جامعہ اسلامیہ: سابق موجودہ انتظامیہ ملازمین کے لیے سردرد، مستقبل داؤ پر لگ گیا

ملتان (سٹاف رپورٹر) اسلامیہ یونیورسٹی کی کرپشن سے بھرپور ماضی کی انتظامیہ جس میں سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب اور ان کے دست راست ڈاکٹر ابوبکر خزانچی اور گزشتہ 2 سال سے اسی یونیورسٹی کی عبوری انتظامیہ جس میں قائم مقام وائس چانسلر ڈاکٹر محمد کامران، قائم مقام رجسٹرار شجیع الرحمٰن، قائم مقام کنٹرولر اور قائم مقام خزانچی شامل ہیں، نہ صرف ملازمین کے لیے درد سر بن گئی بلکہ نملازمین کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔ اس بارے میں انتظامیہ کا کوئی بھی فرد جواب دہی کے لیے تیار نہیں اور نہ ہی اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن اس بارے میں اپنا کوئی کردار ادا کر سکی ہے۔ گزشتہ 2 سال کے دوران فوت ہو جانے والے چار پروفیسر حضرات جن میں رحیم یار خان کیمپس کے لیکچرار سلمان ضیا، مینجمنٹ سائنسز کے محسن متین، ڈاکٹر احمر اور حال ہی میں کمپیوٹر سائنس ڈیپارٹمنٹ کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر حنا افرین جو کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول نگر کیمپس میں اسسٹنٹ پروفیسر تعینات تھیں اپنے خالق حقیقی سے جا ملی مگر انتظامیہ کی نااہلی اور غلط فیصلوں سے ان پروفیسر حضرات کی زندگیاں بری طرح متاثر ہو گئی۔ یہ تمام پروفیسر حضرات 50 سال یا اس سے بھی کم عمر کے لوگ تھے اور ان کے قریبی دوستوں کا کہنا ہے کہ ان اموات کے تانے بانے اس دباؤ اور تناؤ سے ملتے ہیں جس سے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے تمام ملازمین گزشتہ کئی ماہ سے شکار ہیں۔ اس میں سرفہرست تنخواہوں کا وقت پر نہ ملنا شامل ہے اور انتظامیہ کی نااہلی کے باعث کالج سے یونیورسٹی میں کنٹریکٹ پر اسسٹنٹ پروفیسر بھرتی ہونے والی ڈاکٹر حنا افرین جو کہ اپنے پیچھے دو معصوم بچے بھی چھوڑ گئیں ان کا کوئی مستقبل نہ ہے۔ ڈاکٹر حنا افرین تین سال قبل کالج سے یونیورسٹی میں کنٹریکٹ پر اسسٹنٹ پروفیسر بھرتی ہوئی تھی اور بہاول نگر کیمپس میں تدریسی امور کے ساتھ ساتھ انتظامی امور بھی بخوبی سر انجام دے رہی تھیں۔ ورک لوڈ مکمل ہونے کے باعث وزٹنگ فیکلٹی بھی مناسب تعداد میں موجود تھی۔ کالج سے یونیورسٹی میں ملازمت ہونے کے بعد تین سال کا LIEN بھی مکمل ہو چکا تھا اور وہ یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف پر امید نظروں سے دیکھ رہی تھی کہ کب ان کو اور ان جیسے متعدد اسسٹنٹ پروفیسر حضرات کے سروں سے عارضی کی تلوار ہٹا کر انہیں مستقل کیا جائے کیونکہ تین سال کا LIEN مکمل ہونے کے بعد انہوں نے کالج بھی واپس جوائن نہیں کیا تھا اور اسلامیہ یونیورسٹی بھی ان کو مستقل نہ کر رہی تھی چنانچہ ڈاکٹر حنا افرین دونوں اداروں میں سے کسی سے بھی پنشن کی حقدار نہ ٹھہری۔ اس بارے میں متعدد سوالات کیے جا رہے ہیں کہ جب سٹاف کی ضرورت کمپیوٹر سائنس شعبہ میں جسٹیفائیڈ تھی تو ان کو کنٹریکٹ پر بھرتی کرنے کا کیا مقصد تھا اور تین سال مکمل ہونے سے پہلے ڈاکٹر حنا افرین اور ان جیسے دوسرے اساتذہ کرام کو مستقل کیوں نہ کیا گیا اور ملازمتوں میں غیر یقینی صورتحال کیوں برقرار رکھی گئی؟ کیوں کر ان تمام اداروں کو عبوری انتظامیہ کے اسرے پر چلایا جا رہا ہے جن کو یا تو اختیار نہیں ہے یا پھر وہ کچھ کرنا نہیں چاہ رہے اور ملازمین کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں۔ پی ایچ ڈی جیسے اعلیٰ ترین تعلیم یافتہ افراد کے ساتھ تعلیمی اداروں کی جانب سے اس طرح کا کھلواڑ باعث حیرت ہے۔ وائس چانسلر اور رجسٹرار کی کرسی پر تعینات افراد کیوں ایسا نظام نہیں بناتے کہ جس کی بابت ان اساتذہ ذہنی دبائو سے آزاد ہو کر تدریسی عمل پر توجہ دے سکیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں