ملتان(سٹافرپورٹر) روزنامہ قوم میں ثبوتوں کے ساتھ ایمرسن یونیورسٹی کے ہم جنس پرست وائس چانسلر ڈاکٹر محمد رمضان جو کہ سابق خاتون اول کی دست را ست فرح گوگی کے ذریعے 69 سال کی عمر میں بھی وائس چانسلر کے عہدے پر براجمان ہیںکے باورچی اعجاز حسین جو کہ ملتان کے علاقے سالارواہن کا ر ہائشی ہے کی طرف سے بدفعلی کے الزامات اور اس کی اپنی بنائی گئی ویڈیو کی روزنامہ قوم کو فراہمی کے علاوہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ روزنامہ قوم کے دفتر میں اپنے ساتھ بیان حلفی کیلئے از خود خرید کر لائے گئے اسٹام پیپر پر ہوشربا تحریر پر انگوٹھے اور دستخط ثبت کرنے کے بعد ملک بھر کے تعلیمی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی اور تحقیقاتی ادارے 14 اگست کے موقع پر یوم پاکستان کی مصروفیات اور سرکاری چھٹی ہونے کے باوجود معاملے کی تحقیقات کرنے میں جت گئے۔ اعجاز حسین کے زبانی ریکارڈ شدہ اور تحریری بیان جو کہ اوریجنل حالت میں روزنامہ قوم کے پاس محفوظ ہیں تاکہ بوقت ضرورت کام آسکیں میں ایسے شرمناک الزامات ڈاکٹر محمد رمضان پر عائد کئے گئے ہیں کہ ایک بوڑھے شخص سے ایسی قبیح حرکت کا تصور کر کے ہی ذی شعور انسان کانپ جاتا ہے ۔سینکڑوں لوگوں نے روزنامہ قوم سے رابطہ کر کے ڈاکٹر محمد رمضان کی ویڈیو دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا جو کہ اس سے قبل بہاالدین زکریا یونیورسٹی کے لودھراں کیمپس کےانچارج ڈاکٹر شبیر پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کیونکہ یہ بات باورچی اعجاز حسین نے روزنامہ قوم کو بتائی کہ ڈاکٹر شبیر نے ویڈیو دیکھ کر کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ڈاکٹر رمضان کی شخصیت کے اس پہلو بار ےتصور بھی نہیں کر سکتے کیونکہ ملتان میں ڈاکٹر رمضان کے انتہائی بااعتماد دوست صرف اور صرف ڈاکٹر شبیر سمجھے جاتے ہیں۔ روزنامہ قوم کی طرف سے باورچی اعجاز حسین سے و ضاحتی سوال پوچھا گیا کہ تمہاری تحریر اور زبانی بیان کے مطابق ایمرسن یونیورسٹی کے وائس چانسلر گزشتہ دو سال سے تمہارے ساتھ بد فعلی کے مرتکب ہو رہے ہیں اور ان کیلئے قوت بخش ادویات کے علاوہ سانڈھے اور بچھو کے تیل بھی بقول تمہارے تم ہی لا کر دیتے تھے اور پھر بقول تمہارے تم خود ہی ان کی مالش بھی کرتے ہو تو پھر یہ اچانک تمہاری غیرت کیسے جاگ گئی؟ اس دوران اعجاز حسین کی اہلیہ شازیہ پروین بھی کمرے میں آگئی تو اعجاز حسین نے بتایا کہ ڈاکٹر رمضان نے چار ماہ قبل رمضان المبارک میں افطاری کے بعد رات 11 بجے جب اس کے ساتھ غیر فطری فعل کا ارتکاب کیا تو اس نے منت کرتے ہوئے کہا کہ رمضان کا مبارک مہینہ تو گزرنے دیں جس پر ڈاکٹر رمضان نے کہا کہ اپنی بیٹی کی ذہن سازی کرو جس پر میں نے ڈاکٹر رمضان کو بے نقاب کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ وہیں کمرے میں موجود اعجاز حسین کی اہلیہ شازیہ نے تصدیق کی کہ وہ اس بات سے آگاہ ہیں اور پھر دونوں میاں بیوی نے بتایا کہ ان کی بڑی بیٹی کی ہم عمر کلاس فیلو اور سہیلی ہمارے گھر کھیلنے آتی تھی جسے ڈاکٹر رمضان نے دیکھ لیا تو ہمیں مجبور کرنا شروع کر دیا کہ اس بچی کا ذہن بناؤ میں منہ مانگے پیسے دوں گا ورنہ یہاں سے نکل جاؤ ۔اعجاز حسین نے بتایا کہ آئے روز کی دھمکیوں کی وجہ سے میں ویڈیو بنانے پر مجبور ہوا حالانکہ مجھے اندازہ ہے کہ اس سے میری بھی بدنامی ہوگی کیونکہ میں ایف اے پاس ہوں اور معاملات کو سمجھتا ہوں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹر محمد رمضان اس سے قبل لاہور کی لیڈز یونیورسٹی میں ملازمت کرتے تھے جہاں سائیکالوجی کی ایک ٹیچر کو ہراساں کرنے کا الزام ثابت ہونے پر انہیں نوکری سے نکال دیا گیا پھر یہ بات مشہور ہوئی کہ ڈاکٹر رمضان نے ایمرسن یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی پوزیشن مبینہ طور پر تین کروڑ میں حاصل کی ہے اور تعلیمی حلقوں میں یہ بعض زبان زد عام ہے کہ وائس چانسلر ایمرسن یونیورسٹی کا عہدہ پی ٹی آئی کی فرح گوگی کے ذریعے فروخت ہوا تھا جسے ڈاکٹر رمضان نے خریدا تھا مگر رشوت کی کوئی تصدیق نہیں کر سکتا اس لئے یہ محض الزام تراشی ہی ہے۔
