتماد دلایا جا سکتا ہے؟
اب وقت آ گیا ہے کہ پولیو کے خاتمے کو ایک الگ مہم کے بجائے ایک وسیع تر صحت عامہ کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جائے۔ دیہی و قبائلی علاقوں میں بنیادی صحت مراکز قائم کیے جائیں جو صرف پولیو ہی نہیں بلکہ تمام عام امراض کا علاج کریں۔ اگر عوام دیکھیں گے کہ ریاست ان کی روزمرہ صحت کے مسائل حل کر رہی ہے تو وہ پولیو مہم کو بھی شک کی نگاہ سے نہیں دیکھیں گے۔
اسی کے ساتھ ساتھ تعلیم کی اہمیت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی۔ جہاں جہالت زیادہ ہے وہاں پولیو کے قطرے پلانے کی مزاحمت بھی زیادہ ہے۔ اگر والدین کو بنیادی تعلیم دی جائے اور انہیں یہ باور کرایا جائے کہ پولیو کے قطرے ان کے بچوں کو اپاہج ہونے سے بچاتے ہیں تو وہ کسی بھی پروپیگنڈے کا شکار نہیں ہوں گے۔ اس سلسلے میں میڈیا، علما، اساتذہ اور مقامی نمائندوں کا کردار نہایت اہم ہے۔
پانی اور نکاسی کا نظام بھی براہِ راست اس مسئلے سے جڑا ہوا ہے۔ آلودہ پانی اور گندے ماحول میں پولیو وائرس زیادہ دیر تک زندہ رہتا ہے۔ اگر حکومت صاف پانی اور بہتر نکاسی کا بندوبست کرے تو پولیو کے پھیلاؤ کی جڑ کاٹنا ممکن ہو سکتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے شہروں اور دیہات میں صاف پانی کا حصول آج بھی ایک خواب ہے۔ جب تک یہ بنیادی ضرورت پوری نہیں ہوگی، صرف قطرے پلانا کافی نہیں ہوگا۔
پاکستان کو یہ بھی سوچنا ہوگا کہ عالمی برادری کی نظروں میں اس کی ساکھ کیا ہے۔ دنیا پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھتی ہے جو دہشت گردی اور انتہاپسندی کے ساتھ ساتھ پولیو کے خلاف جنگ میں بھی ناکام رہا ہے۔ اگر ہم نے یہ وائرس ختم نہ کیا تو عالمی سطح پر مزید تنہائی اور پابندیاں ہمارا مقدر بن سکتی ہیں۔ کئی ممالک پہلے ہی پاکستانی شہریوں کے لیے سفری پابندیاں لگا چکے ہیں کہ انہیں پولیو کے قطرے لگوانا لازمی ہوں گے۔ یہ ایک قومی شرمندگی ہے۔
ابھی وقت ہے کہ ریاست اپنی ترجیحات درست کرے۔ پولیو کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے صرف کاغذی دعوے کافی نہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ:
- پولیو مہم کو بنیادی صحت پیکج کا حصہ بنایا جائے۔
- مقامی علما اور کمیونٹی لیڈرز کو فعال کردار دیا جائے۔
- پولیو ورکرز کو مکمل سیکیورٹی اور مناسب معاوضہ فراہم کیا جائے۔
- پانی، نکاسی اور صفائی کے منصوبوں کو فوری بنیادوں پر عملی جامہ پہنایا جائے۔
- تعلیم اور آگاہی کو پولیو کے خلاف اصل ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے۔
پاکستان اب مزید وقت ضائع نہیں کر سکتا۔ ہر نیا کیس صرف ایک معذور بچے کی کہانی نہیں بلکہ ہماری اجتماعی ناکامی کی علامت ہے۔ اگر ہم نے ابھی بھی اپنی اصلاح نہ کی تو تاریخ ہمیں ایک ایسے ملک کے طور پر یاد رکھے گی جو اپنے بچوں کو معذوری سے نہ بچا سکا۔ یہ وہ دھبہ ہوگا جو نسلوں تک ہمارے ماتھے پر رہے گا۔
ریاست اور معاشرہ دونوں کو مل کر یہ عہد کرنا ہوگا کہ اب کوئی بچہ پولیو کا شکار نہیں ہوگا۔ یہ ممکن ہے، بشرطیکہ ہم اپنی ترجیحات بدلیں اور سچائی کا سامنا کریں۔ دنیا نے یہ جنگ جیت لی ہے، ہم بھی جیت سکتے ہیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی ذمہ داریاں قبول کرنے کو تیار ہیں یا نہیں۔