جامعہ زکریا میں سیاسی مداخلت کا خاتمہ،وائس جانسلر ڈٹ گئے،وارننگ لیٹر جاری

ملتان ( ایڈیٹررپورٹنگ)پاکستان کی تعلیمی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے حیران کن اخلاقی، جرأت بہادری اور اپنی ملازمت کی پروا نہ کرتے ہوئے علی الاعلان اپنی رٹ قائم کرتے ہوئے ایک وارننگ لیٹر جاری کیا ہے جس کے مطابق تمام یونیورسٹی ملازمین کو بی زیڈ یو ایمپلائز کنڈکٹ رولز 1987 کے سیکشن9 اور سیکشن 17 کے علاوہ پیڈ اایکٹ 2006 کے سیکشن 2(N)(i)(ii)(v) کے تحت ضابطہ اخلاق کی پابندی کا سرکلر جاری کرتے ہوئے یونیورسٹی میں سیاسی اور ممبران اسمبلی کی مداخلت کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ہمیشہ کیلئے ختم کر دیا۔ 27 فروری 2023 بروز جمعرات وائس چانسلر ڈاکٹر زبیر اقبال غوری کی جانب سے جاری ہونے والے اس خط میں وارننگ دی گئی ہے کہ تقرریوں، تبادلوں ، سزائوں یا دیگر ملازمتی معاملات میں کسی بھی قسم کی سیاسی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ 58/ADMN/1582 مورخہ 27فروری 2025 تمام لیڈیز فیکلٹی ڈین تمام ٹیچنگ ڈیپارٹمنٹ کے چیئر مین و چیئر پرسن اور سینئر ٹیچرز ، تمام الحاق شدہ کالجز کے پرنسپلز، سب کیمپسز کے ڈائریکٹرز ، تمام انتظامیہ عہدیداران کو اس خط میں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے تمام ما تحت ملازمین کو اس بارے آگاہ کردیں۔یہ ایک سرکلر ہے جو بہاالدین زکریا یونیورسٹی، ملتان کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔ اس کا عنوان ضابطہ اخلاق کی پابندی ہے۔ اس سرکلر میں درج ذیل نکات شامل ہیں:
’’موضوع: ضابطہ اخلاق کی پابندی‘‘
یہ سرکلر بی زیڈ یو ایمپلائیز کنڈکٹ رولز 1987 کے سیکشن 9 اور 17 اور پی ای ای ڈی اے ایکٹ 2006 کے سیکشن 2 (ن) (i) (ii) اور (v) کے تحت جاری کیا گیا ہے
سیکشن 9: اسمبلی کے اراکین سے رابطہ، کوئی بھی یونیورسٹی ملازم قومی یا صوبائی اسمبلی کے کسی رکن یا کسی غیر سرکاری فرد سے کسی بھی معاملے میں براہ راست یا بالواسطہ مداخلت کے لیے رابطہ نہیں کرے گا۔
سیکشن 17: سیاسی یا دیگر اثر و رسوخ کا استعمال، کوئی بھی یونیورسٹی ملازم اپنی ملازمت سے متعلق کسی دعوے میں یونیورسٹی یا کسی ملازم پر سیاسی یا بیرونی اثر و رسوخ ڈالنے کی کوشش نہیں کرے گا۔
سیکشن 2 (ن): غیر اخلاقی رویے کی تعریف، (i) ایسا رویہ جو سروس ڈسپلن یا اچھی نظم و ضبط کے خلاف ہو۔ (ii) ایسا رویہ جو موجودہ کنڈکٹ رولز کے خلاف ہو۔ (v) کسی گورنر، وزیر اعلیٰ، وزیر یا دیگر اتھارٹی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرنا، خاص طور پر تقرری، ترقی، تبادلے، سزا، ریٹائرمنٹ یا دیگر سروس کنڈیشنز کے متعلق
ہدایات ایسے رجحانات کو”بدنظمی” (Misconduct) سمجھا جائے گا، اور پی ای ای ڈی اے ایکٹ 2006 کے مطابق متعلقہ ملازم کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔ یونیورسٹی کے اعلیٰ افسران نے ہدایت کی ہے کہ تمام ملازمین ضابطہ اخلاق کی ان ہدایات پر عمل کریں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں