آج کی تاریخ

سینیٹ میں ہنگامہ: ایوان کے احکامات نظرانداز، یوسف رضا گیلانی برہم

اسلام آباد: سینیٹ کے چیئرمین یوسف رضا گیلانی نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر اعجاز چوہدری کی عدم پیشی پر شدید مایوسی کا اظہار کیا۔ انہوں نے مسلسل جاری کیے گئے پروڈکشن آرڈرز کے باوجود چوہدری کو ایوان میں نہ لانے پر ناراضگی کا اظہار کیا۔
ایوان کی کارروائی کی صدارت کرتے ہوئے، چیئرمین گیلانی نے کہا کہ پارلیمانی اختیارات کی مسلسل خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ان کے اس بیان پر ایوان میں موجود ارکان نے ڈیسک بجا کر تائید کی۔
صرف ایک سینیٹر کی پیشی، دوسرا غائب
گیلانی نے ایک روز قبل پی ٹی آئی کے دو سینیٹرز— اعجاز چوہدری اور عون عباس بپی— کے پروڈکشن آرڈرز جاری کیے تھے، لیکن حکام نے صرف عون عباس بپی کو ایوان میں پیش کیا، جبکہ اعجاز چوہدری کو لانے میں ناکام رہے۔
بپی کا سنسنی خیز انکشاف
ایوان سے خطاب کرتے ہوئے، سینیٹر عون عباس بپی نے چیئرمین کا شکریہ ادا کیا اور اپنی گرفتاری کے حوالے سے چشم کشا تفصیلات بیان کیں۔ انہوں نے بتایا کہ صبح 8 بجے کے قریب 20 افراد نے ان کے گھر پر دھاوا بولا، فیکٹری کی تلاشی لی اور انہیں ہراساں کیا۔
بپی نے مزید کہا کہ کچھ لوگ ان کے بیڈروم میں زبردستی داخل ہوئے، ان پر تشدد کیا اور ان کا موبائل فون چھیننے کی کوشش کی۔ بعد ازاں انہیں جج کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں ان پر پانچ ہرن شکار کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔
احتجاج اور سینیٹ سے واپسی کا اعلان
بپی نے سینیٹ میں اپنی موجودگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں آ کر خوشی کے بجائے افسوس ہو رہا ہے، کیونکہ اعجاز چوہدری کو اب تک نہیں لایا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کی پیشی محض اس لیے کروائی گئی تاکہ گیلانی اجلاس کی صدارت چھوڑنے کا فیصلہ نہ کر لیں۔
بپی نے اپنے پروڈکشن آرڈر کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ دوبارہ جیل واپس جانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جب تک اعجاز چوہدری کو بھی سینیٹ میں نہیں لایا جاتا، وہ اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے اور رہائی کے لیے صرف قانونی راستہ اختیار کریں گے۔
بپی کے احتجاج کے بعد جب وہ ایوان سے جانے لگے تو چیئرمین گیلانی نے انہیں روک لیا اور معاملے پر سخت حکم جاری کیا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں