آج کی تاریخ

سیلاب کا عذاب: برصغیر پانی میں ڈوبا ہوا

برصغیر پاک و ہند اس وقت ایک سنگین قدرتی آفت کی لپیٹ میں ہے، جہاں یکے بعد دیگرے آنے والی موسلا دھار بارشوں نے تمام بڑے دریاؤں کو خطرناک حد تک لبریز کر دیا ہے۔ دریائے چناب، راوی، ستلج اور جہلم سمیت ہر دریا اب قہر برساتی موجوں میں تبدیل ہو چکا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے کئی علاقے زیرِ آب آ چکے ہیں، لاکھوں افراد کو بے گھر ہونا پڑا ہے، اور انفراسٹرکچر تباہی کے دہانے پر ہے۔ پانی اس خطے کے لیے ہمیشہ سے زندگی کا استعارہ رہا ہے، مگر جب یہی پانی بے قابو ہو جائے تو موت، بربادی اور محرومی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔پاکستان میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے ) کے مطابق اب تک 2 لاکھ 10 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، اور خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔ یہ یقینی طور پر ایک حوصلہ افزا پہلو ہے، جس کا سہرا این ڈی ایم اے ، پاک فوج، رینجرز، ریسکیو 1122 اور دیگر اداروں کی ہم آہنگ اور فوری کارروائیوں کو جاتا ہے۔ ان افراد کو امدادی کیمپوں میں پناہ دی گئی ہے جہاں انہیں طبی امداد، خوراک، اور دیگر ضروریاتِ زندگی فراہم کی جا رہی ہیں۔ تاہم، یہ وقتی ریلیف طویل مدتی مسائل کا حل نہیں۔این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ 29 اگست سے 9 ستمبر تک ایک اور شدید بارشوں کا سلسلہ متوقع ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جو پہلے ہی پانی میں گھرے ہوئے ہیں۔ پنجاب، آزاد کشمیر، اور گلگت بلتستان میں خطرہ زیادہ ہے، جہاں زمین کی ساخت اور پہاڑی طبعیت کے باعث لینڈ سلائیڈنگ اور اچانک سیلاب جیسے خطرات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ بھارت کی جانب سے بڑے ڈیموں کے دروازے کھولے جانے کے بعد پاکستان کے دریا مزید بپھر گئے ہیں، اور خاص طور پر پنجاب کے نچلے علاقوں میں سیلاب کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر اور شمالی ریاستوں میں صورتحال مزید ہولناک ہے۔ صرف ایک دن میں 36 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں سے 33 افراد ایک ہی لینڈ سلائیڈنگ کے واقعے میں لقمۂ اجل بنے۔ ویشنو دیوی کے مقدس مقام کے قریب یہ حادثہ ان ہزاروں زائرین کے لیے ایک سنگین وارننگ ہے جو ان علاقوں میں موسم سے بے خبر عبادت کے لیے آتے ہیں۔ بھارتی پنجاب میں ایک اسکول کی عمارت پانی میں گھر گئی ہے جہاں 200 کے قریب بچے پھنس گئے تھے۔ بارش نے نہ صرف گھروں، سڑکوں اور پلوں کو بہا دیا بلکہ ٹیلی کمیونیکیشن سروسز کو بھی مفلوج کر دیا ہے۔بھارت میں اگست کے صرف چند دنوں میں 612 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے، جو کہ معمول سے 726 فیصد زیادہ ہے۔ 1950 کے بعد یہ سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی بارش ہے۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی طرف واضح اشارہ کرتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی اب محض ایک سائنسی اصطلاح نہیں بلکہ ایک ٹھوس، خطرناک اور فوری مسئلہ بن چکی ہے۔