چولستان وٹرنری یونیورسٹی، بیرونی سپانسر شپ سے منعقد ایکسپو کیلئے طلبہ سے لاکھوں کی وصولی-چولستان وٹرنری یونیورسٹی، بیرونی سپانسر شپ سے منعقد ایکسپو کیلئے طلبہ سے لاکھوں کی وصولی-لودھراں: پیرافورس، ٹریفک جرمانے، تاجروں کا صبرختم، ہڑتال کا اعلان-لودھراں: پیرافورس، ٹریفک جرمانے، تاجروں کا صبرختم، ہڑتال کا اعلان-ونڈر بوائے کی پھر گونج، اپوزیشن لیڈرز تعیناتی کے بعد ن لیگ سے نیا وزیر اعظم آ سکتا ہے، محمد علی درانی-ونڈر بوائے کی پھر گونج، اپوزیشن لیڈرز تعیناتی کے بعد ن لیگ سے نیا وزیر اعظم آ سکتا ہے، محمد علی درانی-مظفرگڑھ: ستھرا پنجاب پروگرام میں "مٹی پاؤ" پالیسی، 600 ٹن ہدف کیلئے زمینوں کی کھدائی-مظفرگڑھ: ستھرا پنجاب پروگرام میں "مٹی پاؤ" پالیسی، 600 ٹن ہدف کیلئے زمینوں کی کھدائی-کوہِ سلیمان کے درےسمگلرز کے محفوظ راستے، گدھوں پر نان کسٹم مال منتقل، ریاستی رٹ کمزور-کوہِ سلیمان کے درےسمگلرز کے محفوظ راستے، گدھوں پر نان کسٹم مال منتقل، ریاستی رٹ کمزور

تازہ ترین

ملتان ؛عدالتی حکم عدولی،پولیس خدمت سنٹر میں غیر قانونی اشتہاری بورڈ نصب ،پی ایچ اے بے بس

پی ایچ اے کی جانب سے سی پی اوکودی گئی درخواستوں کاعکس

ملتان ( عامر حسینی سے) ملتان پولیس نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے شمس آباد پولیس خدمت سنٹر کی سرکاری عمارت کی حدود میں غیر قانونی ہورڈنگ بورڈ نصب کر دیا ہے۔ اس حوالے سے پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی (پی ایچ اے) ملتان نے سٹی پولیس آفیسر ملتان صادق ڈوگر کے نام دو مراسلے جاری کئےجو نظرانداز کر دیئے گئے۔ ان خطوط میں غیر قانونی ہورڈنگز ہٹانے کی درخواست کی گئی تھی مگر پولیس نے تاحال کوئی کارروائی نہیں کی نہ ہی ان خطوط کا جواب دیا گیا۔ پی ایچ اے کی بار بار درخواستیں بھی کوئی کارروائی نہ کرا سکیں۔ ڈائریکٹر مارکیٹنگ اینڈ ایڈورٹائزمنٹ پی ایچ اے حافظ محمد اسامہ کی جانب سے پہلا مراسلہ اکتوبر 2024 میں اور دوسرا مراسلہ جنوری 2025 میں جاری کیا گیا جن میں واضح کیا گیا کہ سرکاری عمارت میں لگے یہ ہورڈنگز بورڈ سپریم کورٹ کے احکامات اور 2018 کے نوٹیفکیشن نمبر 27 کی صریحا ًخلاف ورزی ہیں۔ تاہم یہ غیر قانونی ہورڈنگز برقرار رکھے گئے ہیں۔ اس پر پی ایچ اے سے موقف لیا گیا کہ وہ ازخود کارروائی کیوں نہیں کرتے جس پر حافظ محمد اسامہ سے رابطہ کر کے پوچھا گیا تو حافظ اسامہ کا جواب تھا کہ ہم پولیس سے لڑ نہیں سکتے، بے بس اور کمزور ہیں مگر ان سے درخواست ضرور کر سکتے ہیں کہ وہ غیر قانونی ہورڈنگز ہٹا دیں اور وہ کر رہے ہیں۔ سی پی او ملتان آفس نے معاملے پر خاموشی اختیار کر لی۔پولیس کا مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کسی بھی تبصرے سے گریز کیا۔یہ واقعہ ملتان میں قوانین کے نفاذ پر سوالیہ نشان کھڑا کر رہا ہے۔ جہاں سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود پولیس کیسے از خود غیر قانونی ہورڈنگز نصب کر رہی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں