این ایف سی ایوارڈ ۔ مرکز اورصوبوں میں رسا کشی

قومی مالیاتی کمیشن کا حالیہ اجلاس بظاہر ایک رسمی عمل لگ سکتا ہے، لیکن درحقیقت یہ وفاقِ پاکستان کے وجود، اس کی آئینی ساخت اور صوبائی خودمختاری کے پورے تصور کی جڑوں کو چھو لینے والا مرحلہ ہے۔ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے اجلاس کا آغاز

بسنت کی واپسی: عوامی ثقافت کی بحالی کا روشن آغاز

اٹھارہ برس بعد پنجاب میں بسنت کی بحالی محض ایک تہوار کی اجازت نہیں، بلکہ عوامی ثقافت کے اس دھارے کی طرف لوٹنے کا پہلا قدم ہے جسے کئی برسوں سے خوف، انتہا پسندی، بے جا پابندیوں اور انتظامی کمزوریوں نے جکڑ رکھا تھا۔ بسنت کی

اقلیتوں کا تحفظ — آئینی وعدہ، سیاسی ہچکچاہٹ اور ریاستی ذمہ داری

پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق کا منظور کیا جانا بظاہر ایک پیش رفت ہے، مگر اس پیش رفت کے اندر کئی ایسے سوال پوشیدہ ہیں جو ہماری سیاست، قوانین اور ریاستی رویوں کی گہری کمزوریوں کو بے نقاب کرتے ہیں۔ یہ

سرمایہ کاری کا بدلہ: جمہوریت کی قیمت اور ریاستی اختیار کا بگاڑ

پاکستان بزنس کونسل کے دو روزہ اقتصادی مکالمے میں ایس ایف آئی سی کے نیشنل کوآرڈی نیٹر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز احمد نے اعتراف کیا کہ پاکستان میں عملی کارپوریٹ ٹیکس شرح بعض اوقات 50 فیصد تک پہنچ جاتی ہے، جو سرمایہ کاری کے لیے بڑی رکاوٹ

مسابقتی کمیشن کی کارکردگی،اصلاحات کے دعوے، حقیقت کے تقاضے

مسابقتی کمیشن پاکستان نے حال ہی میں ایک پریس بیان جاری کیا جس میں بین الاقوامی مالیاتی ادارے کی جانب سے اپنی کارکردگی کے بارے میں کی گئی تعریف کو نمایاں انداز میں پیش کیا گیا۔ یہ بیان بظاہر اس لیے دیا گیا کہ ذرائع ابلاغ

برآمدات کے احیا کا راستہ،محض محصولات ختم کرنے سے کچھ نہیں بدلے گا

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ہونے والے جائزہ اجلاس میں برآمدی ترقیاتی محصول کو فوری طور پر ختم کرنے کا جو فیصلہ کیا گیا ہے، وہ بظاہر ایک درست قدم ہے، لیکن اسے برآمدات کے بحران کا مکمل حل سمجھنا خود ایک بڑی غلط فہمی

موسمیاتی وعدوں کا سراب، بیلم کانفرنس کے بعد دنیا اور پاکستان کہاں کھڑے ہیں؟

ہمیں حیرت تو نہیں ہونی چاہیے۔ موسمیاتی سفارت کاری کے تیس برسوں کا حاصل آج بھی وہی پرانے وعدے، وہی ادھورے عزم، وہی مبہم بیانیے اور وہی غیر سنجیدگی ہے جس نے پوری دنیا کو ایک ایسے دہانے پر کھڑا کر دیا ہے جہاں خاموشی خود

الزامات کا چکر، جب سیاست دان اور طاقتور حلقے ایک دوسرے کے آئینے بن جاتے ہیں

پاکستان کی سیاست میں الزامات، جوابی الزامات، ماضی کی تلخیوں اور مستقبل کے خوف کا جو مسلسل بہاؤ جاری ہے، اس نے جمہوری ڈھانچے کو کمزور کرنے کے ساتھ ساتھ عوام کے ذہنوں میں شدید بے یقینی بھی پیدا کر دی ہے۔ سابق وزیراعظم اور مسلم

سرمایہ کاری کے فرار کا بحران، پالیسیاں بدلیں، ورنہصنعت مزید خالی ہوتی جائے گی

پاکستان آج ایک ایسے نازک معاشی موڑ پر کھڑا ہے جہاں صرف اعداد و شمار نہیں، بلکہ عالمی سرمایہ کاروں کا طرزِ عمل بھی ملکی معاشی سمت پر سوال اٹھا رہا ہے۔ حکومت اب کثیر القومی کمپنیوں کے انخلا کو روکنے کے لیے ’’سرمایہ کاری و

انتخابی کامیابی، سیاسی جواز اور جمہوری زوال کی نئی علامت

پاکستان کی سیاست ایک بار پھر اس موڑ پر کھڑی ہے جہاں ظاہری فتح، اندرونی کمزوریوں اور جمہوری ڈھانچے کی ٹوٹ پھوٹ کا عکاس بن کر سامنے آ رہی ہے۔ پنجاب کے ضمنی انتخابات میں حکمراں جماعت کی واضح کامیابی، اور ہری پور میں علامتی اہمیت

بگڑتا ہوا تجارتی توازن اور کھوکھلی بحالی کا سنگین دھوکہ

پاکستان کی بیرونی تجارت کی تازہ ترین صورتِ حال ایک گہری تشویش کو جنم دے رہی ہے۔ ظاہری طور پر بڑی صنعتوں کی معمولی بحالی کے باوجود، تجارتی خسارہ نہ صرف بڑھ رہا ہے بلکہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے گہرا ہوتا

بڑھتا ہوا موسمِ غضب اور ریاستی غفلت کا ناقابلِ معافی بوجھ

پاکستان میں خطرے کی گھنٹیاں ایک بار پھر بج چکی ہیں—اور اس بار پہلے سے کہیں زیادہ زور سے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جاری کردہ قبل از وقت پیش گوئی کہ اگلے برس مون سون کی بارشیں معمول سے بائیس سے چھبیس فیصد زیادہ ہو

غزہ ’امن منصوبہ‘قابض قوتوں کی بالادستی اور پاکستان کیلئے سنگین خطرات

غزہ کے خون میں ڈوبے ہوئے ساحلوں پر جب ہزاروں فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جب تباہ شدہ عمارتوں کے نیچے اب بھی لاشیں پڑی ہیں، جب اسرائیلی جارحیت مسلسل جاری ہے اور قبضہ اپنے بدترین مرحلے پر ہے—ایسے وقت میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل

داخلی سلامتی کے بحران اور طاقت کے فرسودہ طریقوں کی ناکامی

پاکستان کی داخلی سلامتی کی صورتِ حال ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں خطرات کی پیچیدگی بڑھتی جا رہی ہے، دشمن زیادہ منظم ہو رہے ہیں، اور ریاستی اداروں کی حکمتِ عملی اپنی افادیت کھوتی جا رہی ہے۔ ریاست جو طریقے برسوں سے آزما رہی

انسانی حقوق، آئینی زوال اور غیر جوابدہ اقتدار کا بڑھتا ہوا سایہ

پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتِ حال پہلے ہی شدید بحران کا شکار تھی، مگر ستائیسویں آئینی ترمیم نے اس بحران کو ایک اور خطرناک موڑ پر پہنچا دیا ہے۔ انسانی حقوق کمیشن پاکستان کی سالانہ اجلاس کے بعد جاری ہونے والی بیانئے میں جو خدشات

تعلیم کا کاروبار اور والدین کا استحصال

مقابلہ کمیشنِ پاکستان کی جانب سے سترہ بڑے نجی اسکول نظاموں کو جو نوٹس جاری کیے گئے ہیں، وہ نہ صرف والدین کی دیرینہ شکایات کی تصدیق کرتے ہیں بلکہ اس بات کا ثبوت بھی ہیں کہ ملک میں نجی تعلیم ایک ایسے منافع خور کاروبار

ستائیسویں ترمیم اور وفاقی آئینی عدالت کا سوال

وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان نے حالیہ بیان میں امید ظاہر کی ہے کہ یہ نیا عدالتی ادارہ ’’آنے والی نسلوں کے لیے آئینی عملداری کا محافظ اور انصاف کی علامت‘‘ ثابت ہوگا۔ ان کے الفاظ اعلیٰ عدلیہ کے وقار اور آئین

خطرناک موڑ: معدنیات کی دنیا میں نیا سیاسی توازن

پاکستان کے معدنی وسائل ہمیشہ سے ہمارے لیے امید کا دروازہ بھی رہے ہیں اور ایک ایسا میدان بھی جہاں عالمی طاقتیں اپنے اپنے مفادات کے لیے صف بندی کرتی رہی ہیں۔ تازہ ترین پیش رفت — پانچ سو ملین ڈالر کے مفاہمتی یادداشت کا امریکی

انصاف کی راہ میں قید خانوں کا اندھیرا

پاکستان میں انصاف کا سفر ایک ایسی گلی میں داخل ہو چکا ہے جہاں روشنی کم ہے، سایے گھنے ہیں، اور بے بسی کی آہٹ ہر قدم کے ساتھ بڑھتی جاتی ہے۔ قید خانوں کی حالت، زیر سماعت قیدیوں کی تعداد، اور عدالتی تاخیر کا جو

ثانیہ زہرا… ایک اور بیٹی، ایک اور قتل

کتنی بیٹیاں اور…؟یہ سوال اب چیخ بن کر اس ملک کی فضا میں گونج رہا ہے۔ ہر چند ماہ بعد کسی ماں، بہن یا بیٹی کی لاش پنکھے سے لٹکی ہوئی ملتی ہے، اور ہر بار ایک ہی کہانی لکھی جاتی ہے—’’خودکشی‘‘۔ ہر بار ایک ہی

آٹو انڈسٹری کا موڑ اور پالیسی کی سمت

پاکستان کی آٹوانڈسٹری اس وقت ایک نہایت فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں بنائی جانے والی خودروی پالیسیاں، خصوصاً ۲۰۱۶ء تا ۲۰۲۱ء اور ۲۰۲۱ء تا ۲۰۲۶ء کی پالیسیوں نے بالآخر اپنی عملی شکل دکھانا شروع کر دی ہے۔ چند برس پہلے تک

غزہ کا مستقبل، غیر واضح منصوبے اور اسرائیلی عزائم — مسلم ممالک کیلئے فیصلہ کن لمحہ

غزہ میں جاری تباہی، بے گھری اور انسانی المیے کے پس منظر میں وہ منصوبہ جسے کچھ حلقوں نے ’’خطے کو بدل دینے والی چال‘‘ قرار دیا تھا، آج اپنی کمزور بنیادیں واضح طور پر ظاہر کر رہا ہے۔ ایک ماہ سے زائد گزرنے کے باوجود

دہشت کے مقابل عزم کی سرحد

اسلام آباد اور وزیرستان میں ہونے والے تازہ دہشت گرد حملے ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو یاد دلاتے ہیں کہ پاکستان کے دشمن اب بھی ہمارے امن اور استحکام کو نشانہ بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت میں خودکش حملے نے، جہاں عدالت