وزیرِاعظم شہباز شریف کی جانب سے پاکستان کی نئی نیو انرجی وہیکل (NEV) پالیسی 2025-30 کا “رسمی” آغاز—جو درحقیقت پہلے ہی 19 جون کو ایک حکومتی اعلامیے کے ذریعے سرکاری” طور پر متعارف کرائی جا چکی تھی—ملک کے پالیسی کلچر کا ایک مانوس منظر پیش کرتا ہے۔ ایسا محسوس ہوا جیسے قوم ایک déjà vu (یعنی ماضی کی دُہراتی تصویر) کا سامنا کر رہی ہو۔ بظاہر فرق صرف اتنا تھا کہ اس بار وزیرِاعظم بنفسِ نفیس موجود تھے اور چند ذہین طلبہ کو برقی اسکوٹرز بطور تحفہ دیے گئے۔ اگرچہ اس بار وزیراعظم ہاؤس نے وضاحت کی کہ یہی لمحہ دراصل پالیسی کے مؤثر نفاذ کا آغاز ہے، مگر یہ بھی ایک علامتی تقریب ہی رہی—جیسے ہم ماضی میں کئی بار دیکھ چکے ہیں۔
یہ بات اپنی جگہ خوش آئند ہے کہ حکومت ایک ایسے شعبے میں سنجیدہ قدم اٹھا رہی ہے جو نہ صرف مستقبل کی سمت طے کرتا ہے بلکہ ماحولیاتی بقا اور توانائی کے بحران جیسے سنگین مسائل کے حل میں بھی کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ نیو انرجی وہیکل پالیسی کے تحت حکومت کا ہدف ہے کہ 2030 تک پاکستان میں فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں برقی ہوں، اور 2040 تک یہ شرح 90 فیصد تک پہنچ جائے۔ اگر یہ اہداف حاصل کر لیے جائیں تو یہ پاکستان کی توانائی کے شعبے میں کسی “انقلاب” سے کم نہ ہوگا، جیسا کہ ماضی میں سولر انرجی کے فروغ کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی نہ صرف اربوں روپے کی پٹرولیم درآمدات کو کم کرے گی بلکہ شہری فضائی آلودگی میں بھی خاطر خواہ کمی لائے گی، جو اس وقت سالانہ 105 ارب روپے سے زائد کے طبی اور پیداواری نقصانات کا سبب بن رہی ہے۔ اس حوالے سے حکومت کے عزائم نہایت قابلِ تعریف ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ عزائم محض نعروں کی حد تک رہیں گے یا واقعی زمینی حقائق میں کوئی تبدیلی لائیں گے؟
ماضی کی مثالیں کچھ زیادہ حوصلہ افزا نہیں۔ 2019 میں تحریکِ انصاف کی حکومت نے بھی NEV پالیسی متعارف کرائی تھی، جو کرونا وبا کے پیش نظر نہ صرف غیر مؤثر رہی بلکہ بالآخر عملی میدان میں کہیں دکھائی نہ دی۔ اب موجودہ حکومت نے اسے نئی شکل دے کر دوبارہ پیش کیا ہے، مگر سوال یہی ہے کہ کیا اس بار بھی صرف اعلانات اور رسمی تقاریب پر ہی اکتفا کیا جائے گا، یا واقعی ایسی سنجیدہ پالیسی تشکیل دی جائے گی جو عوام اور صنعت دونوں کے لیے کارآمد ہو؟
پالیسی کے نفاذ کے حوالے سے سب سے اہم سوال صارفین کا اعتماد اور صنعتی عملداری ہے۔ اگر برقی گاڑیاں عام لوگوں کی مالی پہنچ سے باہر رہیں، یا ان کے فوائد واضح نہ کیے گئے، تو ہدف حاصل کرنا محض ایک خواہش ہی رہے گا۔ ہمارا صنعتی ماضی گواہ ہے کہ کار ساز ادارے اکثر حکومتی سبسڈی اور مراعات کو عوام تک منتقل کرنے کے بجائے اپنے منافع میں اضافے کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ برقی گاڑیوں کے معاملے میں بھی یہی اندیشہ موجود ہے کہ کہیں یہ ایک اور “اشرافیہ کی سہولت” بن کر نہ رہ جائے۔
بیٹریوں کے معیار کا مسئلہ بھی نہایت سنگین ہے۔ اس وقت ملک میں جو برقی مصنوعات دستیاب ہیں، ان میں اکثر ناقص معیار کی بیٹریاں استعمال ہوتی ہیں جو نہ صرف کم عمر رکھتی ہیں بلکہ صارف کے لیے خطرناک بھی ہو سکتی ہیں۔ اگر حکومت واقعی NEV پالیسی کو کامیاب دیکھنا چاہتی ہے تو بیٹریوں کے لیے سخت معیار اور ضوابط کا تعین اور ان کا موثر نفاذ ضروری ہے۔
اسی طرح چارجنگ انفرا اسٹرکچر اور بیٹری سویپنگ اسٹیشنز کی موجودگی NEVs کی مقبولیت کے لیے لازم ہے۔ محض چند بڑے شہروں میں چارجنگ اسٹیشنز قائم کرنا کافی نہیں ہوگا۔ پورے ملک میں ایک مربوط اور قابلِ بھروسا نیٹ ورک بنانے کی ضرورت ہے، اور یہ کام نہ صرف طویل مدتی سرمایہ کاری کا متقاضی ہے بلکہ اس میں وفاق اور صوبوں کی مربوط شراکت بھی ناگزیر ہے۔
اس وقت مسئلہ صرف ٹیکنالوجی یا وسائل کا نہیں، بلکہ سیاسی سنجیدگی اور ادارہ جاتی تسلسل کا ہے۔ ہمارے ہاں اکثر پالیسیاں حکومتوں کے بدلنے کے ساتھ بدل جاتی ہیں یا فائلوں میں دفن ہو جاتی ہیں۔ اگر موجودہ حکومت واقعی توانائی کے شعبے میں انقلابی تبدیلی لانا چاہتی ہے، تو اسے یہ یقینی بنانا ہوگا کہ یہ پالیسی کسی مخصوص جماعت یا دورِ حکومت کی ملکیت نہ بنے بلکہ ایک قومی پالیسی کے طور پر تسلیم کی جائے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ برقی گاڑیاں خود ایک نظاماتی تبدیلی کا تقاضا کرتی ہیں۔ صرف گاڑیوں کی تبدیلی کافی نہیں، بلکہ پورے ٹرانسپورٹ نظام—بشمول پبلک ٹرانسپورٹ، انرجی گرڈ، مقامی پرزہ سازی، اور مینوفیکچرنگ کی زنجیروں—کو ازسرِنو ترتیب دینا ہوگا۔ اگر ہم محض بیرونِ ملک سے تیار شدہ برقی گاڑیاں درآمد کرتے رہے اور مقامی سطح پر اس صنعت کی ترقی کی کوئی کوشش نہ کی گئی تو یہ پالیسی نہ صرف معاشی بوجھ بنے گی بلکہ پاکستان میں صنعتی ترقی کا ایک اور موقع ضائع ہو جائے گا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت شور و شوق کی بجائے خاموشی سے مسلسل اقدامات کرے۔ ہر تقریب، تحفہ یا اعلان اس وقت با معنی ہوگا جب زمینی سطح پر ایک عام شہری کو سستی، محفوظ اور دیرپا برقی ٹرانسپورٹ دستیاب ہوگی۔ اس مقصد کے لیے حکومت کو فوری طور پر چارجنگ اسٹیشنز کے لیے قومی نیٹ ورک کا روڈ میپ جاری کرنا ہوگا، بیٹریوں کے معیار کے ضوابط نافذ کرنا ہوں گے، اور مقامی صنعت کو ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی طرف راغب کرنا ہوگا۔
آخر میں، حکومت نے اس میدان میں ایک بیج تو بو دیا ہے۔ لیکن فصل اسی وقت اُگے گی جب اسے لگاتار پانی دیا جائے، گھاس پھوس سے بچایا جائے، اور وقت پر دیکھ بھال کی جائے۔ ورنہ یہ بیج بھی ماضی کی پالیسیوں کی طرح خشک زمین میں گر کر ضائع ہو جائے گا۔ امید یہی ہے کہ اس بار ہمیں صرف ایک نیا نعرہ نہیں بلکہ ایک نیا سفر دیکھنے کو ملے—وہ سفر جو صرف تقریبات سے نہیں، بلکہ عملی اقدامات سے طے ہوتا ہے۔
