تونسہ شریف (نمائندہ قوم)تونسہ شریف میں بچوں میں ایچ آئی وی کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد کا معاملہ، چیف ایگزیکٹو محکمہ صحت ڈیرہ غازی خاں کا کہنا ہے کہ ہم سنگین عوامی صحت کے مسئلے کی طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں، جو تونسہ شریف میں بچوں میں ایچ آئی وی کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد سے متعلق ہے۔ ہم گزشتہ ایک ماہ سے اس مسئلے پر کام کر رہے ہیں اور ہماری مشاہدات و خدشات فوری مداخلت کے متقاضی ہیں۔اس وبا کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ عطائی ڈاکٹروں (quacks) کی غیر محفوظ طبی سرگرمیاں ہیں، جو بار بار استعمال شدہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے یہ خطرناک بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے۔ مزید یہ کہ یہ معاملہ عمودی منتقلی (vertical transmission) کا نہیں ہے، کیونکہ متاثرہ بچوں کی مائیں ایچ آئی وی نیگیٹو پائی گئی ہیں۔ہماری تحقیق کے دوران درج ذیل سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں:وارڈز میں غیر تربیت یافتہ افراد کا انجکشن لگانا: ٹی ایچ کیو اسپتال کے وارڈز میں غیر تربیت یافتہ رضاکار مریضوں کو انجکشن لگا رہے ہیں، جو کہ ایک انتہائی خطرناک عمل ہے۔ اسپتال انتظامیہ سے درخواست کی گئی کہ وہ ایسے افراد کو فوری طور پر روکیں۔لیبارٹری رپورٹس میں جعل سازی: مریضوں کے لیبارٹری ٹیسٹ میں ہیرا پھیری کی جا رہی ہے، خاص طور پر ہیپاٹائٹس بی/سی پازیٹو رپورٹس کو نیگیٹو میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ یہ عمل نہ صرف طبی آلات کو آلودہ کر رہا ہے بلکہ ڈاکٹروں، دوسرے مریضوں اور اسپتال کے عملے کے لیے بھی خطرناک ہے۔ اس معاملے میں ایک لیب اسسٹنٹ، عمیر کے ملوث ہونے کی اطلاعات ہیں۔غیر محفوظ انجکشن کے طریقے: ہسپتال میں ایک ہی سرنج کو متعدد مریضوں (بچوں کی ویکسینیشن اور حاملہ خواتین کو ٹیکے لگانے کے دوران) کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، بعض اوقات ایک سرنج سے دس تک مریضوں کو انجکشن لگایا جاتا ہے۔طبی عملے کو لاحق خطرہ: رپورٹس میں جعل سازی اور ناقص انفیکشن کنٹرول کی وجہ سے اسپتال میں کام کرنے والے ڈاکٹرز بھی خطرے میں ہیں، کیونکہ وہ مریضوں کے اصل ایچ آئی وی یا ہیپاٹائٹس اسٹیٹس سے لاعلم رہتے ہیں۔اسپتال انتظامیہ سے قریبی تعلق رکھنے والے افراد کا ملوث ہونا: ہمیں معلوم ہوا ہے کہ ان غیر محفوظ طبی سرگرمیوں میں ملوث کچھ افراد کا اسپتال انتظامیہ سے قریبی تعلق ہے، جس سے شفافیت اور احتساب پر سوالات اٹھتے ہیں۔یہ تمام حقائق ٹی ایچ کیو میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کی نشاندہی پر سامنے آئے ہیں، جو اس سنگین صورتحال سے سخت پریشان ہیں۔ ہم نے تاحال اس معاملے کو سوشل میڈیا پر نہیں اٹھایا تاکہ عوام میں خوف و ہراس نہ پھیلے۔صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر، ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ فوری طور پر ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ ان الزامات کی تحقیقات کی جا سکیں اور ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی اصل وجوہات کو بے نقاب کیا جا سکے۔ فوری اقدامات نہ کیے گئے تو اس مرض کا پھیلاؤ مزید خطرناک صورت اختیار کر سکتا ہے، جو نہ صرف مریضوں بلکہ طبی عملے کے لیے بھی شدید نقصان دہ ہوگا۔ہم آپ کے فوری ردعمل اور ضروری کارروائی کے منتظر ہیں۔ یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل نشتر میں بھی عملہ اور ڈاکٹرز کی غفلت کی وجہ سے ڈائیلسز کرانے والے مریضوں میں ایچ آئی وی پھیل گیا تھا۔