پاکستان کی جانب سے کئی بار شکایات کی گئیں کہ بھارت بغیر کسی پیشگی اطلاع کے اپنے ڈیموں سے پانی چھوڑ دیتا ہے، جس سے پاکستانی علاقوں میں اچانک سیلاب آ جاتا ہے۔ اس بار اگرچہ کچھ ابتدائی وارننگز دی گئی ہیں، مگر ان کے اثرات سے بچاؤ کے لیے جو وقت درکار ہوتا ہے وہ بہت کم میسر آتا ہے۔ یہ صورتحال برصغیر میں پانی کے انتظام کے مسئلے کو ایک بار پھر اجاگر کرتی ہے — ایک ایسا مسئلہ جسے حل کیے بغیر دونوں ممالک سال بہ سال ایسی آفات کا سامنا کرتے رہیں گے۔سیلاب کے اثرات محض وقتی نہیں ہوتے۔ جب زمین پانی میں ڈوبتی ہے تو صرف فصلیں نہیں مرتیں، لوگوں کی روزی، ان کا مکان، ان کے مویشی، اور ان کی معاشی خودمختاری بھی ختم ہو جاتی ہے۔ لاکھوں افراد جو پہلے ہی غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہے ہوتے ہیں، سیلاب انہیں مزید پیچھے دھکیل دیتا ہے۔ دیہات کے اسکول، صحت کے مراکز، چھوٹے کاروبار اور زراعت — سب کچھ اس تباہی کا نشانہ بنتے ہیں۔این ڈی ایم اے اور دیگر اداروں کی مستعدی قابلِ ستائش ضرور ہے، مگر ہم کب تک محض ری ایکٹو پالیسیوں پر انحصار کرتے رہیں گے؟ کیا وقت نہیں آ گیا کہ برصغیر کے دونوں ممالک موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز کو مشترکہ طور پر قبول کریں اور پانی کے نظم و نسق، ابتدائی وارننگ سسٹم، ڈیموں کے بہتر انتظام، اور ہنگامی بنیادوں پر ماحولیاتی اصلاحات کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں؟ایک اور اہم پہلو میڈیا اور عوامی رویے کا ہے۔ اکثر لوگ جب تک براہ راست متاثر نہ ہوں، ان آفات کو محض خبروں کا حصہ سمجھتے ہیں۔ ہمیں یہ شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے کہ موسمیاتی بحران صرف ایک سائنسی یا جغرافیائی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی اور انسانی مسئلہ ہے، جو ہر فرد کو متاثر کر سکتا ہے۔ادھوری معلومات، کمزور منصوبہ بندی، اور سیاسی بےحسی کے ہوتے ہوئے یہ سلسلہ رکتا نظر نہیں آتا۔ آج اگر معجزاتی طور پر جانی نقصان کم ہے، تو کل اس کی ضمانت کون دے گا؟ ہمیں ہنگامی بنیادوں پر نہ صرف قدرتی آفات سے نمٹنے کے نظام کو مؤثر بنانا ہو گا بلکہ شہری منصوبہ بندی، زرعی نظام، ڈیم مینجمنٹ اور سرحد پار تعاون کے نئے ماڈلز بھی اپنانا ہوں گے۔اس وقت، ضرورت صرف بچاؤ کی نہیں بلکہ سبق سیکھنے کی ہے — کہ پانی زندگی دیتا ہے، مگر جب وہ سرکشی کرے تو سب کچھ بہا لے جاتا ہے۔ یہ سیلاب محض قدرتی نہیں، یہ ہماری اجتماعی کوتاہیوں کا نتیجہ بھی ہے۔ اگر ہم نے اب بھی آنکھیں نہ کھولیں، تو اگلا سیلاب شاید صرف زمینیں نہیں، امیدیں بھی بہا لے جائے گا۔…یہ سیلاب محض قدرتی نہیں، یہ ہماری اجتماعی کوتاہیوں کا نتیجہ بھی ہے۔ اگر ہم نے اب بھی آنکھیں نہ کھولیں، تو اگلا سیلاب شاید صرف زمینیں نہیں، امیدیں بھی بہا لے جائے گا۔اور سوال یہ ہے کہ جب 2022ء کے سیلاب کے زخم ابھی تک نہیں بھر سکے، تباہ شدہ بستیوں کے مکین آج بھی خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، تو پھر 2025 کے اس وسیع تر اور شدید تر سیلاب کے متاثرین کا کیا بنے گا؟ یہ محض ایک سوال نہیں، بلکہ ایک کڑوی حقیقت ہے جو ہر ذی شعور کو جھنجھوڑ دیتی ہے۔یاد رہے کہ 2022ء کے سیلاب کو تین سال ہونے کو آئے ہیں، جس نے سندھ، بلوچستان، جنوبی پنجاب اور خیبر پختونخوا کے متعدد اضلاع کو ناقابلِ بیان تباہی سے دوچار کیا تھا۔ لاکھوں افراد بے گھر ہوئے، کھربوں روپے کا مالی نقصان ہوا، فصلیں، مویشی، سڑکیں، اسکول، اسپتال — سب کچھ پانی کی نذر ہو گیا۔ اس وقت عالمی اداروں نے مدد کی یقین دہانیاں کروائیں، حکومت نے بحالی کے بڑے بڑے وعدے کیے، کئی اعلانات ہوئے، امداد کے اعداد و شمار نشر کیے گئے، مگر آج، تین سال بعد، وہ متاثرہ لوگ اب بھی مٹی، پانی اور بھوک کے بیچ بےیقینی کی زندگی گزار رہے ہیں۔بہت سے دیہات ایسے ہیں جہاں دوبارہ تعمیر کا آغاز تک نہیں ہوا، متاثرین کے لیے مستقل رہائش، روزگار یا تعلیمی سہولتیں فراہم نہیں کی جا سکیں۔ صحت کی سہولیات تو دور کی بات، صاف پانی تک میسر نہیں۔ ان علاقوں میں بچے تعلیم سے محروم ہو رہے ہیں، خواتین طبی سہولیات کے بغیر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، اور نوجوان روزگار کی تلاش میں شہروں کی خاک چھان رہے ہیں۔تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب پچھلے زخم بھرنے کی مہلت نہ ملی ہو، تب نیا زخم لگنے پر ہم کس بنیاد پر توقع رکھیں کہ یہ حکومت، یہ نظام، یا یہ معاشرہ ان متاثرین کو سنبھال لے گا؟ جب سابقہ متاثرین ابھی تک انصاف، بحالی اور وقار کے ساتھ جینے کا حق حاصل نہیں کر سکے، تو اب ان نئے متاثرین کے لیے کیا لائحہ عمل ہے؟کیا ایک بار پھر متاثرہ افراد امدادی سامان کی قطاروں میں کھڑے رہیں گے؟ کیا پھر وہی خیمے، وہی عارضی کیمپ، اور وہی وقتی امداد کا کھیل چلے گا؟ کیا ایک بار پھر یہ سب لوگ میڈیا کی توجہ ختم ہوتے ہی فراموش کر دیے جائیں گے؟ یا کیا واقعی اس بار ہم کچھ مختلف، کچھ پائیدار، اور کچھ حقیقی اقدامات دیکھیں گے؟یہ وہ سوالات ہیں جو صرف حکومت، ادارے، یا میڈیا پر ہی لاگو نہیں ہوتے، بلکہ ہم سب پر لاگو ہوتے ہیں۔ جب ہم کسی قدرتی آفت کو صرف Breaking سمجھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں، تو ہم ایک ذمہ دار معاشرے کے طور پر ناکام ہو جاتے ہیں۔آج کی ضرورت وقتی ریلیف نہیں بلکہ مستقل، شفاف اور قابلِ عمل بحالی کا نظام ہے۔ اس میں صرف حکومت کا نہیں، بلکہ نجی شعبے، این جی اوز، شہری سوسائٹی، اور بین الاقوامی اداروں کا بھی فعال کردار ہونا چاہیے۔ منصوبہ بندی کا فقدان، کرپشن، اور ترجیحات کی غلطی ہمیں ایک ایسے دائرے میں گھما رہی ہے جہاں سے نکلنے کا راستہ صرف اجتماعی بیداری اور عملی اقدامات ہیں۔آج اگر ہم نے یہ سوال نہیں اٹھایا — کہ 2022 کے متاثرین کیوں بھولے گئے؟ — تو کل 2025 کے یہ متاثرین بھی تاریخ کے صفحات میں محض ایک اور “آفت زدہ” کے طور پر لکھ دیے جائیں گے۔ مگر یاد رکھیے، سیلاب کے پانی کے ساتھ اگر انسانیت، منصوبہ بندی، اور احساسِ ذمہ داری بھی بہہ گئے تو پھر محض امداد کافی نہیں ہو گی۔ ہمیں ایک مکمل، انسانی اور دیرپا حل کی طرف بڑھنا ہو گا — ورنہ ہر سال ایک نیا سیلاب آئے گا، اور ہر بار ہم کچھ نیا نہیں، بلکہ وہی پرانا المیہ دہرائیں گے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں