پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف کا حالیہ شکوہ کہ ہم نے ماضی کی ماحولیاتی آفات سے کچھ نہیں سیکھا، صرف ایک جذباتی اظہار نہیں بلکہ ایک قومی بحران کا کھلا اعتراف ہے۔ یہ شکوہ اس وقت سامنے آیا ہے جب وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کے لیے گیارہویں نیشنل فنانس کمیشن (NFC) ایوارڈ کے عمل کا آغاز ہو چکا ہے۔ ان دونوں معاملات—یعنی ماحولیاتی خطرات سے سبق سیکھنے کی ضرورت اور مالی وسائل کی تقسیم—کا تعلق بظاہر مختلف نظر آتا ہے، لیکن درحقیقت یہ ایک ہی قومی تناظر میں گندھے ہوئے ہیں: پاکستان کی ماحولیاتی کمزوری، اور اس کے مقابلے میں ہماری مالیاتی ترجیحات کی سمت۔
نیشنل فنانس کمیشن کا مقصد ہمیشہ سے وسائل کی منصفانہ تقسیم رہا ہے، لیکن جب ہم زمینی حقیقتوں کو دیکھتے ہیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ مالیاتی مرکزیت، اختیارات کی غیر مساوی تقسیم، اور ماحولیاتی چیلنجز کے لیے ضعیف ردِعمل نے ہمیں ایک ایسی بند گلی میں لا کھڑا کیا ہے جہاں ہر آفت کے بعد ہم وہی غلطیاں دہراتے ہیں جن سے سبق سیکھنے کی ضرورت تھی۔ اگر NFC ایوارڈ محض ایک عددی فارمولا رہا، تو یہ وزیرِاعظم کے شکوے کا جواب کبھی نہیں بن سکتا۔
پاکستان کے مقامی ماحولیاتی خطرات کی تین بنیادی وجوہات ہیں: بے قابو آبادی، خطرناک علاقوں میں غربت کی مرتکز موجودگی، اور معاشی بدحالی کے باعث ماحولیاتی موافقت کی صلاحیت کی شدید کمی۔ 1951 میں 3.37 کروڑ کی آبادی آج 24 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے اور 2050 تک 38 سے 40 کروڑ تک پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ یہ اضافہ محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں، بلکہ قومی سطح پر خطرے کی گھنٹی ہے، کیونکہ غربت کے ساتھ جڑی یہ آبادی ان علاقوں میں آباد ہے جہاں ماحولیاتی خطرات زیادہ ہیں اور وسائل کی فراہمی کم ترین۔ تازہ ترین عالمی بینک رپورٹ کے مطابق، ملک کی 42.3 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو 2050 تک یہ تعداد 19 سے 20 کروڑ ہو سکتی ہے، یعنی ہر دوسرا بچہ ایک ایسی دنیا میں آنکھ کھولے گا جہاں وہ ماحولیاتی آفات کا مقابلہ کرنے کی استطاعت نہیں رکھے گا۔
پاکستان کے 169 اضلاع میں تقریباً 1,200 تحصیلیں وہ حساس علاقے ہیں جو بار بار ماحولیاتی تباہی کا نشانہ بنتی ہیں۔ بلوچستان اور سندھ کے کئی اضلاع مسلسل قحط کا سامنا کرتے رہے ہیں، گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کا خطرہ بڑھ رہا ہے، سندھ اور بلوچستان میں سمندری طوفان آ رہے ہیں، اور پنجاب، خیبرپختونخوا، سندھ اور بلوچستان کے درجنوں اضلاع طوفانی بارشوں، شہری سیلاب، جنگلات کی آگ اور مٹی کے تودے جیسے مسائل کی زد میں ہیں۔ غریب طبقات وہی ہیں جو دریا کنارے، نشیبی علاقوں اور غیرقانونی بستوں میں مقیم ہیں۔ ماحولیاتی تباہی کی پہلی اور شدید ترین ضرب ہمیشہ انہی پر پڑتی ہے۔
لیکن مسئلہ صرف قدرتی نہیں؛ یہ ایک مالیاتی و انتظامی مسئلہ بھی ہے۔ جب تک ہم ترقیاتی منصوبوں، زمین کے استعمال، شہری منصوبہ بندی، اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے عمل کو مقامی سطح پر منتقل نہیں کرتے، تب تک ماحولیاتی مزاحمت کی کوئی پائیدار شکل پیدا نہیں ہو سکتی۔ اقبال کا وہ مصرع کہ “افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر” یہاں مکمل طور پر صادق آتا ہے—مگر ان افراد کو اختیارات، وسائل اور خودمختاری کون دے گا؟
نیشنل فنانس کمیشن کے ذریعے صوبوں کو وسائل تو منتقل ہوتے ہیں، مگر اضلاع اور تحصیلوں تک پہنچنے سے پہلے ہی وہ سیاست، کرپشن یا بیوروکریسی کی نذر ہو جاتے ہیں۔ یہی وہ وقت ہے جب NFC ایوارڈ کو نہ صرف مالیاتی فارمولے کی حد سے نکال کر ماحولیاتی انصاف کی بنیاد بنایا جائے، بلکہ اس کے ذریعے ماحولیاتی بقا کو فیصلہ کن قومی ایجنڈا تسلیم کیا جائے۔
