پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات، جو عشروں تک سرد مہری اور بداعتمادی کا شکار رہے، اب رفتہ رفتہ بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ 1971ء کے تلخ واقعات، جن کے نتیجے میں مشرقی پاکستان علیحدہ ہو کر ایک نئی ریاست بنگلہ دیش کی صورت میں سامنے آیا، آج بھی دونوں ملکوں کے تعلقات پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے اشارے، اور پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا دورۂ ڈھاکہ، اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ماضی کی تلخیوں کو پیچھے چھوڑ کر نئے باب کا آغاز ممکن ہے۔
وزیر خارجہ کی یہ تیرہ سال بعد ہونے والی دورہ نہ صرف علامتی اہمیت رکھتی ہے بلکہ اس کے دوران مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے چھ معاہدوں پر دستخط ہوئے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دونوں ممالک اب عملی اقدامات کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ تاہم، اس مثبت پیشرفت کے ساتھ ہی بنگلہ دیش کی جانب سے 1971ء کے واقعات پر پاکستان سے باقاعدہ معافی اور ہرجانے کا مطالبہ ایک بار پھر سامنے آیا ہے، جس نے اس نوزائیدہ بہتری کو ایک حساس موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔
یہ مطالبہ کوئی نیا نہیں۔ شیخ حسینہ واجد کے دورِ حکومت میں اس کو باقاعدہ سرکاری موقف کی حیثیت حاصل رہی۔ ان کے دور میں پاکستان مخالف بیانیہ کو جس شدت سے اپنایا گیا، اس نے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان فاصلوں کو بڑھایا بلکہ بنگلہ دیش کے اندر ایسی فضا قائم کی جس میں پاکستان کے ساتھ کسی بھی مفاہمت کو کمزوری سمجھا جاتا رہا۔ لیکن اب، جب عبوری حکومت نے شیخ مجیب الرحمٰن سے وابستہ علامتی نشانات جیسے کہ ان کی تصویر کو کرنسی سے ہٹانے جیسے اقدامات کیے ہیں، تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا بنگلہ دیشی ریاست اب ماضی کے بیانیے سے آگے بڑھنا چاہتی ہے؟
اس ساری صورتحال میں پاکستان کا مؤقف وہی ہے جو برسوں سے چلا آ رہا ہے: کہ 1974ء میں بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کے بعد، اور جنرل پرویز مشرف کی جانب سے 2002ء میں 1971ء کے واقعات پر افسوس” کے اظہار کے بعد، یہ باب بند ہو جانا چاہیے۔ پاکستان یہ تسلیم کرتا ہے کہ 1971ء میں جو کچھ ہوا وہ ایک انسانی المیہ تھا، اور اس میں بہت سے فریقین کی کوتاہیاں شامل تھیں، لیکن ایک قومی سطح پر معافی مانگنے کا مطالبہ، خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب دونوں ممالک تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، نہ صرف غیرضروری ہے بلکہ خطے میں استحکام کی کوششوں کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ معافی مانگنے یا نہ مانگنے کا سوال کب تک دونوں ممالک کے تعلقات کو یرغمال بنائے رکھے گا؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ دونوں ممالک ماضی کے اس دکھ کو ایک مشترکہ سانحہ سمجھ کر آگے بڑھیں؟ جیسا کہ جرمنی اور فرانس نے دوسری جنگ عظیم کے بعد کیا، یا جنوبی افریقہ نے اپنے ماضی سے نجات پانے کے لیے کیا، ویسا ہی کوئی راستہ جنوبی ایشیا میں بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ صرف ایک فریق کی ذمہ داری نہ ٹھہرائی جائے بلکہ دونوں اطراف اپنے اپنے کردار پر دیانت داری سے نظرثانی کریں۔
آج جب دنیا خطے کے اندر تعاون اور علاقائی روابط کو مستقبل کی ضمانت سمجھتی ہے، تو پاکستان اور بنگلہ دیش کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ صرف ماضی کے زخموں کو کریدنے کی بجائے، موجودہ اور آئندہ نسلوں کی فلاح کو پیشِ نظر رکھیں۔ تجارت، تعلیم، ثقافت، اور ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے لیے قیمتی اثاثہ بن سکتے ہیں۔ ان کے درمیان ایک مشترکہ تاریخ، زبان، ادب، اور عوامی رابطے کی گہری جڑیں ہیں جو دوبارہ بحال ہو سکتی ہیں۔
جہاں تک 1971ء کے واقعات کا تعلق ہے، ان پر تحقیق اور مکالمہ ضروری ہے۔ لیکن یہ مکالمہ تعصب اور الزام تراشی سے ہٹ کر ایک غیرجانبدارانہ، تاریخ پر مبنی اور مستقبل دوست انداز میں ہونا چاہیے۔ اس سلسلے میں مشترکہ تحقیقاتی کمیشن یا علمی اداروں کی سطح پر تعاون ایک مثبت قدم ہو سکتا ہے، تاکہ نسلِ نو ان واقعات کو صرف جذباتی بیانیوں کے ذریعے نہیں بلکہ معروضی تجزیے کے ذریعے سمجھ سکے۔
سارک کی بحالی کی بات بھی اس تناظر میں اہم ہے۔ اگرچہ بھارت کی ہٹ دھرمی نے اس پلیٹ فارم کو غیر مؤثر بنا دیا ہے، لیکن بنگلہ دیش، پاکستان اور چین کے درمیان موجود سہ فریقی تعاون کے امکانات کو بڑھا کر علاقائی ترقی کا ایک نیا ماڈل تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ یہ ماڈل تجارت، بنیادی ڈھانچے، اور توانائی کے شعبوں میں گہرے تعاون کو ممکن بنا سکتا ہے۔
بنظرِ غائر دیکھا جائے تو بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان دوری کا سبب صرف ماضی نہیں، بلکہ موجودہ سیاسی بیانیے بھی ہیں جو اکثر مقامی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ جب تک سیاست دان ماضی کے واقعات کو آج کے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرتے رہیں گے، مفاہمت کا عمل کمزور رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ عبوری حکومت کی نسبتاً غیرجانبدارانہ پالیسی کو ایک موقع سمجھا جانا چاہیے، تاکہ دونوں ممالک ایک نئے صفحے کا آغاز کر سکیں۔
آخر میں، امید کی جا سکتی ہے کہ ڈھاکہ میں آنے والی نئی حکومت بھی اسی مصالحتی روش کو اپنائے گی۔ ایک ایسا رویہ جو جذبات کی بجائے حقیقت پسندی پر مبنی ہو، اور جو ماضی سے سبق سیکھ کر ایک پائیدار، پُرامن اور ترقی پسند تعلق کی بنیاد رکھے۔ پاکستان کی جانب سے خیرسگالی کے موجودہ پیغامات کو بنگلہ دیش میں پذیرائی ملنی چاہیے، کیونکہ دونوں اقوام کے عوام نے ماضی میں جو دکھ جھیلے ہیں، وہ اب دوستی، تعاون اور ہم آہنگی کے حق دار ہیں۔
ماضی سے سبق لینا ضروری ہے، لیکن اُسی ماضی میں قید رہ جانا کسی کے لیے فائدہ مند نہیں۔ اگر پاکستان اور بنگلہ دیش اپنے زخموں پر مرہم رکھ کر آگے بڑھنے کا فیصلہ کر لیں، تو پورا خطہ اس مصالحت کے ثمرات سے فیضیاب ہو سکتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ معافی کے مطالبے کی سیاست سے آگے بڑھ کر حقیقت پسندی کے ساتھ خطے میں امن اور ترقی کی نئی بنیاد رکھی جائے۔
اگر عوامی رابطوں کی بات کی جائے تو یہ حقیقت ہے کہ پاکستانی اور بنگلہ دیشی عوام کے درمیان کوئی ذاتی عداوت یا دشمنی نہیں ہے۔ دونوں طرف کے عوام ایک دوسرے کی ثقافت، زبان، کھانوں، موسیقی اور کھیلوں کے ذریعے جڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں آج بھی بنگلہ دیشی موسیقاروں، شاعروں، اور ادیبوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، اور اسی طرح بنگلہ دیش میں بھی پاکستانی ٹیلی ویژن ڈرامے اور موسیقی کو پذیرائی حاصل ہے۔ یہ ثقافتی روابط اس بات کا ثبوت ہیں کہ عوام کے دلوں میں دشمنی نہیں بلکہ تجسس، دلچسپی اور ایک دوسرے کو جاننے کی خواہش موجود ہے۔
یہی پہلو ایک امید افزا موقع فراہم کرتا ہے کہ ریاستی تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے حکومتیں عوامی سطح پر ’’پیپل ٹو پیپل‘‘ رابطوں کو فروغ دیں۔ ویزہ پالیسیوں میں نرمی، طلبہ کے تبادلے کے پروگرام، مشترکہ تعلیمی و تحقیقی منصوبے، اور کھیلوں کے ٹورنامنٹس جیسے اقدامات ان دونوں اقوام کے درمیان اعتماد کی فضا کو بحال کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
علاوہ ازیں، میڈیا کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ ماضی میں دونوں ممالک کے میڈیا نے اکثر ایک دوسرے کے خلاف تعصب پر مبنی بیانیے کو فروغ دیا، خاص طور پر جب حکومتوں کے تعلقات کشیدہ ہوئے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیا کو ذمہ داری کے ساتھ وہ کردار ادا کرنا چاہیے جو تعمیری اور مفاہمتی ہو۔ دونوں ممالک کے میڈیا ادارے اگر مشترکہ پروڈکشنز، تبادلۂ خیالات، اور صحافتی وفود کے ذریعے ایک دوسرے کو بہتر سمجھنے کی کوشش کریں، تو یہ رجحان بالآخر عام عوام کے رویوں کو بھی نرم بنا سکتا ہے۔
دوسری جانب، تجارت کا شعبہ ایسا میدان ہے جس میں دو طرفہ مفادات موجود ہیں۔ پاکستان کے لیے بنگلہ دیش کی ٹیکسٹائل صنعت ایک اہم مثال ہے، جبکہ بنگلہ دیش کے لیے پاکستان کی زرعی مصنوعات، انجینئرنگ گڈز، اور آئی ٹی سروسز کشش رکھتی ہیں۔ اگر دونوں ممالک ایک جامع تجارتی معاہدہ کریں، جس میں ٹیرف میں نرمی اور نان ٹیرف رکاوٹوں کا خاتمہ شامل ہو، تو اس سے دونوں معیشتوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اس قسم کے معاشی انضمام سے سیاسی تلخیاں خود بخود کم ہو سکتی ہیں، کیونکہ معاشی مفادات اکثر سیاسی اختلافات پر غالب آ جاتے ہیں۔
تاہم، سب سے اہم بات جو ان تمام کوششوں کے مرکز میں ہونی چاہیے، وہ یہ ہے کہ ماضی کے سانحے کو عزت و احترام کے ساتھ یاد رکھا جائے، نہ کہ نفرت اور سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا جائے۔ دونوں ممالک کو چاہیے کہ وہ 1971ء کے واقعات پر غیرجانبدارانہ تاریخی مطالعہ کر کے عوام کو حقیقت سے آگاہ کریں۔ اس مقصد کے لیے ایک دو طرفہ “تاریخی سچائی اور مفاہمت کمیشن” قائم کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ جنوبی افریقہ میں کیا گیا تھا۔ اس کے ذریعے نہ صرف ماضی کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکے گا بلکہ مستقبل کے لیے ایک مضبوط بنیاد بھی قائم ہو گی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ 1971ء ایک قومی سانحہ تھا، اور اس کی یاد ہر دو طرف کے لوگوں کے دلوں میں ایک درد کے ساتھ موجود ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس درد کو ایک مستقل زخم بنائے رکھیں گے، یا اس سے سبق سیکھ کر ایک صحت مند مستقبل کی طرف بڑھیں گے؟ اگر معافی کا مطالبہ ایک غیرلچکدار شرط بن جائے، تو مفاہمت کی تمام راہیں بند ہو جائیں گی۔ اسی لیے اب وقت آ گیا ہے کہ دونوں ممالک جذباتی ردعمل کی بجائے عقلمندی، فہم و فراست، اور دور اندیشی سے کام لیں۔
پاکستان کی موجودہ قیادت، جیسا کہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے دورے سے ظاہر ہوتا ہے، مفاہمت، تعاون اور نئے سرے سے تعلقات کی بحالی کے لیے سنجیدہ ہے۔ یہ ایک قیمتی موقع ہے جسے ضائع نہیں ہونا چاہیے۔ اسی طرح بنگلہ دیش کی عبوری حکومت، اگر وہ واقعی ایک آزادانہ اور متوازن خارجہ پالیسی اپنانا چاہتی ہے، تو اسے بھی اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک نئے آغاز کی بنیاد رکھنی چاہیے۔
نتیجتاً، 1971ء کے سانحے کو صرف ایک مطالبے کی بنیاد بنانے کے بجائے ایک مشترکہ تاریخی حقیقت تسلیم کر کے، دونوں ممالک کو چاہیے کہ وہ اس پر ایک ایسی طویل المیعاد مفاہمت کی بنیاد رکھیں جو آنے والی نسلوں کے لیے امن، ترقی، اور دوستی کا پیغام ہو۔ اگر پاکستان اور بنگلہ دیش اپنے تاریخی بوجھ کو دانشمندی سے سنبھالنے میں کامیاب ہو جائیں، تو وہ نہ صرف اپنے تعلقات کو بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ پورے خطے کے لیے بھی ایک پائیدار امن اور تعاون کی مثال قائم کر سکتے ہیں۔ یہ وہ لمحہ ہے جب دونوں ریاستوں کو بڑے دل کا مظاہرہ کرنا ہوگا، کیونکہ ماضی کو دفن کیے بغیر مستقبل کی راہ ہموار نہیں کی جا سکتی۔
