پنجاب کے میدان آج کل ایک بار پھر تباہ کن سیلاب کی لپیٹ میں ہیں۔ ستلج، راوی اور چناب کی گزرگاہوں پر پانی بپھرتا ہوا اپنے راستے بناتا جا رہا ہے۔ یہ کوئی نیا المیہ نہیں؛ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ہر برس برسات کے موسم میں پاکستان کے دریائی نظام کو ناقص منصوبہ بندی اور بھارت کی آبی چالاکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن اس بار مسئلہ دوہرا ہے۔ ایک طرف ہم نے اپنی ہی غفلت اور لالچ میں دریاؤں کی قدرتی گزرگاہوں پر رہائشی اسکیمیں، سوسائٹیاں اور کمرشل پروجیکٹس بنا ڈالے، دوسری طرف بھارت نے اپنی پرانی روایت برقرار رکھتے ہوئے آبی جارحیت کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پانی کی یلغار نہ صرف کھیت کھلیان بہا لے گئی بلکہ بستیاں اجاڑنے لگی۔
منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر احسن اقبال نے بجا طور پر کہا ہے کہ بھارت پانی کے مسئلے کو سیاست کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ ان کا اپنا حلقہ نارووال بھی اس وقت سیلابی ریلے سے شدید متاثر ہے جو بھارتی سرحد کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ سندھ طاس معاہدہ، جو 1960ء میں طے پایا تھا، خطے میں پانی کے بہاؤ کو منظم کرنے اور دونوں ملکوں کے لیے قواعد و ضوابط طے کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ لیکن اپریل میں پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے اس معاہدے کو ’’معطل‘‘ رکھنے کا اعلان کیا اور اس کے بعد سے پاکستان کو پانی کے بہاؤ کی بروقت اور درست معلومات فراہم کرنے سے گریز کر رہا ہے۔ اگرچہ بھارت نے ایک ’’ہائی فلوڈ‘‘ وارننگ ضرور بھیجی تھی، مگر یہ ایک عمومی بیان تھا جو اسلام آباد میں اس کے ہائی کمیشن کے ذریعے دیا گیا، نہ کہ مستقل سندھ طاس کمیشن کے ذریعے، جیسا کہ معاہدے کے تحت لازمی ہے۔ اس طرح بھارت نے دنیا کو دکھانے کے لیے محض کاغذی کارروائی کی، گویا وہ ’’انسانی ہمدردی‘‘ کے تحت پاکستان کو اطلاع دے رہا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر واقعی بھارت ہمدردی دکھاتا تو فوری طور پر معاہدے کی بحالی کا اعلان کرتا تاکہ بروقت اور درست معلومات دونوں ملکوں کے درمیان شیئر کی جا سکتیں۔
ثبوت بڑھتے جا رہے ہیں کہ بھارت پانی کو سیاست کا ہتھیار بنا چکا ہے۔ کبھی وہ دریائے چناب میں بہاؤ روک دیتا ہے جس سے پاکستان میں قلت پیدا ہوتی ہے، اور کبھی اچانک بڑے پیمانے پر پانی چھوڑ دیتا ہے، بغیر کسی پیشگی اطلاع کے۔ نتیجتاً پاکستان میں تباہی مچتی ہے اور قیمتی جان و مال ضائع ہوتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف معاہدے کی خلاف ورزی ہے بلکہ بنیادی انسانی اصولوں کے بھی منافی ہے۔ بین الاقوامی ثالثی ادارے، مثلاً دی ہیگ میں قائم مستقل ثالثی عدالت، یہ واضح کر چکے ہیں کہ بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو ’’معطل‘‘ نہیں رکھ سکتا۔ اس کے باوجود نئی دہلی اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔
لیکن صرف بھارت کو ذمہ دار ٹھہرانا بھی ناانصافی ہوگی۔ ہمیں اپنی کوتاہیوں کا بھی سامنا کرنا ہوگا۔ پنجاب میں ستلج، چناب اور راوی کی قدرتی گزرگاہوں پر رہائشی اسکیمیں اور ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنا دی گئیں۔ یہی وہ دریا ہیں جو صدیوں سے اپنی روانی کے ساتھ زمین کو زرخیز کرتے آئے تھے اور بوقتِ ضرورت پانی پھیلا کر زمین کو سیراب کرتے تھے۔ ہم نے ان قدرتی راستوں کو تنگ کر کے، ان پر تعمیرات کر کے، نہ صرف پانی کی قدرتی گزرگاہ روکی بلکہ اپنے ہی لیے موت کا سامان پیدا کیا۔ یہ مجرمانہ غفلت ہے کہ ماحولیاتی سائنسدان بارہا خبردار کرتے رہے کہ دریاؤں کی پٹّی کو محفوظ رکھا جائے، لیکن اربوں روپے کمانے کی ہوس میں ان جگہوں پر ہاؤسنگ پروجیکٹس بیچنے کی اجازت دی گئی۔ آج جب پانی اپنے قدیمی راستے ڈھونڈتا ہے تو ان ہی بستیوں کو بہا کر لے جاتا ہے۔ یہ صرف قدرتی آفت نہیں، یہ انسانی حماقت بھی ہے۔
پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس معاملے کو عالمی سطح پر اجاگر کرے۔ بھارت کو یہ باور کرایا جائے کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا نہ صرف خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگیاں داؤ پر لگانے کے مترادف ہے۔ سفارتی سطح پر دو طرفہ مذاکرات کے ساتھ ساتھ عالمی اداروں، اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی اس میں شامل کیا جائے تاکہ دباؤ بڑھایا جا سکے۔ اسی کے ساتھ ساتھ پاکستان کو اپنی اندرونی صلاحیتیں بہتر بنانا ہوں گی۔ جدید ترین فلڈ فورکاسٹنگ سسٹم، موسمیاتی ماڈل، سیلابی پانی کو محفوظ کرنے کے ذخائر اور بروقت انخلاء کے منصوبے ہمارے پاس ہونے چاہئیں۔ ہم ہر سال بارش کے بعد وہی دہائیاں نہیں دے سکتے۔ اگر بھارت اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے تو بھی ہمیں اپنی سرزمین کے اندر بہتر بندوبست کرنا ہوگا تاکہ انسانی جانوں اور معیشت کا نقصان کم سے کم ہو۔
موجودہ صورتحال ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ قدرتی آفات کے ساتھ ساتھ سیاسی دشمنی بھی پانی کو تباہی کا ہتھیار بنا سکتی ہے۔ بھارت کی آبی جارحیت اپنی جگہ سنگین ہے، مگر ہماری اپنی بے تدبیری بھی کم مجرم نہیں۔ دریاؤں کی گزرگاہوں پر بستیاں بنانے کا جرم بھی اتنا ہی سنگین ہے جتنا بھارت کا اچانک پانی چھوڑ دینا۔ وقت آگیا ہے کہ ہم اجتماعی دانش سے فیصلہ کریں: دریاؤں کو ان کا اصل راستہ واپس دیا جائے، سندھ طاس معاہدے کی بحالی کے لیے عالمی دباؤ بڑھایا جائے، اور اندرونی طور پر سیلابی پانی سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھائی جائے۔ اگر ہم نے اب بھی آنکھیں نہ کھولیں تو ہر برسات کے بعد یہی مناظر دہرائے جائیں گے: اجڑے ہوئے گاؤں، بہے ہوئے خواب اور ہزاروں ماؤں کی آہیں۔ اور تب کوئی معاہدہ، کوئی عالمی عدالت، اور کوئی حکومتی بیان ہمیں بچا نہ سکے گا۔
اس صورتحال کا سب سے پہلا اور فوری تقاضا یہ ہے کہ دریاؤں کی گزرگاہوں، زرعی زمینوں اور جنگلاتی رقبوں پر ہر قسم کے رہائشی اور کمرشل منصوبوں پر فی الفور پابندی عائد کی جائے۔ یہ قومی بقا کا معاملہ ہے۔ دریاؤں کی پٹّی میں بستیاں اور سوسائٹیاں قائم کرنا گویا اپنے ہاتھوں سے موت کو دعوت دینا ہے۔ پانی صدیوں پرانے راستے سے ہٹتا نہیں، جب وہ لوٹتا ہے تو سب کچھ بہا لے جاتا ہے۔ زرعی زمینیں جو دراصل ملک کی غذائی سلامتی کی ضامن ہیں، ان پر ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی یلغار کسی بھی قوم کے مستقبل سے کھلواڑ ہے۔ اسی طرح جنگلات کے رقبے، جو پانی کو جذب کرتے اور سیلاب کی شدت کم کرتے ہیں، رئیل اسٹیٹ کی بھینٹ چڑھا دیے گئے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ہاؤسنگ اور کمرشل منصوبوں کے لائسنس کے اجرا میں سختی برتے، اور دریاؤں کی حدود کے اندر موجود تعمیرات کو غیر قانونی قرار دے کر ختم کرے۔ یہ اقدام وقتی طور پر کڑوا ضرور ہوگا لیکن آنے والی نسلوں کو تباہی سے بچانے کا واحد راستہ ہے۔ اگر ہم نے زرعی رقبہ محفوظ نہ کیا تو خوراک کی قلت اور غربت میں مزید اضافہ ہوگا، اور اگر جنگلات نہ بچے تو نہ صرف سیلاب کی شدت بڑھے گی بلکہ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات بھی ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ جائیں گے۔
اب یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ زمین بیچ کر ہاؤسنگ منصوبے بنانا وقتی دولت تو دے سکتا ہے لیکن یہ عمل پورے معاشرے کو مستقل غربت اور تباہی میں دھکیل دیتا ہے۔ اربوں روپے مالیت کی اسکیمیں ایک لمحے میں پانی میں بہہ جاتی ہیں، اور ان کی جگہ بے گھر عوام کی چیخیں چھوڑ جاتی ہیں۔ ریاست کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ عوامی تحفظ اور ماحولیاتی توازن کو ترجیح دیتی ہے یا پھر چند طاقتور گروہوں کی جیبیں بھرنے کو۔