اس ضمن میں دو طرح کی حکمتِ عملیاں سامنے آتی ہیں: تدریجی (incremental) اور انقلابی (transformative)۔ تدریجی حکمتِ عملیاں وہ ہیں جن میں حکومت مالیاتی خلا کو پُر کرنے کے لیے مزید فنڈز دیتی ہے، پرانے منصوبے مکمل کرتی ہے، ابتدائی وارننگ سسٹمز لگاتی ہے اور ادارہ جاتی صلاحیت کو بہتر بناتی ہے۔ لیکن یہ سب کچھ، جیسا کہ بارہا دیکھا جا چکا ہے، ایک آفت کے بعد وقتی ریلیف کا دروازہ تو کھولتا ہے، مگر آنے والی تباہی کو روکنے کے قابل نہیں ہوتا۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم انقلابی اور ساختیاتی تبدیلیوں کی طرف بڑھیں۔ جیسے کہ زمین کے استعمال کی ازسرنو منصوبہ بندی کی جائے تاکہ بستیاں محفوظ علاقوں میں منتقل ہو سکیں؛ سماجی تحفظ کے پروگرام ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ جوڑے جائیں؛ ذیلی سطح پر ماحولیاتی خطرے سے نمٹنے کے مالیاتی ادارے قائم کیے جائیں؛ تعمیرات کے معیارات میں مزاحمتی ڈھانچے شامل کیے جائیں؛ اور ترقیاتی منصوبوں میں ماحولیاتی خطرے کی جانچ لازم قرار دی جائے۔
یہ سب تجاویز گزشتہ کئی سالوں سے حکومتی فائلوں میں بند پڑی ہیں۔ جب تک ان منصوبوں کو پالیسی سطح پر ترجیحی حیثیت حاصل نہیں ہوگی، تب تک ان کے اثرات بکھرے، غیر مربوط اور وقتی رہیں گے۔
پاکستان کے لیے چار بنیادی اسباق ایسے ہیں جن سے سیکھے بغیر ہم ماحولیاتی تباہی سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔ پہلا، زمین کے استعمال کی منصوبہ بندی کا اختیار ضلعی اور تحصیل سطح کے منتخب نمائندوں کو دیا جائے تاکہ وہ مقامی سیاق میں حقیقی فیصلے کر سکیں۔ دوسرا، زوننگ قوانین مقامی طور پر مرتب کیے جائیں اور “شاملات” یا سرکاری زمینوں پر قبضہ روکنے کے لیے ان پر مکمل عملدرآمد کیا جائے۔ تیسرا، قدرتی وسائل اور دریا کے قدرتی بہاؤ کی بحالی کے لیے مقامی سطح پر مزاحمتی منصوبے ترتیب دیے جائیں۔ اور چوتھا، اضلاع میں اثاثہ جاتی فہرستیں تیار کی جائیں تاکہ مقامی محصولات میں اضافہ کیا جا سکے۔
ان تمام تجاویز کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک قومی سطح پر ادارہ قائم کرنا ہوگا، مثلاً “قومی بحالی کمیشن” جو زمین کی بازیابی، مقامی منصوبہ بندی اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے وفاقی رہنما اصول جاری کرے اور صوبائی سطح پر ان کی تطبیق کی نگرانی کرے۔
لیکن سیکھنے کے لیے صرف تکنیکی مہارت کافی نہیں، سیاسی عزم اور طاقتور مفادات کے خلاف جرات مندانہ مؤقف بھی ضروری ہے۔ پاکستان کو سب سے پہلے یہ “غلط سیکھے گئے اسباق” (destructive practices) ترک کرنا ہوں گے، جن میں دریا کے کنارے آبادیاں بسانا، شاملات کو ذاتی ملکیت سمجھنا، اور بچاؤ کے بجائے تباہی کے بعد کی بحالی پر زور دینا شامل ہے۔ یہ سب کچھ صرف پالیسی سازی سے نہیں ہوگا، بلکہ اس کے لیے طاقتور طبقوں کو للکارنا ہوگا—اور یہی وہ مقام ہے جہاں ہر حکومت ناکام رہی ہے۔
اصل ماحولیاتی تحفظ سیاسی اتفاقِ رائے کا متقاضی ہے۔ اقبال کا خواب، جناح کا وژن اور پاکستان کا مستقبل سب اسی وقت محفوظ ہو سکتے ہیں جب ریاست اپنی موجودہ ترجیحات کا ازسرنو جائزہ لے۔ وزیراعظم کا شکوہ بجا ہے، لیکن اگر اس شکوے کو عملی حکمتِ عملی میں نہ بدلا گیا تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔
گیارہواں NFC ایوارڈ محض مالیاتی تقسیم کا آلہ نہیں، بلکہ قومی بقا کا اعلانِ نو بن سکتا ہے—اگر ہم چاہیں تو۔ اس فیصلے میں تاخیر تاریخ کا سب سے مہنگا سبق بن سکتا ہے، جسے آنے والی نسلیں نہ پڑھ سکیں گی، نہ معاف کریں گی۔
