ملتان (کرائم رپورٹر )شہرمیں ٹریفک وارڈن موت کے سوداگر بن گئے۔ نشتر ہسپتال ایمرجنسی میں آنے والے مریض ٹریفک وارڈن کے گاڑیاں پکڑنے کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے گئے۔نشتر ہسپتال کے گیٹ نمبر 2پر ٹریفک وارڈن کا مسلسل قبضہ برقرارہے، ٹریفک وارڈن کا دوسرا گروپ کالجوں اور سکولوں کے بچوں کو چھوڑنے آنے والوں کیلئے بھی وبال جان بن گیا۔ٹریفک وارڈن ملتان نے گذشتہ کئی ماہ سے نشتر ہسپتال ایمرجنسی گیٹ نمبر 2پر مسلسل قبضہ کررکھا ہے۔مریض جنہیں فوری طور پر زندگی بچانے کیلئے نشتر ہسپتال لایا جاتا ہےمتعدد مرتبہ ایمرجنسی مریضوں کی گاڑیاں، موٹرسائیکل ٹریفک وارڈن پکڑکر فوری طور پر موقع پر لائسنس بنوانے پر مجبور کرتے ہیں۔ٹریفک وارڈ نز کی اس غنڈہ گردی سے گاڑیوں میں لائے ہوئے کئی دل کے مریض موت کے منہ میں جاچکے ہیں جبکہ وارڈن اس وقت تک گاڑی کو نہیں چھوڑتے جب تک وہ لائسنس کی فیس مبلغ 2150روپے نہ دے۔ اسی طرح سے ٹریفک وارڈنز کا دوسرا گروپ صبح سویرے کالجوں اور سکولوں کے گیٹوں پر ناکے لگاکر تعلیمی اداروں میں بچوں اور بچیوں کو چھوڑنے آنے والے شہریوں کی گاڑیاں پکڑلیتاہے جس سے بچوں کے والدین سخت پریشانی میں مبتلا ہوچکے ہیں۔زبردستی موٹرسائیکل تھانے لے جاکر بند کردیتے ہیں۔ عوامی ،شہر ی حلقوں سمیت لواحقین اور بچوں کے والدین نے چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ٹریفک وارڈنزکے خلاف از خود نوٹس لیں تاکہ نشتر ہسپتال ایمرجنسی میں آنے والے مریضوں کی زندگیاں بچ سکیں۔
