وی سی ذکریا یونیورسٹی کا قوانین سے تجاوز ڈیپارٹمنٹس کے سربراہان ایکٹنگ ڈین تعینات کر دیئے

ملتان (قوم ایجوکیشن سیل رپورٹ) بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں اقربا پروری اور ملکی تاریخ میں پہلی بار قانون کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد زبیر اقبال نے مختلف ڈیپارٹمنٹس کے سربراہان کو ازخود ہی ایکٹنگ ڈین تعینات کرکے اختیارات کے تجاوز کی انوکھی مثال قائم کر دی، جبکہ بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے ایکٹ 1975 میں اس حوالے سے واضح قوانین موجود ہیں کہ ڈینز کی تعیناتی کا طریقہ کار کیا ہے اور ڈینز کی تعیناتی کا اختیار کس اتھارٹی کو ہے۔ اس بارے میں بی زیڈ یو شیڈول کے سیکشن 2 سب سیکشن 1 کے مطابق ہر فیکلٹی کے لیے ایک الگ ڈین ہو گا، جو فیکلٹی بورڈ کا چیئرمین اور کنوینر بھی ہو گا جبکہ سب سیکشن 2 کے مطابق ہر فیکلٹی کے ڈین کو چانسلر یعنی صوبائی گورنر مذکورہ فیکلٹی کے تین سینئر ترین پروفیسروں میں سے کسی ایک کو مقرر کرے گا، اس عہدے کی مدت تین سال ہو گی تاہم وہ دوبارہ تقرری کا بھی اہل ہوگا بشرطیکہ اگر کسی فیکلٹی میں کوئی پروفیسر دستیاب نہ ہو، تو کسی اور فیکلٹی کے پروفیسر کو اس وقت تک ڈین کے طور پر کام کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے جب تک کہ اسی فیکلٹی میں کوئی پروفیسر مقرر نہ کیا جائے۔ مگر حیران کن طور پر وہ تعیناتی جس کا مکمل طور پر اختیار ہی گورنر پنجاب/ چانسلر کے پاس موجود ہے اس پاور کو سینڈیکیٹ یا وائس چانسلر کیسے استعمال کر سکتے ہیں۔ چنانچہ سینڈیکیٹ جس کے پاس ڈینز کی تعیناتی کا اختیار سرے سے موجود ہی نہ ہے وہ کیونکر وائس چانسلر کو ایکٹنگ ڈینز لگانے کی اجازت دے سکتی ہے۔ اس حوالے سے بی زیڈ یو کے شیڈول میں سیکشن 2 سب سیکشن 2 واضح ہدایات جاری کر رہا ہے کہ ڈینز کی غیر موجودگی میں ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ہی چانسلر کی منظوری سے کسی بھی دوسری فیکلٹی کے ڈین کو یہ چارج ایڈیشنل طور پر دے سکتا ہے۔ مگر چانسلر کی پاورز کو سینڈیکیٹ کیونکر استعمال کرکے وائس چانسلر کو اجازت دے سکتی ہے اور وائس چانسلر کی طرف سے ایکٹ میں موجود اپنی سپیشل پاورز ایکٹ کے سیکشن 16 سب سیکشن 4(vi) کے تحت چانسلر کی پاورز کو استعمال کرنا قانون کے ساتھ ایک انوکھا مذاق ہے اور بظاہر اپنے مقصد کے لیے قانون کو صرف گھما پھرا کر قانون کی دھجیاں بکھیری جا رہی ہیں۔ اس نوٹیفیکیشن میں واضح طور پر یہ بھی درج ہے کہ وہ کسی قسم کی کوئی پاور ایکسرسائز نہیں کریں گے جبکہ بی زیڈ یو کے ایکٹ میں یہ واضح ہدایات موجود ہیں کہ اگر سینیئر فیکلٹی پروفیسر یا ایسوسی ایٹ پروفیسر دستیاب نہ ہو تو کسی اور فیکلٹی کے ڈین کو بھی ایڈیشنل چارج دیا جا سکتا ہے ، یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ڈینز کی تعیناتی میں سینڈیکیٹ کا نہ تو کوئی کردار ہے اور نہ ہی سینڈیکیٹ اس حوالےسے کوئی رول ادا کر سکتی ہے اور وائس چانسلر کا اپنی سپیشل پاورز کے سیکشن کو استعمال کرنے کی آڑ میں چانسلر کی پاورز کو استعمال کرنا نہایت ہی غیر قانونی عمل ہے۔ جبکہ بی زیڈ یو کے ایکٹ کے سیکشن 16 سب سیکشن 4(vi) کے مطابق اساتذہ، افسران اور دیگر ملازمین کو یہ ہدایت دینا کہ وہ تدریس، تحقیق، امتحانات، انتظامیہ اور دیگر ایسی سرگرمیوں کے سلسلے میں فرائض انجام دیں جو وہ یونیورسٹی کے مقاصد کے پیش نظر ضروری سمجھے۔ اس نوٹیفکیشن کا اصل مقصد اپنے چند قریب لوگوں کو نوازنا جو کہ ڈینز کی ساری پاورز استعمال کریں گے۔ اب وائس چانسلر کی جانب سے لگائے ہوئے ایکٹنگ ڈینز حضرات وائس چانسلر کے مختلف انٹرویو میں مکمل مارکس بھی کلیم کر پائیں گے۔ مگر اگر کوئی غیر قانونی کام ہوا تو انتظامیہ اس نوٹیفکیشن کو سامنے لے آئے گی کہ ان ایکٹنگ ڈینز کو صرف روزانہ کے معاملات کی حد تک محدود رکھا گیا تھا چنانچہ مزید قانونی پیچیدگیاں پیدا ہونے کے خطرات موجود ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہ ڈین حضرات سیلیکشن بورڈ کے ممبر کے طور پر بھی کام کریں گے جبکہ اگر کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو ان کو نان ووٹنگ ممبر قرار دیا جائے گا۔ اگر مسئلہ نہیں آتا تو ان کا ووٹ شمار کر لیا جائے گا۔ اس بارے میں موقف کے لیے جب قائم مقام رجسٹرار سے رابطہ کیا گیا کہ کیا آپ کی یونیورسٹی کے چانسلر کی پاورز کو وائس چانسلر اپنی سپیشل پاورز استعمال کرتے ہوئے بروئے کار لا سکتے ہیں؟ ڈینز کی تعیناتی کا معاملہ چونکہ ایک حساس معاملہ ہے اس معاملے کو اب تک چانسلر اور ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے پاس کیوں نہ بھیجا گیا؟ کیا سینڈیکیٹ ایکٹنگ ڈینز کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کر سکتی ہے؟ کیا بی زیڈ یو کی تاریخ میں ایکٹنگ ڈینز کا نوٹیفکیشن کبھی سینڈیکیٹ کی اجازت سے وائس چانسلر نے سپیشل پاورز استعمال کرتے ہوئے جاری کیا؟ کیا اس معاملے پر کوئی لیگل ایڈوائس لی گئی؟ تو ان کا موقف تھا کہ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ ایکٹنگ ڈین صرف ڈاک یا روز مرہ کے انتظامی معاملات سرانجام دیں گے ، وہ قانون میں ایک ڈین کی جو سٹیچری پاورز ہیں اسے استعمال نہیں کر سکیں گے اور اس طرح کی پریکٹس ایرڈ یونیورسٹی اور جی سی یونیورسٹی فیصل آباد میں پہلے سے ہو رہی ہے ۔ ایچ ای ڈی کی جانب سے ڈین کی تعیناتیوں میں ترمیم کی وجہ سے صرف روزمرہ کے انتظامی معمولات سرانجام دینے کے لئے وائس چانسلر نے یہ قدم اٹھایا ہے اور اس کی سنڈیکیٹ سے باقاعدہ منظوری لی گئی ہے ۔ اس خبر کے حوالے سے ملک کی ایک اہم یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے جب رائے لی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ وائس چانسلر یا سینڈیکیٹ کو یہ اختیار ہی نہیں کہ وہ ایکٹنگ ڈینز کا بھی نوٹیفکیشن جاری کر سکیں۔ یہ خبر ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے سیکرٹری ڈاکٹر فرخ نوید ، ڈپٹی سیکرٹری عثمان ابراہیم کو موقف کے لئے بھیجی گئی تاہم خبر کی اشاعت تک ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سے کوئی جواب موصول نہ ہوا ۔

شیئر کریں

:مزید خبریں