آج کی تاریخ

ایمرسن: رنگیلے وی سی کے سیاہ کرتوت، وزیر تعلیم برہم، تحقیقات شروع، 3 سلیکشن بورڈز کی تقرریاں کالعدم

ملتان(سٹاف رپورٹر)روزنامہ قوم کا ایمرسن یونیورسٹی کے بد کردار وائس چانسلر ڈاکٹر محمد رمضان کے خلاف جہاد بار آور ثابت ہوا اور لاہور میں صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کی صدارت میں ہونے والے ایمرسن یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ کے اجلاس میں ویڈیوز سکینڈل کی بابت پوچھ گچھ کی گئی اور ویڈیو کےفارنزک کا حکم دیا گیا جبکہ ڈاکٹر رمضان کے خلاف اعلیٰ سطح انکوائری شروع کر دی گئی۔ صوبائی وزیر تعلیم کی جانب سے روزنامہ’’قوم‘‘ سے رابطہ کر کے ڈاکٹر رمضان کی باورچی کے ساتھ فحش فلم اور باورچی اعجاز حسین کی طرف سے لکھے گئےا سٹامپ اور دیگر ثبوت طلب کئے گئے جو انہیں فراہم کر دیئے گئے۔صوبائی وزیر نے لیپ ٹاپ پر تمام ثبوت دیکھے اور فوری طور پر انکوائری کا حکم دے دیا ۔صوبائی وزیر تعلیم نے سنڈیکیٹ کے اجلاس میں ایجنڈے پر رکھی گئی تمام آئٹمز کو مسترد کر دیا اور ڈاکٹر رمضان کے دور میں ہونے والی تمام تر بھرتیوں کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے ہائر ایجوکیشن کمیشن پنجاب کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خان کو انکوائری کا حکم دے دیا۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر رمضان اجلاس میں شرکت کیلئےجاتے ہوئے اپنا استعفیٰ لکھ کر گئے تھے جسے صوبائی وزیر تعلیم نے ڈانٹتے ہوئے مسترد کر دیا اور کہا کہ جو کچھ بھی ہوگا باقاعدہ انکوائری اور طریقہ کار کے مطابق ہوگا ۔بتایا گیا ہے کہ ایمرسن یونیورسٹی ملتان کے وائس چانسلر کی حالت بہت خراب تھی اور وہ سنڈیکیٹ اجلاس کے دوران بار بار اٹھ کر واش روم کی طرف بھاگتے تھے۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر رمضان کی ہم جنس پرستی کے حوالے سے ویڈیو انہی کے اور وی سی ہاؤس کے باورچی نے از خود بنا کر روزنامہ قوم کے دفتر میں اپنی اہلیہ شازیہ اور چار بیٹیوں کے ہمراہ خود اسٹامپ پیپرز خرید کر وائس چانسلر کی سیاہ کاریوں اور ہم جنس پرستی کی تحریر لکھ کر دی اور روتے ہوئے بتایا کہ ڈاکٹر رمضان دو سال سے اسے جنسی تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے اور اب اس کی ناپاک نظر میری 13 سالہ بیٹی پر ہے جس کا ڈاکٹر رمضان نے بارہا اظہار بھی کیا۔گزشتہ روز لاہور میں ہونے والے سنڈیکیٹ کے اجلاس میں گزشتہ تین یعنی تیسرے،چوتھے اور پانچویں سلیکشن بورڈ کی تمام بھرتیوں کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا۔ توجہ طلب امر یہ ہے کہ ایمرسن یونیورسٹی کے ہراسمنٹ میں ملوث رجسٹرار محمد فاروق جن کی تقرری بھی غیر قانونی ہے اور اس تھرڈ ڈویژن ڈگری رکھنے والے کو بھی قواعد وضوابط کے منافی سرگودھا سے ڈاکٹر رمضان ہی لے کر آئے ۔یاد رہے کہ ڈاکٹر فاروق پر بھی خواتین فیکلٹی ممبر کو ہراساں کرنے کے الزام میں انکوائری چل رہی ہے ۔بتایا گیا ہے کہ متعدد متاثرین نے ڈاکٹر فاروق کی طرف سے بھرتیوں کےعوض پیسے لینے کے معاملات کے واٹس ایپ ثبوت بھی سنڈیکیٹ کے اجلاس سے پہلے ہی ممبران کو بھجوا دیئے تھے۔ یاد رہے کہ رجسٹرار کی بھرتی کیلئے عمر کی حد 50 سال ہے جبکہ ڈاکٹر رمضان نے جب ڈاکٹر فاروق کو رجسٹرار کے عہدے پر بھرتی کیا تو ان کی عمر 53 سال تھی ۔صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ایمرسن یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے خلاف جو انکوائری کمیٹی قائم کی ہے اس کی سربراہی چیئرمین پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر اقرار احمد خان کریں گے جبکہ اس کمیٹی کے ممبران میں ممبر صوبائی اسمبلی اسامہ فضل، ایڈیشنل سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب زاہدہ اظہر، صوبائی وزارت قانون اور وزارت خزانہ کے نمائندگان بھی شامل ہیں۔صوبائی وزیر تعلیم کے حکم پر گزشتہ تینوں سلیکشن بورڈ کی تمام تر تقرریاں روک کر انکوائری شروع کر دی گئی ہے اور ان تینوں سلیکشن بورڈز کے نتیجے میں جن کے تقرر نامے بھی جاری ہو چکے تھے انہیں بھی کام سے روک دیا گیا ہے۔

