ایم این ایس یو ای ٹی: قابض رجسٹرار ڈاکٹر عاصم کے گرد گھیرا تنگ، تحقیقات کیلئے ایچ ای ڈی طلب

ملتان (سٹاف رپورٹر) محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان کے گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصہ سے رجسٹرار کی عارضی اسامی پر مستقل قابض ڈاکٹر محمد عاصم عمر کو ہا ئر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ جنوبی پنجاب کے سپیشل سیکرٹری نے ہائی کورٹ میں زیر
سماعت کیس نمبر 10450/24 میں ایک خاتون آمنہ اعظم کی غیر قانونی تعیناتی کے الزامات میں انکوائری کی بابت طلب کر لیا ہے۔لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ میں درخواست دہندہ محمد زاہد کی جانب سے محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے رجسٹرار ڈاکٹر عاصم عمر پر لگائے گئے الزامات کے مطابق ڈاکٹر محمد عاصم عمر کی کم تجربے کی بابت بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر غیر قانونی تعیناتی اور غیر قانونی طور پر عرصہ دراز سے رجسٹرار کی کرسی پر قابض ہونے اور پھر اپنے بھائی کامران عمر کی انٹرویو کمیٹی میں دستخط کرنے، بغیر سٹیچوز کے بھرتی شدہ ملازمین جن میں ان کے اپنے بھائی عمران عمر بھی شامل ہیں کی ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی اجازت کے بغیر پروموشن کروانے، ڈیلی ویجز تجربے اور وزٹنگ تجربے کے حامل افراد کو وائس چانسلر ڈاکٹر محمد کامران کی مبینہ ملی بھگت سے بھرتی کرنے، کمشنر آفس کی جانب سے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد کامران کو وارننگ لیٹر دلوانے والے غیر قانونی رجسٹرار ڈاکٹر عاصم عمر کی اپنی ڈیلی ویجز اسسٹنٹ آمنہ اعظم کو قواعد و ضوابط کے منافی بھرتی کرنے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ اس کیس میں لگائے جانے والے الزامات کے مطابق ڈاکٹر عاصم عمر کی غیر قانونی تعیناتی اور آمنہ اعظم کی بطور لیب انجینئر تعیناتی کو چیلنج کیا گیا اور کہا کہ آمنہ اعظم نے لیب انجینئر (کیمیکل) کے عہدے کیلئے درخواست دی تھی اور 29-04-2024 کو شارٹ لسٹ ہونے کے بعد انٹرویو دیا تھا، لیکن عاصم عمر نے آمنہ اعظم کو اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے بطور چیئرمین کیمیکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ اور رجسٹرارایم این ایس-یو ای ٹی ملتان مذکورہ عہدے کے لیے منتخب کر لیا کیونکہ آمنہ اعظم پچھلے دو سالوں سے رجسٹرار عاصم عمر کے دفتر میں ایک گریجوایٹ انجینئر کے طور پر یومیہ اجرت پر کام کر رہی تھیں۔ یاد رہے کہ اس انکوائری میں سپیشل سیکرٹری جنوبی پنجاب نے رجسٹرار عاصم عمر کی غیر قانونی تعیناتی، ان کے بھائی کامران عمر کی تعیناتی میں ڈاکٹر عاصم عمر کے اثر و رسوخ کی بابت انکوائری کو یونیورسٹی کی سینڈیکیٹ کو بھیج دیا تھا مگر ابھی تک رجسٹرار ڈاکٹر عاصم عمر نے بطور سیکریٹری سینڈیکیٹ اس معاملے کی بابت کوئی معاملہ سینڈیکیٹ میں نہ آنے دیا۔ ڈاکٹر عاصم عمر کے ان تمام غیر قانونی کاموں میں وائس چانسلر ڈاکٹر محمد کامران بھی آنکھیں بند کئےہوئے ہیں اور اس معاملے کو سینڈیکیٹ میں لے جانے کی آڑ میں معاملے کو طول دیا جا رہا ہے۔ اس بابت موقف کے لیے جب وائس چانسلر محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان ڈاکٹر محمد کامران سے رابطہ کیا گیا کہ آپ رجسٹرار ڈاکٹر عاصم عمر کا معاملہ یونیورسٹی کی سینڈیکیٹ میں کیوں نہ لے گئے تو انہوں نے حسب معمول جواب دینے سے گریز کیا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں