گزشتہ ہفتے انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل فنانس -آئی آئی ایف کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ نے پاکستان کی معیشت کے حوالے سے ایک تلخ مگر سچ پر مبنی آئینہ دکھایا ہے۔آئی ائی ایف، جو دنیا کے 60 سے زائد ممالک کی 400 سے زائد مالیاتی اداروں پر مشتمل ایک مؤقر عالمی تنظیم ہے، پاکستان میں نہ تو کوئی نمائندگی رکھتی ہے اور نہ ہی کسی حکومتی یا نجی ادارے کا اس میں شمول ہے۔ اس کے برعکس بھارت کی نمائندگی اس کے ایک سرکاری ادارے (ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف انڈیا) اور ایک بڑے نجی مالیاتی ادارےآئی سی سی ائی کے ذریعے موجود ہے۔ یہ فرق بذات خود اس بات کا مظہر ہے کہ ہم عالمی اقتصادی منظرنامے میں اپنی مؤثر موجودگی قائم کرنے میں کس قدر پیچھے ہیں۔IIF کی رپورٹ اگرچہ اعتراف کرتی ہے کہ پاکستان کی معیشت میں حالیہ مہینوں میں “متوقع سے زیادہ” بہتری دیکھی گئی ہے، مگر وہ ساتھ ہی اس بات پر بھی زور دیتی ہے کہ یہ بحالی ناپائیدار ہے — اور اس کی بنیادی وجہ وہی ہے جو پاکستان کی معیشت کو دہائیوں سے گھیرے ہوئے ہے: گہری اور دیرپا اصلاحات کا فقدان۔یہ اخبار اس تشخیص سے مکمل اتفاق کرتا ہے، اور برسوں سے اس امر کی نشاندہی کرتا آ رہا ہے کہ معیشت وقتی سہارا یا بین الاقوامی اداروں کی مالیاتی امداد سے نہیں، بلکہ مستقل، جرات مندانہ اور تکنیکی بنیادوں پر کی جانے والی اصلاحات سے مستحکم ہوتی ہے۔ IMF پروگرام نے کچھ حد تک غیرملکی سرمایہ کاری اور رول اوورز کے ذریعے معیشت کو وقتی سہارا دیا ہے، مگر اس کا اصل فائدہ تبھی حاصل ہو سکتا ہے جب اس کے ساتھ پائیدار ساختی تبدیلیاں متعارف کروائی جائیں — جن کا فقدان آج بھی واضح ہے۔توانائی اور ٹیکس کے دو شعبے وہ بنیادی ستون ہیں جن پر معیشت کا بوجھ کھڑا ہے، اور یہی دو شعبے سب سے زیادہ غیر مؤثر، ناقص حکمرانی کے شکار اور پالیسی تضادات سے بھرے ہوئے ہیں۔توانائی کے شعبے میں حکومت کی جانب سے بجلی کے نرخوں میں معمولی کمی کو ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ کمی چند وجوہات کا نتیجہ ہے:آئی پی پیز ساتھ معاہدوں کی جزوی نظرثانی (جس میں چینی آئی پی پیز تاحال شامل نہیں)، عالمی ایندھن کی قیمتوں میں وقتی کمی، اور 1.275 ٹریلین روپے کا بینک قرض جو 2.4 ٹریلین روپے کے گردشی قرض کو جزوی طور پر پورا کرے گا۔ مگر ان میں سے کوئی بھی اقدام نظامی اصلاحات نہیں کہلا سکتا۔ نہ ہی اس سے صارفین کو مستقل ریلیف ملنے کی امید کی جا سکتی ہے، کیونکہ اس قرض پر سود کی ادائیگی پھر صارفین کے کندھوں پر ہی ڈالی جائے گی۔450 ارب روپے کی سبسڈی جو انٹر ڈسکو ٹیرف ایكوالائزیشن کے لیے دی جا رہی ہے، اور خاص طور پر 125 ارب روپے کی خطیر رقم جو ایک نجی ادارے، کے-الیکٹرک کو دی جا رہی ہے، یہ سب بھی اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت اب بھی وہی پرانا ماڈل اپنائے ہوئے ہے — جہاں نجی منافع عوامی سبسڈی سے ممکن بنایا جاتا ہے، اور اصلاحات کے نام پر محض وقتی سہارا دیا جاتا ہے۔توانائی کے شعبے کو اصلاحات کی نہیں بلکہ مکمل تجدید کی ضرورت ہے۔ اس میں صرف “جنرل اسٹ” بیوروکریٹس نہیں بلکہ وہ ماہرین درکار ہیں جو اس شعبے کی پیچیدگیوں کو تکنیکی طور پر سمجھتے ہوں، اور فیصلہ سازی کو تجربے، تحقیق اور ڈیٹا کی بنیاد پر آگے لے جا سکیں۔اسی طرح ٹیکس نظام بھی سخت بیماری میں مبتلا ہے۔ حکومت کی ساری توجہ ریونیو بڑھانے پر مرکوز ہے، مگر یہ ریونیو بھی 75 سے 80 فیصد تک بالواسطہ ٹیکسوں سے حاصل کیا جاتا ہے — جو غریب اور متوسط طبقے پر سب سے زیادہ بوجھ ڈالتے ہیں، جبکہ صاحبِ ثروت طبقہ کم متاثر ہوتا ہے۔ “آمدن کے مطابق ٹیکس دو” کا اصول بظاہر موجود ہے، مگر عملی طور پر اس کا کوئی مؤثر نفاذ نہیں۔ایف بی آر، جو وزارتِ خزانہ کے ماتحت ادارہ ہے، اسے چاہیے کہ پاکستان میں 44.7 فیصد غربت کی شرح کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ایسا منصفانہ اور شفاف ٹیکس نظام وضع کرے جو امیروں پر ان کی حیثیت کے مطابق بوجھ ڈالے اور غریب طبقے کو ریلیف دے۔ اگرچہ یہ عمل سست، پیچیدہ اور سیاسی طور پر حساس ہو گا، مگر اس کے بغیر پائیدار ترقی کا تصور محض سراب ہے۔حکومت اگر واقعی بجٹ خسارہ کم کرنا چاہتی ہے تو اسے آمدن بڑھانے کے بجائے اخراجات کم کرنے پر توجہ دینی ہو گی۔ کم از کم دو ہزار ارب روپے کے موجودہ اخراجات میں کمی کر کے نہ صرف مالی دباؤ میں کمی لائی جا سکتی ہے، بلکہ اصلاحات کے لیے مالی جگہ بھی بنائی جا سکتی ہے۔حالیہ اقتصادی ٹیم کی طرف سے اپنی کارکردگی کو بہتر انداز میں پیش کرنا قابلِ فہم ہے، لیکن یہ صرف وقتی بیانیہ ہے۔ اگر اصلاحات حقیقت میں جاری ہوتیں تو نہ صرف بیرونی بلکہ ملکی ماہرین بھی اس کا اعتراف کرتے — جو اس وقت نظر نہیں آ رہا۔حیران کن بات یہ ہے کہ موجودہ نظامِ حکومت میں موجود سیاسی قوت کو اتنا اختیار حاصل ہے کہ وہ مالیاتی اشرافیہ میں واضح کمی کر کے تاریخی فیصلے کر سکتی ہے، مگر اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔اب بھی وقت ہے کہ اصلاحات محض زبان یا اعداد و شمار کی حد تک نہ رہیں، بلکہ ان کا اطلاق زمینی سطح پر کیا جائے۔ اگر پاکستان نے معاشی خودمختاری اور پائیدار ترقی کی راہ اختیار کرنی ہے تو اسے اپنی مالیاتی ساخت، توانائی پالیسی اور ٹیکس نظام کو نہایت دیانتداری سے از سرِ نو تشکیل دینا ہو گا — ورنہ IIF کی رپورٹ محض تنقید نہیں، ایک سنجیدہ وارننگ ہے جسے نظرانداز کرنا آئندہ بحرانوں کو دعوت دینے کے مترادف ہو گا۔
