لودھراں: پیرافورس، ٹریفک جرمانے، تاجروں کا صبرختم، ہڑتال کا اعلان-لودھراں: پیرافورس، ٹریفک جرمانے، تاجروں کا صبرختم، ہڑتال کا اعلان-ونڈر بوائے کی پھر گونج، اپوزیشن لیڈرز تعیناتی کے بعد ن لیگ سے نیا وزیر اعظم آ سکتا ہے، محمد علی درانی-ونڈر بوائے کی پھر گونج، اپوزیشن لیڈرز تعیناتی کے بعد ن لیگ سے نیا وزیر اعظم آ سکتا ہے، محمد علی درانی-مظفرگڑھ: ستھرا پنجاب پروگرام میں "مٹی پاؤ" پالیسی، 600 ٹن ہدف کیلئے زمینوں کی کھدائی-مظفرگڑھ: ستھرا پنجاب پروگرام میں "مٹی پاؤ" پالیسی، 600 ٹن ہدف کیلئے زمینوں کی کھدائی-کوہِ سلیمان کے درےسمگلرز کے محفوظ راستے، گدھوں پر نان کسٹم مال منتقل، ریاستی رٹ کمزور-کوہِ سلیمان کے درےسمگلرز کے محفوظ راستے، گدھوں پر نان کسٹم مال منتقل، ریاستی رٹ کمزور-کوٹ ادو: ظالم تھانیدار کی سفاک تفتیشی بیٹی کا نجی ٹارچر سیل میں مانی پر غیرانسانی تشدد-کوٹ ادو: ظالم تھانیدار کی سفاک تفتیشی بیٹی کا نجی ٹارچر سیل میں مانی پر غیرانسانی تشدد

تازہ ترین

ڈاگ سنٹرز کا دھندہ عروج پر، کھوجی کتوں کے ذریعے جھوٹے الزامات، شہری بلیک میل

اوچشریف:کھوجی کتوں کے ذریعے تفتیش کے مختلف مناظر

اوچشریف ( نمائندہ قوم) کھوجی کتوں کے ڈاگ سنٹروں کا دھندا عروج پر، ڈاگ سنٹروں کے ایجنٹس کا شہریوں سے چوری کھوجنے کے نام پر بھاری رقوم بٹورنے بارے انکشاف، پولیس ملازمین ذمہ داریوں سے جان چھڑانے کے لیے غیر مستند کھوجی کتوں پر تکیہ کرنے لگے، مبینہ غیر قانونی مذموم طریقہ کے باعث کئی بے گناہ شہری جیلوں میں بند، درجنوں خاندان جھوٹے الزامات کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں، حکومت ایکشن لے ، شہری۔تفصیلات کے مطابق اوچ شریف کے مختلف علاقوں موضع مانجھی والا، بن والا، بیٹ بختیاری، دھوڑکوٹ، حلیم پور، خیر پور ڈاہا اور دیگر مقامات پر موجود ڈاگ سنٹروں کے مالکان اور ایجنٹ انسانی تذلیل کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں۔ کھوجی کتوں کے ذریعے لوگوں کو چوری، ڈکیتی اور دیگر مقدمات میں ملوث کر کے بلیک میل کیا جا رہا ہے۔چوری کی واردات کے بعد متاثرہ شخص سے ڈاگ سنٹر کے ایجنٹ رابطہ کرتے ہیں اور انہیں اپنی چرب زبانی سے قائل کر لیتے ہیں کہ چوری کا سراغ لگانے کے لیے کھوجی کتے کا استعمال ضروری ہے۔ ایجنٹ بھاری فیس وصول کر کے کھوجی کتے کو مخصوص انداز میں کسی بھی گھر میں داخل کرواتے ہیں اور پھر اسی گھر کے افراد پر چوری کا الزام لگا دیا جاتا ہے۔یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ کھوجی کتوں کی نشاندہی پر گاؤں کی پنچایتوں میں لوگوں کو قرآن پاک پر حلف اٹھانے پر مجبور کیا جاتا ہے، جو کہ ایک غیر شرعی اور غیر قانونی عمل ہے۔ مقامی کھوجی اور ڈاگ سنٹر کے مالکان پہلے سے مخصوص ٹارگٹ طے کر کے کھوجی کتوں کو متعلقہ گھر کی طرف بھیجتے ہیں، جہاں کتے کے بیٹھ جانے پر پولیس کارروائی عمل میں لے آتی ہے اور بے گناہ افراد کو جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ذرائع کے مطابق یہ ڈاگ سنٹر زیادہ تر اوکاڑہ، بہاولپور، ملتان اور دیگر شہروں میں چلائے جا رہے ہیں۔ ان مراکز کے مالکان اپنے ایجنٹوں کے ذریعے وزیٹنگ کارڈ تقسیم کرتے ہیں اور ایک چوری کا سراغ لگانے کے لیے15ہزارسے20ہزارروپے تک وصول کیے جاتے ہیں۔ اگر دوبارہ کھوجی کتے کو چھوڑنے کی ضرورت پیش آئے تو فیس دُگنی کر دی جاتی ہے۔ایجنٹوں کے ہاتھوں لٹنے والے کئی متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ مافیا پہلے سے ہی ٹارگٹ طے کر کے لوگوں کو بلیک میل کرتا ہے۔ مخصوص الفاظ جیسے “اپنا کام کرو”، “تلاش کرو”، “فائنل کرو” کا استعمال کرکے کتے کو مخصوص گھر میں داخل کرایا جاتا ہے اور الزام اس گھر کے افراد پر ڈال دیا جاتا ہے۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پنجاب کی مختلف جیلوں میں ہزاروں افراد صرف کھوجی کتوں کی غلط نشاندہی کی بنیاد پر قید ہیں۔ اگر کسی چوری یا ڈکیتی کے دوران کوئی ہلاکت ہو جائے تو پولیس تفتیش کرنے کے بجائے فوراً کھوجی کتوں کو طلب کر لیتی ہے اور ان کی غلط نشاندہی پر بے گناہ لوگوں کو قتل جیسے سنگین الزامات میں پھنسا دیا جاتا ہے۔شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان ڈاگ سنٹروں کے خلاف فوری کارروائی کرے اور پولیس کو واضح ہدایات جاری کرے کہ کھوجی کتوں کی نشاندہی پر کسی بھی قسم کی ایف آئی آر درج نہ کی جائے۔ بصورت دیگرمعصوم لوگ اسی طرح ناکردہ جرم کی سزا بھگتتے رہیں گے اور کئی بے گناہ خاندان دشمنیوں کا شکار ہوتے رہیں گے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں