وہ لوگ جو اینٹیں پکاتے ہیں، ان کے خواب راکھ ہو چکے ہیں۔ ان کے ہاتھوں سے جو اینٹیں نکلتی ہیں، وہ محلات تعمیر کرتی ہیں، سڑکیں بناتی ہیں، اور شہروں کو آسمان سے باتیں کرنے کے قابل بناتی ہیں۔ مگر انہی ہاتھوں کی اپنی زندگی، اپنی حرمت، اور اپنے حقوق کی قیمت مٹی سے بھی کم سمجھی جاتی ہے۔ پاکستان کے اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے مزدور آج کے دور کے زندہ غلام ہیں۔ اور یہ غلامی صرف جسمانی مشقت کی نہیں، بلکہ نسلوں، عزتوں، اور انسانیت کی ہے۔
نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کی حالیہ رپورٹ—جو فیصل آباد اور قصور میں کی گئی تحقیق پر مبنی ہے—ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔ یہ رپورٹ صرف ایک سروے نہیں بلکہ ایک اجتماعی ماتم ہے، جس میں ہمیں ان انسانوں کی زندگیوں کی جھلک دکھائی گئی ہے جنہیں ہم نے اپنی ترقی کا خام مال بنا رکھا ہے۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ 97 فیصد مزدور بھٹہ مزدوری میں اس وقت داخل ہوئے جب وہ ہنگامی قرض لینے پر مجبور تھے۔ ان میں سے 90 فیصد کے پاس کوئی تحریری معاہدہ موجود نہیں، جس کا مطلب ہے کہ وہ قانونی تحفظات سے مکمل طور پر محروم ہیں اور ریاست کی نگاہ میں عملاً وجود نہیں رکھتے۔
یہی نہیں، ان بھٹوں میں کام کرنے والے بچے تعلیم سے محروم، شدید مشقت کا شکار، اور ایک ایسی غربت کی زنجیر میں جکڑے ہوئے ہیں جو نسل در نسل منتقل ہو رہی ہے۔ ان کا بچپن، ان کا مستقبل، ان کا خواب سب کچھ اینٹوں کی دھول میں دفن ہو چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 70 فیصد سے زائد خاندان ایک ہی کمرے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ہر مزدور جس کا انٹرویو کیا گیا، اس نے زبانی گالیوں، مار پیٹ، تشدد، اغوا اور حتیٰ کہ قتل جیسے واقعات کی نشان دہی کی۔
خواتین کی حالت تو اور بھی افسوسناک ہے۔ وہ نہ صرف جسمانی مشقت کا سامنا کرتی ہیں بلکہ جنسی ہراسانی، زبردستی کی شادیاں، اور عزت نفس کو روندنے والے سلوک کا بھی شکار ہیں۔ ان کی پکار نہ سنی جاتی ہے، نہ سمجھی جاتی ہے۔ مقامی انتظامیہ، پولیس، اور سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے حلقے—جن پر ان کا تحفظ فرض ہے—خود ان کے استحصال کی ڈھال بنے ہوئے ہیں۔
یہ ایک منظم نظام ہے جس کا مقصد ان مزدوروں کو ہمیشہ کے لیے محتاج اور مقروض رکھنا ہے۔ قرض کی رقم جان بوجھ کر بڑھائی جاتی ہے، تاکہ کبھی مکمل ادائیگی ممکن نہ ہو۔ قانون موجود ہے، جیسے کہ جبری مشقت کے خاتمے کا قانون، مگر اس پر عملدرآمد کا حال یہ ہے کہ محض 2,300 خاندان اب تک رہا کروائے جا سکے ہیں، جو کہ اس ظلم کی وسعت کے سامنے ایک قطرے کے برابر بھی نہیں۔
اب وقت ہے کہ ہم علامتی منصوبوں، نمائشی اقدامات، اور رسمی ہمدردیوں سے آگے بڑھیں۔ حکومت کو جبری مشقت کے خلاف قوانین پر سختی سے عملدرآمد کروانا ہوگا، آزاد کیے گئے خاندانوں کے لیے باعزت بحالی کے مستقل انتظامات کرنا ہوں گے، اور ان کے معاشی انحصار کو ختم کرنے کے لیے بامعنی مائیکرو کریڈٹ اسکیمیں متعارف کرانی ہوں گی تاکہ وہ دوبارہ ان ظالموں کے چنگل میں نہ پھنسیں۔ خواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے خصوصی ضابطے بنانے اور ان پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ اس صنعت کو مکمل طور پر قانونی دائرہ کار میں لا کر ایک شفاف رجسٹریشن، نگرانی اور احتساب کا نظام بنایا جانا چاہیے، جو محض رپورٹوں یا کانفرنسوں کی زینت نہ ہو بلکہ زمینی سطح پر حقیقی تبدیلی کا آغاز بنے۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جبری مشقت کا خاتمہ کوئی خیرات نہیں، بلکہ یہ آئینی اور انسانی حق ہے۔ یہ انصاف ہے، عزتِ نفس کی بازیافت ہے، اور ایک ایسی ریاست کے وعدے کی تکمیل ہے جو اپنے ہر شہری کو برابری، تحفظ اور ترقی کے مواقع فراہم کرنے کی دعویدار ہے۔ اگر ہم نے اب بھی ان سسکتی، گھٹتی، جلتی زندگیوں کو نظر انداز کیا تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔
یہ سب کچھ اسی وقت ممکن ہے جب حکومت اپنی ترجیحات میں حقیقی انسانی بقا کو اولین حیثیت دے۔ ہمیں صرف بھٹہ مزدوروں کو آزاد نہیں کرنا، بلکہ ان کے وجود، ان کی حرمت، ان کی آنے والی نسلوں کو وہ حق دینا ہے جو انہیں برسوں پہلے مل جانا چاہیے تھا۔ ہمیں ان بچوں کے ہاتھوں میں اینٹیں نہیں، کتابیں دینی ہیں۔ ان عورتوں کو خوف سے نہیں، وقار سے جینے کا حق دینا ہے۔ ان مردوں کو صرف جسمانی مشقت سے نہیں، قرض، جبر اور ظلم سے بھی نجات دینی ہے۔
آج جو دھواں بھٹوں سے اٹھتا ہے، وہ صرف مٹی کا نہیں، بلکہ ایک پوری قوم کی خاموش اذیت کا دھواں ہے۔ اور یہ دھواں جب آسمان پر چھاتا ہے، تو ہماری ترقی، ہماری جمہوریت، اور ہمارے انسانی حقوق کے دعوے دھندلا جاتے ہیں۔ ہمیں اس دھند کو صاف کرنا ہوگا۔ ہمیں بھٹہ مزدوروں کی سسکیوں کو سننا ہوگا۔ ہمیں اپنے ضمیر کو جگانا ہوگا۔ کیونکہ اگر ہم نے اب بھی آنکھیں بند رکھیں، تو یہ اینٹیں ہماری خاموشی کی قبریں بن جائیں گی۔ اور تب کوئی تاریخ ہمیں نہیں بخشے گی۔