مزید پڑھیں: ڈاکٹررمضان کوباورچی کی تلاش، خصوصی ٹیم گھرپہنچ گئی،خدشات درست ثابت
ملتان(سٹاف رپورٹر)ایمرسن یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد رمضان نے ملتان شہر میں اپنے باورچی کی تلاش شروع کر دی ہے اور ان کی ہدایت پر ایک خصوصی ٹیم سالار واہن میں باورچی اعجاز حسین کے گھر پہنچ گئی۔ اس طرح صرف 24 گھنٹے میں ہی اعجاز کے وہ تمام خدشات درست ثابت ہو رہےہیں جو اس نے روزنامہ قوم کے دفتر میں اپنے دستخطوں اور انگوٹھے کا نشان لگا کر خریدے گئے اسٹام پر لکھے تھے کہ ڈاکٹر رمضان سے اسے اور اس کی فیملی کو شدید خطرہ ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر رمضان نے مختلف قانونی ماہرین سے مشاورت کی تو انہیں بتایا گیا کہ کسی بھی صورت میں اپنے سابق باورچی اعجاز حسین سے رابطہ کر کے اس سے اپنے حق میں نیا اسٹام لکھوایا جائے ورنہ بچنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔

مزید پڑھیں: وی سی کا رجسٹرارکوحل نکالنےکا حکم، انچارج تعلقات عامہ نے ہاتھ کھڑے کر دیئے
ملتان(سٹاف رپورٹر) ایمرسن یونیورسٹی کے کرپشن میں ہر طرح سے ملوث غیر قانونی رجسٹرا ڈاکٹر محمد فاروق نے روزنامہ قوم کی خبر پر شعبہ تعلقات عامہ کے انچارج ڈاکٹر نعیم کو طلب کر کے کہا کہ وائس چانسلر کا حکم ہے کہ اس خبر کا کوئی حل نکالیں اور اس معاملےکا کوئی حل نکالیں جس پر ڈاکٹر نعیم نے صاف جواب دے دیا کہ وہ اس طرح کی خبر کانہ تو کوئی حل نکال سکتے ہیں اور نہ ہی وضاحت کیونکہ خبر کے متن کے مطابق روزنامہ قوم کے پاس تمام تر ثبوت اور ویڈیو موجود ہیں۔
مزید پڑھیں:آج سنڈیکیٹ اجلاس پرسوالات ،ڈاکٹررمضان’’ لٹواورپھٹو ‘‘کیلئے تیار
ملتان(سٹاف رپورٹر)سابق خاتون اول اور پی ٹی آئی کے چیئرمین کی تیسری اہلیہ بشریٰ مانیکاعرف پنکی پیرنی کی فرنٹ ویمن فرح گوگی سے مبینہ ڈیل کے بعد ایمرسن یونیورسٹی کے اوور ایج ہونے کے باوجود وائس چانسلر کا عہدہ حاصل کرنے والے لائبریرین ڈاکٹر محمد رمضان کی شرمناک ویڈیوز سامنے آنے کے بعد آج بروز جمعہ 15 اگست کو ہونے والے سنڈیکیٹ کے اجلاس کے انعقاد پر سوالات اٹھنے لگے اور روزنامہ قوم میں وائس چانسلر کی ہم جنس پرستی کے حوالے سے ثبوتوں کے ساتھ خبر منظر عام پر آنے کے بعد ان کے قریبی دوستوں نے مشورہ دیا ہے کہ ہم جنس پرستی کی ویڈیوز کی بابت خبرسامنے آنے کے بعد اپ کا سنڈیکیٹ کے اجلاس کی صدارت کرنا غیر مناسب، غیر اخلاقی اور قابل اعتراض ہوگا کیونکہ سنڈیکیٹ ممبران میں سے کسی نے اس بارے سوال اٹھا دیا تو صورتحال پیچیدہ ہو جائے گی۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر رمضان ہر حالت اور ہر صورت میں سنڈیکیٹ کا اجلاس کرانا چاہتے ہیں تاکہ جو کروڑوں روپے انہوں نے ملازمت حاصل کرنے کیلئے امیدواروں سے ایڈوانس کے طور پر لے رکھے ہیں وہ واپس کرنے پڑیں گے۔ ڈاکٹر رمضان نے اپنے قریبی حلقے میں اشارے کنایے سے یہ بات کی ہے کہ سنڈیکیٹ کے اجلاس کامیابی سے ہو جائے تو انہیں وائس چانسلر کی سیٹ چھوڑنے میں آسانی ہوگی کیونکہ ویسے بھی چھ ماہ بعد ان کے عہدے کی مدت ختم ہو رہی ہے۔