مصباح الحق نیپال پریمیئر لیگ کی ٹیم سودرپسچم رائلز کے ہیڈ کوچ مقرر-مصباح الحق نیپال پریمیئر لیگ کی ٹیم سودرپسچم رائلز کے ہیڈ کوچ مقرر-معدنیات نکال کر فروخت بھی کریں گے، صوبے کی ترقی کیلئے وسائل بروئے کار لانا ضروری ہے: گورنر کے پی-معدنیات نکال کر فروخت بھی کریں گے، صوبے کی ترقی کیلئے وسائل بروئے کار لانا ضروری ہے: گورنر کے پی-سید حیدر شاہ کو اقوام متحدہ میں پاکستان کا نیا مستقل مندوب تعینات کرنے کا فیصلہ-سید حیدر شاہ کو اقوام متحدہ میں پاکستان کا نیا مستقل مندوب تعینات کرنے کا فیصلہ-پاکستان ہاکی ٹیم سلطان ازلان شاہ کپ میں شرکت کرے گی، پی ایچ ایف صدر کی تصدیق-پاکستان ہاکی ٹیم سلطان ازلان شاہ کپ میں شرکت کرے گی، پی ایچ ایف صدر کی تصدیق-ہوائی قلعے نہیں بنائے، مستحق افراد کو اپنی چھت فراہم کی، پنجاب کیلئے خدمات عالمی سطح پر تسلیم ہوئیں: مریم نواز-ہوائی قلعے نہیں بنائے، مستحق افراد کو اپنی چھت فراہم کی، پنجاب کیلئے خدمات عالمی سطح پر تسلیم ہوئیں: مریم نواز

تازہ ترین

ریلوے میں پے در پے حادثات، شیر شاہ سانحے کے بعد ملت اور گرین لائن کی کوچیں ڈی ریل

بہاولپور (ڈسٹرکٹ رپورٹر ) پاکستان ریلوے میں حفاظتی بحران شیر شاہ کے المناک سانحے کے بعد ملت ایکسپریس اور گرین لائن کی کوچیں بھی پٹری سے اتر گئیں، انتظامی نگرانی پر سوالات شیر شاہ حادثے میں پانچ مسافر جاں بحق، 49 زخمی؛ ملت ایکسپریس کی بوگی پٹری سے اترنے اور کراچی کینٹ پر گرین لائن کی دو کوچوں کے ڈی ریل ہونے کی اطلاعات، شفاف تحقیقات اور حفاظتی نظام کا جائزہ لینے کا مطالبہ پاکستان ریلوے میں ٹرینوں کے پے در پے پٹری سے اترنے کے واقعات نے مسافروں کی حفاظت، ٹریک کی دیکھ بھال، کوچوں کی فنی حالت اور انتظامی نگرانی پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں 13 اکتوبر کو شیر شاہ کے قریب رحمان بابا ایکسپریس کے المناک حادثے، لاہور میں جعفر ایکسپریس کی ایک کوچ کے پٹری سے اترنے اور 16 اکتوبر کو ملت ایکسپریس اور گرین لائن سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات نے ریلوے کے حفاظتی انتظامات کو ایک بار پھر موضوعِ بحث بنا دیا ہے ریلوے ذرائع کے مطابق 16 اکتوبر کو 18 ڈاؤن ملت ایکسپریس جو لالہ موسیٰ سے کراچی جا رہی تھی، ریتی ڈہر سیکشن کے قریب کلومیٹر نمبر 575/9 پر حادثے کا شکار ہوئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کوچ نمبر 10 کے اگلے دونوں پہیے پٹری سے اتر گئے۔ واقعے کی وجوہات اور مسافروں کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان سے متعلق مکمل سرکاری تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں اطلاعات کے مطابق اسی روز چیف ایگزیکٹو آفیسر پاکستان ریلوے نے فیصل آباد اسٹیشن سے ملت ایکسپریس کا افتتاح کیا اور ٹرین نجی انتظامیہ کے حوالے کی گئی انتظامی منتقلی کے پہلے ہی روز ڈی ریلمنٹ کی اطلاع نے کوچوں کے فنی معائنے اور حفاظتی انتظامات سے متعلق سوالات کو جنم دیا ہے تاہم حادثے کی اصل وجہ کا تعین تکنیکی تحقیقات ہی سے ممکن ہوگا۔ اسی روز کراچی کینٹ سٹیشن پر گرین لائن ایکسپریس کی دو کوچوں کے پٹری سے اترنے کی اطلاع بھی سامنے آئی واقعے کی سرکاری تصدیق، وجوہات اور مسافروں کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کی تفصیلات تاحال واضح ہونا ضروری ہیں اگر ان اطلاعات کی تصدیق ہو جاتی ہے تو ایک ہی روز دو مختلف ٹرینوں کے ڈی ریل ہونے کے واقعات ریلوے انتظامیہ کے لیے اہم حفاظتی معاملہ ہوں گے تاہم دونوں واقعات کے درمیان کسی مشترکہ وجہ یا غفلت کا تعین تحقیقات کے بغیر نہیں کیا جا سکتا 13 اکتوبر کو ملتان کے قریب شیر شاہ ریلوے اسٹیشن پر کراچی سے پشاور جانے والی 47 اپ رحمان بابا ایکسپریس کی 14 کوچیں پٹری سے اتر گئیں ڈان کی رپورٹ کے مطابق حادثے میں پانچ مسافر جاں بحق اور 49 زخمی ہوئے زخمیوں کو نشتر اسپتال ملتان منتقل کیا گیا، جبکہ ریسکیو اداروں نے امدادی کارروائیاں انجام دیں ابتدائی مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ سے متعلق شائع ہونے والی اطلاعات میں انجن کے قریب دوسری مسافر کوچ کے ایک لٹکے ہوئے حصے کے کراس اوور پوائنٹ میں پھنسنے کو حادثے کی ممکنہ وجہ قرار دیا گیا تھا وزیر ریلوے نے وفاقی حکومت کے انسپکٹر آف ریلوے کو تحقیقات کی ذمہ داری سونپی حادثے کی حتمی وجوہات اور ذمہ داری کا تعین مکمل انکوائری کے بعد ہی ممکن ہوگا۔ 13 اکتوبر کو لاہور ریلوے اسٹیشن پر جعفر ایکسپریس کی ایک کوچ کے پٹری سے اترنے کی اطلاع بھی سامنے آئی۔ مختلف مقامات پر پیش آنے والے ان واقعات کے بعد ریلوے ٹریکس، کوچوں اور حفاظتی نظام کی جانچ کی ضرورت مزید اہم ہو گئی ہے، تاہم ان واقعات کا باہمی تعلق ثابت نہیں ہوا ۔حالیہ واقعات کے تناظر میں ضروری ہے کہ ریلوے انتظامیہ ملت ایکسپریس، گرین لائن، جعفر ایکسپریس اور رحمان بابا ایکسپریس کے واقعات کی تحقیقات میں ہونے والی پیش رفت سے عوام کو آگاہ کرے ۔متاثرہ کوچوں کے فنی معائنے، ٹریک اور کراسنگ پوائنٹس کی حالت، مرمتی ریکارڈ اور روانگی سے قبل حفاظتی جانچ کی تفصیلات سامنے لائی جائیں۔ ملت ایکسپریس کی نجی انتظامیہ کو منتقلی کے بعد فنی دیکھ بھال اور حفاظتی نگرانی کی ذمہ داریوں کی وضاحت بھی ضروری ہے۔ تاہم کسی انتظامیہ کو حادثے کا ذمہ دار قرار دینے کے لیے ٹھوس شواہد اور تحقیقات کے نتائج بنیادی اہمیت رکھتے ہیں پاکستان ریلوے میں مسافروں کی جانوں کا تحفظ اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ شیر شاہ کے المناک حادثے کے بعد دیگر ٹرینوں سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات نے حفاظتی انتظامات کی مؤثریت پر سوالات اٹھا دیے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام واقعات کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں، فنی خامیوں کو دور کیا جائے اور جہاں غفلت ثابت ہو، وہاں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے ریلوے انتظامیہ کی جانب سے بروقت معلومات کی فراہمی اور عملی اصلاحات ہی مسافروں کے اعتماد کی بحالی اور مستقبل میں ایسے حادثات کے خطرات کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں