ملتان(سٹاف رپورٹر)ملک بھر کے تحقیقاتی ادارے ایمرسن یونیورسٹی کے اخلاق بافتہ وائس چانسلر ڈاکٹر محمد رمضان کے خلاف تحقیقات کیلئے سرگرم ہو گئے جبکہ ڈاکٹر رمضان کی فحش گفتگو پر مشتمل آڈیو بھی روزنامہ قوم کو موصول ہو گئی ہے جس میں یہ مکروہ کردار کا حامل خود ساختہ ماہر تعلیم یونیورسٹی کی بعض خواتین سٹاف کے حوالے سے بہت ہی غلیظ جملے ادا کر رہا ہے اور انتہائی ڈھٹائی سے اپنے ملازم کے ساتھ ان کے خد و خال بیان کر رہا ہے اور بعض خواتین ممبران کے نام تک لے کر ان کے بارے میں اپنے ملازم سے اپنے ناپاک خیالات شیئر کر رہا ہے آڈیو میں وہ اپنے باورچی اعجاز حسین سے اس کی اہلیہ کا نام لے کر کہتا ہے کہ( ش) کو میں بلاتا ہوں مگر وہ بھاگ جاتی ہے پھر وہ اپنے ملازم سے کہتا ہے کہ باتیں کرنے سے ذہن بنتا ہے اور جب ذہن بن جائے تو ہی معاملات آگے بڑھتے ہیں( نوٹ: روزنامہ قوم ڈاکٹر رمضان کے الفاظ کو انتہائی مہذب کر کے لکھ رہا ہے ورنہ جس قسم کی ڈاکٹر رمضان گفتگو کر رہا ہے اس قسم کی گفتگو تو غلاظت کے اڈوں پر بھی نہیں ہوتی) اس ریکارڈنگ میں ڈاکٹر رمضان کہتا ہے کہ کنکشن مائنڈ کے ساتھ ہوتا ہے پھر دوبارہ کہتا ہے کہ میں نے تمہاری بیوی ( ش) سے کہا تم کدھر ہوتی ہو مگر وہ جواب دینے کے بجائے بھاگ جاتی ہے تم یعنی اعجاز حسین اس سے بات کرو۔ یہ آڈیو اس وقت ریکارڈ کی گئی جب ڈاکٹر رمضان اپنے ملازم سے قلعہ کہنہ سے منگوائے گئے مخصوص تیل کی مالش کروا رہا تھا پھر وہ مختلف اداکارائوں کے بارے میںبھی اپنے ملازم سے فحش گفتگو کرتاہے پھر وہ ایک خاتون کا نام لیتے ہوئے بکواس کرتا ہے کہ اس سے میں بہت مطمئن رہتا تھا مگر میں نے اسے چھوڑ دیا اور جب میں کسی کو چھوڑ دیتا ہوں تو پھر چھوڑ دیتا ہوں پھر بازاری زبان میں غلیظ گالی بکتے ہوئے ایک اور خاتون سے اپنے تعلقات کی نوعیت بارے اس ملازم سے گفتگو کرتا ہے۔ ایک گھنٹے کی ریکارڈنگ میں اتنی غلاظت ہے کہ سنی بھی نہیں جا سکتی لکھنا تو بہت دور کی بات ہے۔
مزید پڑھیں : ایمرسن کا وائس چانسلر یا درندہ؟ ہم جنس پرست سربراہ کے مکروہ جرائم کا نیا انکشاف
ملتان(سٹاف رپورٹر)ملک بھر کے تحقیقاتی ادارے ایمرسن یونیورسٹی کے اخلاق بافتہ وائس چانسلر ڈاکٹر محمد رمضان کے خلاف تحقیقات کیلئے سرگرم ہو گئے جبکہ ڈاکٹر رمضان کی فحش گفتگو پر مشتمل آڈیو بھی روزنامہ قوم کو موصول ہو گئی ہے جس میں یہ مکروہ کردار کا حامل خود ساختہ ماہر تعلیم یونیورسٹی کی بعض خواتین سٹاف کے حوالے سے بہت ہی غلیظ جملے ادا کر رہا ہے اور انتہائی ڈھٹائی سے اپنے ملازم کے ساتھ ان کے خد و خال بیان کر رہا ہے اور بعض خواتین ممبران کے نام تک لے کر ان کے بارے میں اپنے ملازم سے اپنے ناپاک خیالات شیئر کر رہا ہے آڈیو میں وہ اپنے باورچی اعجاز حسین سے اس کی اہلیہ کا نام لے کر کہتا ہے کہ( ش) کو میں بلاتا ہوں مگر وہ بھاگ جاتی ہے پھر وہ اپنے ملازم سے کہتا ہے کہ باتیں کرنے سے ذہن بنتا ہے اور جب ذہن بن جائے تو ہی معاملات آگے بڑھتے ہیں( نوٹ: روزنامہ قوم ڈاکٹر رمضان کے الفاظ کو انتہائی مہذب کر کے لکھ رہا ہے ورنہ جس قسم کی ڈاکٹر رمضان گفتگو کر رہا ہے اس قسم کی گفتگو تو غلاظت کے اڈوں پر بھی نہیں ہوتی) اس ریکارڈنگ میں ڈاکٹر رمضان کہتا ہے کہ کنکشن مائنڈ کے ساتھ ہوتا ہے پھر دوبارہ کہتا ہے کہ میں نے تمہاری بیوی ( ش) سے کہا تم کدھر ہوتی ہو مگر وہ جواب دینے کے بجائے بھاگ جاتی ہے تم یعنی اعجاز حسین اس سے بات کرو۔ یہ آڈیو اس وقت ریکارڈ کی گئی جب ڈاکٹر رمضان اپنے ملازم سے قلعہ کہنہ سے منگوائے گئے مخصوص تیل کی مالش کروا رہا تھا پھر وہ مختلف اداکارائوں کے بارے میںبھی اپنے ملازم سے فحش گفتگو کرتاہے پھر وہ ایک خاتون کا نام لیتے ہوئے بکواس کرتا ہے کہ اس سے میں بہت مطمئن رہتا تھا مگر میں نے اسے چھوڑ دیا اور جب میں کسی کو چھوڑ دیتا ہوں تو پھر چھوڑ دیتا ہوں پھر بازاری زبان میں غلیظ گالی بکتے ہوئے ایک اور خاتون سے اپنے تعلقات کی نوعیت بارے اس ملازم سے گفتگو کرتا ہے۔ ایک گھنٹے کی ریکارڈنگ میں اتنی غلاظت ہے کہ سنی بھی نہیں جا سکتی لکھنا تو بہت دور کی بات ہے۔
مزید پڑھیں : ڈاکٹر رمضان کا منہ کالا کر کے سنگسار کیا جائے گا، سیکس سکینڈل پر مذہبی حلقے پھٹ پڑے
ملتان (وقائع نگار)ایمرسن یونیورسٹی ملتان کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد رمضان کے سیکس سکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعدخیرالمدارس ملتان کے مہتمم قاری حنیف جالندھری نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں کو علم و اخلاق کا گہوارہ ہونا چاہیے، لیکن اس طرح کے شرمناک واقعات پورے نظام کی ساکھ کو داغدار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “یہ واقعہ نہ صرف شرمناک ہے بلکہ ہمارے معاشرتی اقدار کے منافی ہے۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ اس معاملے کی فوری تفتیش کرے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائے۔” انہوں نے مزید کہا کہ اگر الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو ملزمان کو عبرتناک سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی ایسی جرات نہ کر سکے۔ملی یکجہتی کونسل جنوبی پنجاب کے صدر حافظ محمد اسلم نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ڈاکٹر محمد رمضان یونیورسٹی میں موجود ہوئے تو ان کا منہ کالا کر کے انہیں سنگسار کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے واقعات تعلیمی اداروں کے تقدس کو پامال کرتے ہیں اور معاشرے میں اخلاقی زوال کا باعث بنتے ہیں۔ حافظ محمد اسلم نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر اس معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ ملی یکجہتی کونسل اور خیرالمدارس کے رہنماؤں نے مشترکہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں اور فوری انصاف کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر انتظامیہ نے اس معاملے میں لاپروائی برتی تو وہ احتجاجی تحریک شروع کرنے پر مجبور ہوں گے۔ دوسری جانب ایمرسن یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبا و طالبات میں بھی وائس چانسلر ڈاکٹر محمد رمضان کے خلاف شدید غم وغصہ پایا جا رہا ہے طلباء کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر محمد رمضان کو یونیورسٹی میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا اور ان کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔صدر مرکزی علماء کونسل پاکستان، بہاولنگر مولانا محمد احمد نعیم نے کہا ہے کہ ایمرسن یونیورسٹی والا معاملہ نہایت افسوسناک اور تشویشناک ہے۔ ڈاکٹر محمد رمضان پر اپنے باورچی کے ساتھ مبینہ جنسی تشدد کے الزامات صرف ایک شخص کا معاملہ نہیں بلکہ پورے علمی و تعلیمی نظام کی ساکھ کو مجروح کر رہے ہیں۔ یونیورسٹی کا وائس چانسلر ادارے کا سربراہ اور بمنزلہ باپ ہوتا ہے۔ اگر باڑ ہی فصل کو کھانے لگ جائے تو پھر حفاظت کون کرے گا؟میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور وزیر تعلیم رانا سکندر حیات سے پرزور مطالبہ کرتا ہوں کہ ڈاکٹر محمد رمضان کو فی الفور عہدے سے معزول کیا جائے۔ اس معاملے کی شفاف تحقیقات ہوں اور ذمہ دار کو احتساب کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ علمی اداروں کا وقار بچ سکے۔مولانا محمد احمد نعیم نے کہا کہ یہ معاملہ تاخیر برداشت نہیں کرتا۔ اگر حکومت نے بروقت ایکشن نہ لیا تو نہ صرف ایمرسن یونیورسٹی بلکہ پورے تعلیمی نظام پر والدین، اساتذہ اور طلبہ کا اعتماد متزلزل ہو جائے گا۔ علمی ادارے اخلاقی اور علمی اعتبار سے کمزور ہو جائیں گے۔ اس لیے حکومت کو چاہیے کہ فوری ایکشن لے تاکہ بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔، “یہ علمی اداروں کی ساکھ کا مسئلہ ہے۔ حکومت اگر سنجیدگی دکھائے اور شفاف احتساب کرے تو یہ پورے تعلیمی نظام کے لیے بہت بڑا احیاء ہوگا۔