معروف پیسٹی سائیڈکمپنی کے مالک آصف مجیدکی قریبی عزیزہ بھی خلاف میرٹ بھرتی ،تعلیمی ریکارڈ کمزور

ملتان(سٹاف رپورٹر)ایمرسن یونیورسٹی کے وائس چانسلرڈاکٹر رمضان نے ملتان کی معروف پیسٹی سائیڈ کمپنی کے مالک آصف مجید کی قریبی عزیزہ کو میرٹ کے خلاف انگلش ڈیپارٹمنٹ میں لیکچرار بھرتی کر رکھا ہے۔ زریاب مظہر طور نامی خاتون کا تعلیمی ریکارڈ کمزور ہے۔ قانون اور طریقہ کار کے مطابق امیدواروں میں سے میرٹ کے لحاظ سے پہلے پانچ نمبر پر آنے والوں ہی کو انٹرویو کے لیے طلب کیا جاتا ہے مگر زریاب مظہر اس لسٹ میں 24ویں نمبر پر تھی تو ڈاکٹر رمضان نے اس خاتون کو نوازنے کے لیے 25 امیدواروں کو خلاف قانون انٹرویو کے لیے بلایا اور پھر اس خاتون کا انتخاب کر لیا۔

ملتان کی ایک اور یونیورسٹی کے وائس چانسلر اچانک محتاط، خواتین کو ملتان سے اسلام آباد لے جانے کا وطیرہ

ملتان(سٹاف رپورٹر)ملک بھر کے تعلیمی حلقوں میں گزشتہ دو روز سے روزنامہ قوم کی ایمرسن یونیورسٹی کے حوالے سے خبریں زیر مطالعہ اور زیر بحث ہیں اور اعلیٰ تعلیمی حلقوں کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آرہا ہے۔ دو روز قبل جو لوگ ڈاکٹر رمضان کو شک کا فائدہ دے رہے تھے اب وہ بھی کھل کر اظہار افسوس اور سخت ایکشن کے مطالبے کی طرف راغب ہیں جبکہ ملتان ہی کی ایک اور یونیورسٹی کے وائس چانسلر اچانک محتاط ہو گئے ہیں جنہوں نے بعض خواتین کو ملتان سے اسلام آباد لے جانے کا وطیرہ بنا رکھا تھا۔

طلبہ، سٹاف میں غم وغصہ، خوف وہراس ڈاکٹر رمضان نے فحش ویڈیومیں نظر آنے والا بیڈ ہی غائب کردیا

ملتان(سٹاف رپورٹر)ڈاکٹر رمضان کی فحش ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد ایمرسن یونیورسٹی کے طلبا و طالبات اور سٹاف ممبران میں شدید غم و غصہ اور خوف و ہراس پایا جا رہا ہے اور یونیورسٹی میں وائس چانسلر کے کردار ہی پر ہر جگہ گفتگو ہو رہی ہے ۔بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر رمضان نے وہ بیڈ ہی غائب کر دیا جو کہ فحش ویڈیو میں نظر آرہا تھا تاکہ ثبوت مٹائے جا سکیں۔ بتایا گیا ہے کہ یونیورسٹی کی دو ٹیچرز نے بھی ہراسمنٹ کی درخواستیں دے رکھی تھیں جو کہ زیر التوا ہیں۔ اب ان پر بھی جلد سماعتیں شروع ہو رہی ہیں۔علاوہ ازیں گزشتہ تین سلیکشن بورڈ کے ذریعے ہونے والی تمام تر بھرتیوں کے عمل کو روکے جانے کے بعد ڈاکٹر رمضان اور ڈاکٹر فاروق شدید دباؤ میں ہیں اور لوگوں نے ڈاکٹر فاروق کے علاوہ ایک اور فرنٹ مین کے ذریعے د یئےگئے کروڑوں روپے واپس مانگ لئے ہیں۔

مزید پڑھیں : رمضان گجر فحش ویڈیو میں نیا دھماکا، چند ماہ قبل سیاست دان کے بیٹے کے ہاتھ لگ چکی، بھاری ڈیل

مزید پڑھیں : وی سی ویڈیوسکینڈل، بلیک میلرز سرگرم، نامعلوم نمبر سے ملازمین کو دھمکی آمیز میسجز

مزید پڑھیں : ڈاکٹر رمضان جنسی سکینڈل: ملک بھر کے اداروں کی تحقیقات، فحش آڈیو بھی لیک، خواتین بارے غلیظ جملے

شیئر کریں

:مزید خبریں