کراچی: پورٹ قاسم سے 2.8 ارب روپے مالیت کی 56 لاکھ نشہ آور ٹراماڈول ٹیبلیٹس کو افریقہ اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان کسٹمز انفورسمنٹ نے انسدادِ اسمگلنگ مہم کے تحت ایک کارروائی میں ٹاولز کے برآمدی کنسائمنٹ کی آڑ میں ٹراماڈول ٹیبلیٹس اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی۔
ترجمان کسٹمز کے مطابق احمد ٹریڈنگ کے اس برآمدی کنسائمنٹ میں اصل میں 56 لاکھ ٹراماڈول ٹیبلیٹس موجود تھیں، جنہیں سیئرالیون، افریقہ اسمگل کیا جانا تھا۔ گڈز ڈیکلریشن میں ان نشہ آور گولیوں کو ٹاولز کے طور پر ظاہر کیا گیا تھا، جبکہ این ایل سی ٹرمینل کے رسک مینجمنٹ سسٹم سے یہ کنسائمنٹ کلیئر ہو چکا تھا۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ کنسائمنٹ QICT سے بحری جہاز میں لوڈ ہونے کے لیے تیار تھا، لیکن حکام نے رسک پروفائلنگ کے تحت مزید جانچ پڑتال کی، جس کے نتیجے میں کنٹرول شدہ نفسیاتی ادویات کی بڑی مقدار پکڑی گئی۔ اس پر کسٹمز حکام نے مقدمہ درج کر کے کنسائمنٹ ضبط کر لیا۔
واضح رہے کہ ٹراماڈول ایک کنٹرول شدہ نفسیاتی دوا ہے، جس میں نشہ آور مرکبات شامل ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ کئی ممالک میں اس پر پابندی عائد ہے۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان سے نشہ آور ادویہ اسمگل کرنے کی یہ دوسری بڑی کارروائی ہے، اس سے قبل فروری 2025 میں 10 ارب روپے مالیت کی ٹراماڈول ٹیبلیٹس اسمگل کرنے کی کوشش بھی ناکام بنائی گئی تھی۔






