آج کی تاریخ

سات ارب کے لودھراں ملتان پراجیکٹ کو بند کرنیکا فیصلہ، مجاہد کالرو سمیت ذمہ داروں کو کلین چٹ

ملتان(واثق رئوف)وفاقی وزارت مواصلات جنوبی پنجاب کے پونے7ارب روپے کے لودھراں ملتان پراجیکٹ کی تباہی کے ذمہ داران افسران کو سزا تو نہ دے سکی تاہم عوامی مفاد کے اس منصوبہ کوختم کرنے کا فیصلہ کر لیاگیا ہے۔اسلام آبادہائیکورٹ کی طرف سے تعمیراتی کمپنیوں اور این ایچ اے کے درمیان تصفیہ کروانے کے لئے مقررہ کئے گئے نمائندہ نےاپنیرپورٹ عدالت میں جمع کروا دی۔جوائنٹ وینچر میں شامل تینوں کمپنیوں نے تصفیہ نمائندہ کو سابق ریٹ اور مقررہ شیئرز کے تحت دوبارہ کام کرنے کی رضامندی ظاہر کردی۔ دوسری طرف وفاقی وزیر برائے مواصلات نے پراجیکٹ کو ختم کرنے کی ہدایت کردی۔ 6ارب 80کروڑ روپے کے پراجیکٹ کو2ارب روپے کے مینٹی ننس فنڈز کے ذریعے مکمل کیا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ نیشنل ہائی ویز کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت2020ءمیں لودھراں ملتان جوائنٹ وینچر پراجیکٹ پر51فیصد شیئر کے ساتھ چا ئنہ کی کمپنی نیکسسز،25فیصد کے ساتھ نعمان اور24فیصد شیئر کے ساتھ سجاد کنسٹرکشن کمپنی نےکام شروع کیا۔منصوبہ کی مدت تکمیل36ماہ مقرر کی گئی تھی ۔منصوبہ پر بمشکل ایک سال سے بھی کم عرصہ میں صرف7فیصد ہی کام ہوا تھا کہ منصوبہ پر تعینات اس وقت کے پراجیکٹ ڈائریکٹر مجاہد رضاکالرو نے نعمان کنسٹر کشن کمپنی کو بھاری رقم ایڈوانس بل کی صورت میں ادا کردی جس کے بعد نعمان کنسٹر کشن کمپنی پورے پاکستان سے اپنے اثاثہ جات سمیت کر بیرون ملک منتقل ہوگئی اور پراجیکٹ التوا کا شکار ہوگیا۔ پراجیکٹ پر کام کرنے والی باقی دو تعمیراتی کمپنیوں کو بارہا کہا جاتا رہا کہ وہ کام شروع کریں لیکن کمپنیوں نے کام شروع نہ کیاجس پرنعمان کنسٹرکشن کمپنی کی غیر موجودگی کی وجہ سے نیشنل ہائی ویز اتھارٹی نے تینوں کمپنیوں کو بلیک لسٹ کرنے کی کارروائی کا آغاز کردیا جبکہ دوسری طرف نیشنل ہائی ویز میں اثر رسوخ کے ذریعے اہم پراجیکٹس پر تعیناتی کے لئے مشہور سول انجینئر مجاہد رضاکالرو پراجیکٹ کی تباہی کے تمام معاملات سے نہ صرف صاف بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے بلکہ پراجیکٹ کے ڈیڈ ہوتے ہی اپنی تعیناتی بطور ڈائریکٹر مینٹی ننس جنوبی پنجاب آفس کی اہم سیٹ پر کروانے میں بھی کامیاب ہوگئے۔ بتایا جاتا ہے کہ 2022ء میں نیشنل ہائی ویز نے پراجیکٹ کے لئے نئے ٹینڈر جاری کر دئیے جس میں کراچی کی ایک کمپنی14ارب روپے کم سے کم بولی دے کر کامیاب ہوئی تاہم کمپنی کے کام شروع کرنے سے قبل ہی چائنہ کی کمپنی سمیت نعمان اور سجاد کنسٹرکشن کمپنی نے عدالت عالیہ اسلام آباد میں رٹ پٹیشن دائر کردی ۔جس کی بابت بتایا جاتا ہے کہ عدالت عالیہ نے این ایچ اے اور جوائنٹ وینچر میں شامل کمپنیوں کی خواہش پر ثالثی کے لئے نمائندہ مقرر کردیا ۔ذرائع کے مطابق ثالثی نمائندہ کو تعمیراتی کمپنیوں کی طرف سے سابق معاہدہ اور ریٹ کے مطابق ہی کام دوبارہ شروع کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔ ثالثی نمائندہ نے ثالثی سے متعلق اپنی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کروا دی ہے جس پر جلد ہی فیصلہ جاری کردیا جائے گا۔ دوسری طرف چند ہفتے قبل وفاقی وزیر مواصلات کے زیر تحت پراجیکٹ مذکورہ کے حوالے سے منعقدہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے اس منصوبہ کو ختم کرکے 2ارب روپے کے مینٹی ننس پراجیکٹ میں تبدیل کردیا جائے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وفاقی وزارت مواصلات کا کہنا ہے کہ دو ارب روپے کے ذریعے منصوبہ بہترین سفری سہولت کے لئے قابل قبول ہوجائے گا تاہم این ایچ اے کے چند موجودہ و سابق سول انجینئرز نے منصوبہ کے خاتمہ کو جنوبی پنجاب کے ساتھ ظلم قرار دیا ہے جبکہ ٹرانسپورٹرز ،عوامی،سیاسی حلقوں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ منصوبہ کو پی ایس ڈی پی کے تحت ہی مکمل کیا جائے اور پراجیکٹ کو تباہ کرنے ،عدالتی کارروائی میں اتھارٹی کے وقت اور پیسوں کے ضیاع کے ذمہ داران کو نوازنےکے بجائے قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے پراجیکٹ متاثر نہ ہوں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں