چولستان وٹرنری یونیورسٹی، بیرونی سپانسر شپ سے منعقد ایکسپو کیلئے طلبہ سے لاکھوں کی وصولی-چولستان وٹرنری یونیورسٹی، بیرونی سپانسر شپ سے منعقد ایکسپو کیلئے طلبہ سے لاکھوں کی وصولی-لودھراں: پیرافورس، ٹریفک جرمانے، تاجروں کا صبرختم، ہڑتال کا اعلان-لودھراں: پیرافورس، ٹریفک جرمانے، تاجروں کا صبرختم، ہڑتال کا اعلان-ونڈر بوائے کی پھر گونج، اپوزیشن لیڈرز تعیناتی کے بعد ن لیگ سے نیا وزیر اعظم آ سکتا ہے، محمد علی درانی-ونڈر بوائے کی پھر گونج، اپوزیشن لیڈرز تعیناتی کے بعد ن لیگ سے نیا وزیر اعظم آ سکتا ہے، محمد علی درانی-مظفرگڑھ: ستھرا پنجاب پروگرام میں "مٹی پاؤ" پالیسی، 600 ٹن ہدف کیلئے زمینوں کی کھدائی-مظفرگڑھ: ستھرا پنجاب پروگرام میں "مٹی پاؤ" پالیسی، 600 ٹن ہدف کیلئے زمینوں کی کھدائی-کوہِ سلیمان کے درےسمگلرز کے محفوظ راستے، گدھوں پر نان کسٹم مال منتقل، ریاستی رٹ کمزور-کوہِ سلیمان کے درےسمگلرز کے محفوظ راستے، گدھوں پر نان کسٹم مال منتقل، ریاستی رٹ کمزور

تازہ ترین

ٹرمپ انتظامیہ کی نئی سفری پابندیوں کی فہرست تیار، پاکستان سمیت کئی ممالک شامل

واشنگٹن: ٹرمپ انتظامیہ 43 ممالک کے شہریوں پر سفری پابندیوں کی تجاویز پر غور کر رہی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ نئی سفری پابندیوں کی فہرست پر غور کر رہی ہے، جس کے تحت مختلف ممالک کو تین کیٹیگریز میں تقسیم کیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق، 10 ممالک کو “اورنج لسٹ” میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جن میں پاکستان، بیلاروس، ہیٹی، میانمار، روس اور ترکمانستان شامل ہیں۔ اس فہرست میں شامل ممالک کے شہریوں پر امیگرنٹ اور سیاحتی ویزے محدود کیے جائیں گے، جبکہ کاروباری مسافروں کو کچھ شرائط کے تحت امریکہ میں داخلے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
علاوہ ازیں، ڈونلڈ ٹرمپ 11 ممالک کے شہریوں پر مکمل سفری پابندی عائد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جن ممالک کو “ریڈ لسٹ” میں شامل کیا جا سکتا ہے ان میں افغانستان، بھوٹان، کیوبا، ایران، لیبیا، شمالی کوریا، شام، سوڈان، سومالیہ، وینزویلا اور یمن شامل ہیں۔
مزید یہ کہ، ٹرمپ انتظامیہ “یلو لسٹ” میں چاڈ، ڈومینیکا، اور لائبیریا سمیت 22 ممالک کو شامل کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس فہرست میں شامل ممالک کے شہریوں کو ویزا درخواستوں میں پائی جانے والی خامیوں کو دور کرنے کے لیے 60 دن کی مہلت دی جائے گی۔
واضح رہے کہ ٹرمپ نے اپنی صدارت کے پہلے دور میں مسلم اکثریتی ممالک پر سفری پابندی عائد کی تھی، جسے “مسلم بین” کے نام سے جانا جاتا تھا۔ ان پابندیوں کے تحت ایران، عراق، لیبیا، سوڈان، سومالیہ، اور سوڈان کے شہریوں پر سفری پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ تاہم، صدر جو بائیڈن نے اپنے عہدہ سنبھالتے ہی ان پابندیوں کا خاتمہ کر دیا تھا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں