پاکستان تحریکِ انصاف (PTI) اس وقت ایک ایسی صورتِ حال سے گزر رہی ہے جو نہ صرف اس کی تنظیمی ساخت پر سوالیہ نشان ہے بلکہ قیادت کے فیصلوں اور جماعتی اتحاد کے درمیان خلیج کو بھی بے نقاب کر رہی ہے۔ “استعفیٰ دیں یا نہ دیں؟ ضمنی انتخابات میں حصہ لیں یا نہ لیں؟” — پارٹی کے اندر جاری یہ تذبذب اب محض سیاسی بحث نہیں رہا بلکہ ایک ایسی علامت بن چکا ہے جو بتاتی ہے کہ جماعت اندر سے کس قدر تقسیم کا شکار ہے۔گزشتہ دنوں پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی نے اکثریتی فیصلہ کیا کہ وہ ان نشستوں پر ضمنی انتخابات میں حصہ لے گی جو پارٹی کے قانون سازوں کی نااہلی کے باعث خالی ہوئی ہیں۔ یہ فیصلہ بظاہر سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ تھا، لیکن جیسے ہی یہ بات سامنے آئی، عمران خان کی بہنوں کی جانب سے شدید ردِعمل دیکھنے کو ملا، جنہوں نے اسے پی ٹی آئی کے بانی کی ہدایات سے انحراف قرار دیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ جب یہ فیصلہ عمران خان کے سامنے منظوری کے لیے رکھا گیا تو انہوں نے اسے فوری رد یا قبول کرنے کے بجائے “مزید غور” کے لیے واپس بھیج دیا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی میں اب فیصلے صرف ادارہ جاتی بنیاد پر نہیں بلکہ شخصی سطح پر زیرِ غور آتے ہیں — اور حتمی اختیار اب بھی صرف ایک فرد کے ہاتھ میں ہے۔اسی دوران، پارٹی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے استعفے نے ایک اور دھچکا دیا، جس کی وجہ آج تک واضح نہیں ہو سکی۔ مگر خان صاحب نے انہیں بھی کام جاری رکھنے کی ہدایت دی۔ یہ طرزِ عمل قیادت کی کمزور گرفت یا غیر واضح حکمت عملی کا عکس بھی ہو سکتا ہے۔پی ٹی آئی کی سیاست اب ایک ایسے دوراہے پر آ کھڑی ہوئی ہے جہاں مختلف دھڑے، مختلف بیانیے، اور مختلف ترجیحات کے ساتھ کھڑے ہیں۔ بعض رہنما ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کے حق میں ہیں تو کچھ اسے عمران خان کی پالیسی کے خلاف سمجھتے ہیں۔ پارٹی کی ساخت اب باقاعدہ تنظیم سے زیادہ ایک منتشر گروہ کا تاثر دے رہی ہے، جہاں ہر ایک اپنی بات کو “اصل ترجمان” قرار دیتا ہے، اور مرکزی قیادت کی جانب سے حتمی بیانیہ یا سمت ناپید ہے۔خان صاحب کی جانب سے محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف بنانے کی خواہش نے بھی پارٹی کے اندر اختلافات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں کو یہ خدشہ ہے کہ اچکزئی صاحب کا ماضی میں مقتدر حلقوں کے خلاف سخت مؤقف پارٹی کے لیے مشکلات کھڑی کر سکتا ہے۔ اس کے باوجود عمران خان اس پر بضد ہیں، گویا وہ اس معاملے میں اسٹیبلشمنٹ کو دو اختیارات دینا چاہتے ہیں — یا تو نااہل کیے گئے پی ٹی آئی رہنماؤں کو بحال کیا جائے، یا پھر اچکزئی کو قبول کیا جائے۔یہ حکمتِ عملی بظاہر دلیرانہ سہی، لیکن عملی سیاسی ماحول میں یہ خود پی ٹی آئی کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتی ہے۔ جماعت ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں تنظیمی ڈھانچہ، فیصلہ سازی اور قیادت، سب کچھ بے یقینی کا شکار ہیں۔ صحافتی حلقوں کی طرف سے عمران خان کو “یُو ٹرن” لینے اور مخالفین سے کسی نہ کسی مفاہمت کی تجویز دی جا رہی ہے، لیکن خان صاحب اب بھی اپنی ضد پر قائم دکھائی دیتے ہیں۔یہ تمام صورتحال ایک ایسے بحران کو جنم دیتی ہے جو محض سیاسی نہیں، بلکہ وجودی (existential) نوعیت کا ہے۔ کیا خالص ارادے، ضد، یا نظریاتی استقامت پی ٹی آئی کو موجودہ بحران سے نکال سکتے ہیں؟ شاید، لیکن اس کے امکانات کم ہیں۔ ارادہ اور عزم اپنی جگہ، مگر کسی بھی سیاسی جماعت کو دیرپا بنانے کے لیے داخلی استحکام، مشاورت پر مبنی فیصلے، اور تنظیمی ہم آہنگی ناگزیر ہوتی ہے — وہ عناصر جو اس وقت پی ٹی آئی میں ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔اس سیاسی بے سمتی کا سب سے بڑا نقصان خود پی ٹی آئی کے کارکنان اور ووٹرز کو ہو رہا ہے، جو واضح رہنمائی سے محروم ہیں۔ انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ جماعت ضمنی الیکشن میں حصہ لے رہی ہے یا نہیں، اس کا مؤقف کیا ہے، یا قیادت میں کون کس پوزیشن پر ہے۔ جب قیادت خود غیر یقینی کا شکار ہو، تو عام کارکن کہاں جائے؟
